ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ النحل (16) — آیت 53

وَ مَا بِکُمۡ مِّنۡ نِّعۡمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ثُمَّ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فَاِلَیۡہِ تَجۡـَٔرُوۡنَ ﴿ۚ۵۳﴾
اور تمھارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے، پھر جب تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف تم گڑگڑاتے ہو۔ En
اور جو نعمتیں تم کو میسر ہیں سب خدا کی طرف سے ہیں۔ پھر جب تم کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے چلاتے ہو
En
تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اسی کی دی ہوئی ہیں، اب بھی جب تمہیں کوئی مصیبت پیش آجائے تو اسی کی طرف نالہ وفریاد کرتے ہو En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

53۔ 1 جب سب نعمتوں کا دینے والا صرف ایک اللہ ہے تو پھر عبادت کسی اور کی کیوں؟ 53۔ 2 اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ایک ہونے کا عقیدہ قلب وجدان کی گہرائیوں میں راسخ ہے جو اس وقت ابھر کر سامنے آجاتا ہے جب ہر طرف سے مایوسی کے بادل گہرے ہوجاتے ہیں۔