ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الرعد (13) — آیت 41

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا نَاۡتِی الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُہَا مِنۡ اَطۡرَافِہَا ؕ وَ اللّٰہُ یَحۡکُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُکۡمِہٖ ؕ وَ ہُوَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۴۱﴾
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کی طرف آتے ہیں، اسے اس کے کناروں سے کم کرتے آتے ہیں اور اللہ فیصلہ فرماتا ہے، اس کے فیصلے پر کوئی نظر ثانی کرنے والا نہیں اور وہ جلد حساب لینے والا ہے ۔ En
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ اور خدا (جیسا چاہتا ہے) حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کا رد کرنے والا نہیں۔ اور وہ جلد حساب لینے والا ہے
En
کیا وه نہیں دیکھتے؟ کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں، اللہ حکم کرتا ہے کوئی اس کے احکام پیچھے ڈالنے واﻻ نہیں، وه جلد حساب لینے واﻻ ہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

41۔ 1 یعنی عرب کی سرزمین مشرکین پر بتدریج تنگ ہو رہی ہے اور اسلام کو غلبہ عروج حاصل ہو رہا ہے۔ 41۔ 2 یعنی کوئی اللہ کے حکموں کو رد نہیں کرسکتا۔