ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ النصر (110) — آیت 2

وَ رَاَیۡتَ النَّاسَ یَدۡخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اَفۡوَاجًا ۙ﴿۲﴾
اور تو لوگوں کو دیکھے کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔ En
اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ غول کے غول خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں
En
اور تو لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق آتا دیکھ لے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

2۔ 1 اللہ کی مدد کا مطلب، اسلام اور مسلمانوں کا کفر اور کافروں پر غلبہ ہے، اور فتح سے مراد فتح مکہ ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مولد و مسکن تھا، لیکن کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرام کو وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ چناچہ جب 8 ہجری میں یہ مکہ فتح ہوگیا تو لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے شروع ہوگئے، جب کہ اس سے قبل ایک ایک دو دو فرد مسلمان ہوتے تھے فتح مکہ سو لوگوں پر یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے پیغمبر ہیں اور دین اسلام دین حق ہے، جس کے بغیر اب نجات اخروی ممکن نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب ایسا ہو تو۔