ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ هود (11) — آیت 85

وَ یٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِکۡیَالَ وَ الۡمِیۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ وَ لَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡیَآءَہُمۡ وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ ﴿۸۵﴾
اور اے میری قوم! ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد کر تے ہوئے دنگا نہ مچاؤ۔ En
اور قوم! ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں خرابی کرتے نہ پھرو
En
اے میری قوم! ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کرو لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد اور خرابی نہ مچاؤ En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

85۔ 1 انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت دو اہم بنیادوں پر مشتمل ہوتی ہے 1۔ حقوق اللہ کی ادائیگی 2، حقوق العباد کی ادائیگی۔ اول الذکر کی طرف لفظ (اَعْبُدُو اللّٰہَ) اور آخر الذکر کی جانب (وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ) 11۔ ہود:84) سے اشارہ کیا گیا اور اب تاکید کے طور پر انھیں انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپ تول کا حکم دیا جا رہا ہے اور لوگوں کو چیزیں کم کر کے دینے سے منع کیا جا رہا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ بھی ایک بہت بڑا جرم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک پوری سورت میں اس جرم کی شناعت و قباحت اور اس کی اخروی سزا بیان فرمائی ہے۔ (وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ ۝ ۙ الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَي النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَ ۝ڮ وَاِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّزَنُوْهُمْ يُخْسِرُوْنَ ۝ۭ) 83۔ الطففین:1 تا 3) مطففین کے لیے ہلاکت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب لوگوں سے ناپ کرلیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور جب دوسروں کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں، تو کم کر کے دیتے ہیں 85۔ 2 اللہ کی نافرمانی سے، بالخصوص جن کا تعلق حقوق العباد سے ہو، جیسے یہاں ناپ تول کی کمی بیشی میں ہے، زمین میں یقیناً فساد اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے جس سے انھیں منع کیا گیا۔