(آیت 3){ وَقَالَالْاِنْسَانُمَالَهَا:} ہر انسان ہی اچانک پیش آنے والے واقعات سے دہشت زدہ ہو کر یہ الفاظ کہے گا۔ خصوصاً کافر جو قیامت کا منکر تھا، اس کے لیے تو یہ بات حد سے بڑھ کر تعجب انگیز ہوگی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 یعنی دہشت زدہ ہو کر کہے گا کہ اسے کیا ہوگیا ہے یہ کیوں اس طرح ہل رہی ہے اور اپنے خزانے اگل رہی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ اور انسان [3] کہے گا کہ اسے کیا ہو رہا ہے؟
[3] اس آیت میں اگر انسان سے مراد عام انسان لیا جائے تو بھی درست ہے۔ ہر انسان جب نیند سے بیدار ہوتا یا کسی اتفاقی حادثہ سے بے ہوش ہو جانے کے بعد ہوش میں آتا ہے اور اجنبی صورت حال دیکھتا ہے تو سب سے پہلا سوال یہی کرتا ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور میں اس وقت کہاں ہوں؟ پھر جب ذرا ہوش ٹھکانے آجائیں گے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ میدان محشر کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اور اگر انسان سے مراد ایسا انسان لیا جائے جو آخرت کا منکر تھا۔ وہ تو دیوانگی اور حیرانی کے عالم میں پوچھے گا کہ اس زمین کو کیا ہو گیا ہے پھر تھوڑی ہی دیر کے بعد اس کی یہ حیرانی حسرت و یاس میں تبدیل ہونے لگے گی اور اسے یقین ہو جائے گا کہ جن باتوں کا وہ ساری زندگی منکر رہا ہے۔ آج وہ واقع ہونے لگی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔