(آیت 5) ➊ {سَلٰمٌهِيَحَتّٰىمَطْلَعِالْفَجْرِ: ”سَلٰمٌ“} خبر مقدم اور {”هِيَ“} مبتدا مؤخر ہے، یعنی وہ رات طلوع فجر تک سراسر سلامتی ہے۔ مغرب سے فجر تک رات بھر اس میں اہلِ ایمان شیطان کے شر اور ہر قسم کے فتنے سے سلامت رہتے ہیں اور اپنے دلوں میں عجیب اطمینان و سکون اور سلامتی محسوس کرتے ہیں۔ ➋ لیلۃ القدر، اس کی تلاش اور اعتکاف کے مسائل و فضائل کے لیے کتب احادیث کا مطالعہ فرمائیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 یعنی اس میں شر نہیں۔ یا اس معنی میں سلامتی والی ہے کہ مومن اس رات کو شیطان کے شر سے محفوظ رہتے ہیں یا فرشتے اہل ایمان کو سلام عرض کرتے ہیں، یا فرشتے ہی آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں۔ شب قدر کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص یہ دعا بتلائی ہے، اللّٰھُمَّاِنَّکَعَفُوتُحِبُّالعَفْوَفَاعْفُ۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ (وہ رات) سراسر سلامتی [4] ہے طلوع فجر تک۔
[4] اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جو فرشتے نازل ہوتے ہیں وہ ساری رات اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لیے امن و سلامتی کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس میں جتنے بھی فیصلے کیے جاتے ہیں وہ سب خیر و سلامتی پر ہی مبنی ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر کسی فرد کی ہلاکت یا کسی قوم کی تباہی کے متعلق فیصلہ کیا جائے تو وہ بھی اہل زمین کی خیر و سلامتی پر مبنی ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔