ترجمہ و تفسیر — سورۃ العلق (96) — آیت 4

الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِ ۙ﴿۴﴾
وہ جس نے قلم کے ساتھ سکھایا۔ En
جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا
En
جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 3 میں تا آیت 5 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 قلم کا معنی ہے قطع کرنا، تراشنا، قلم بھی پہلے زمانے میں تراش کر ہی بنائے جاتے تھے۔ اس لیے آلہ کتابت کو قلم سے تعبیر کیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ جس نے قلم کے ذریعہ [5] علم سکھایا
[5] انسان کی بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ وہ صاحب علم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ مہربانی فرمائی کہ اسے قلم کے استعمال کا طریقہ سکھایا۔ جس سے علم کی وسیع پیمانے پر اشاعت ہو سکتی ہے اور لکھی ہوئی چیز کسی عالم کی موت کے بعد بھی برقرار رہتی ہے۔ اور اگلی نسلوں میں منتقل ہوتی چلی جاتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ انسان کو علم اور کتابت کے فن کا طریقہ الہام نہ کرتا تو انسان کی علمی قابلیتیں سمٹ کر انتہائی محدود رہ جاتیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا عام دستور ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ جو علم انبیاء کو بذریعہ وحی عطا فرماتا ہے وہ انسانی علوم سے بلند تر اور ہر قسم کی غلطیوں سے پاک ہوتا ہے۔ یہ استثنائی صورت ہے اور بالخصوص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے قلم کے ذریعہ علم نہیں سکھایا جس میں کفار کے کئی اعتراضات کے جواب اور کئی دیگر مصلحتیں تھیں جن کا قرآن نے جا بجا ذکر کر دیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔