ترجمہ و تفسیر — سورۃ العلق (96) — آیت 3

اِقۡرَاۡ وَ رَبُّکَ الۡاَکۡرَمُ ۙ﴿۳﴾
پڑھ اور تیرا رب ہی سب سے زیادہ کرم والا ہے۔ En
پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے
En
تو پڑھتا ره تیرا رب بڑے کرم واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4،3) ➊ {اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ …:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہشت زدہ ہو جانے کی وجہ سے دوبارہ فرمایا، پڑھ! تجھے وہ پڑھا رہا ہے جس سے زیادہ کرم والا کوئی نہیں۔
➋ یہ اس کے کرم کی انتہا ہے کہ اتنی حقیر چیز سے پیدا ہونے والے انسان کو علم جیسی بلند ترین صفت سے نواز دیا، بلکہ قلم کے ساتھ علم سکھایا، جس سے علم محفوظ ہوتا اور ایک آدمی سے دوسرے آدمی اور ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتا ہے، یہ نہ ہوتا تو علم محدود اور پھر معدوم ہو جاتا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو قاری ہی نہیں اللہ نے فرمایا، اللہ بہت کرم والا ہے پڑھ، یعنی انسانوں کی کوتاہیوں سے درگزر کرنا اس کا وصف خاص ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ پڑھیے اور آپ کا پروردگار بڑا کریم [4] ہے
[4] اللہ اکرم کس لحاظ سے ہے؟
جس نے انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی زندگی کی بقا کے وہ تمام اسباب مہیا کر دیئے جو اس غرض کی تکمیل کے لیے ضروری تھے۔ پھر انسان کو ان اسباب سے کام لینے اور انہیں استعمال کرنے کا طریقہ بھی اس کی فطرت میں رکھ دیا۔ اسی پروردگار کا نام لے کر آپ پڑھیے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِقْ٘رَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم قال: {اقرأ وربُّك الأكرمُ}؛ أي: كثير الصِّفات، واسعها، كثير الكرم والإحسان، واسع الجود، الذي من كرمه أن علَّم أنواع العلوم ، و {علَّم بالقلم. علَّم الإنسانَ ما لمْ يعلمْ}: فإنَّه تعالى أخرجه من بطن أمِّه لا يعلم شيئاً، وجعل له السَّمع والبصر والفؤاد، ويسَّر له أسباب العلم؛ فعلَّمه القرآن، وعلَّمه الحكمة، وعلَّمه بالقلم، [الذي به تُحفظ العلوم] وتُضبط الحقوق، وتكون رسلاً للنَّاس تنوب منابَ خطابهم؛ فلله الحمد والمنَّة الذي أنعم على عباده بهذه النِّعم، التي لا يقدرون لها على جزاءٍ ولا شكورٍ، ثمَّ منَّ عليهم بالغنى وسعة الرزق.