(آیت 4،3) ➊ {اِقْرَاْوَرَبُّكَالْاَكْرَمُ …:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہشت زدہ ہو جانے کی وجہ سے دوبارہ فرمایا، پڑھ! تجھے وہ پڑھا رہا ہے جس سے زیادہ کرم والا کوئی نہیں۔ ➋ یہ اس کے کرم کی انتہا ہے کہ اتنی حقیر چیز سے پیدا ہونے والے انسان کو علم جیسی بلند ترین صفت سے نواز دیا، بلکہ قلم کے ساتھ علم سکھایا، جس سے علم محفوظ ہوتا اور ایک آدمی سے دوسرے آدمی اور ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتا ہے، یہ نہ ہوتا تو علم محدود اور پھر معدوم ہو جاتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو قاری ہی نہیں اللہ نے فرمایا، اللہ بہت کرم والا ہے پڑھ، یعنی انسانوں کی کوتاہیوں سے درگزر کرنا اس کا وصف خاص ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ پڑھیے اور آپ کا پروردگار بڑا کریم [4] ہے
[4] اللہ اکرم کس لحاظ سے ہے؟
جس نے انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی زندگی کی بقا کے وہ تمام اسباب مہیا کر دیئے جو اس غرض کی تکمیل کے لیے ضروری تھے۔ پھر انسان کو ان اسباب سے کام لینے اور انہیں استعمال کرنے کا طریقہ بھی اس کی فطرت میں رکھ دیا۔ اسی پروردگار کا نام لے کر آپ پڑھیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔