ترجمہ و تفسیر — سورۃ التين (95) — آیت 4

لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ ۫﴿۴﴾
بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا کیا ہے۔ En
کہ ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے
En
یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4){ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ …:} قسم اور جواب قسم میں مناسبت یہ ہے کہ سر زمین شام میں پیدا ہونے والے جلیل القدر پیغمبروں اور طور سینا اور شہر مکہ کی شہرت کا باعث بننے والے پیغمبروں کی زندگی اس بات کی شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین بناوٹ میں پیدا کیا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 یہ جواب قسم ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس طرح پیدا کیا کہ اس کا منہ نیچے کو جھکا ہوا ہے صرف انسان کو دراز قد، سیدھا بنایا ہے جو اپنے ہاتھوں سے کھاتا پیتا ہے، پھر اس کے اعضا کو نہایت تناسب کے ساتھ بنایا، ان میں جانوروں کی طرح بےڈھنگا پن نہیں ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ کہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت [5] پر پیدا کیا ہے
[5] انسان کی دوسرے جانداروں پر فضیلت کن باتوں میں؟
اولو العزم انبیاء کے مساکن کی قسم اللہ تعالیٰ نے اس بات پر کھائی ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے بہترین ساخت پر پیدا فرمایا ہے۔ اسے جسم سیدھا اور استوار دیا گیا ہے جو اور کسی مخلوق کو نہیں دیا گیا۔ پھر اسے فکر و فہم، علم و عقل، قیاس و استنباط اور علت و معلول سے نتائج اخذ کرنے کی جو قوتیں اور صلاحیتیں دی گئی ہیں وہ اور کسی مخلوق کو نہیں دی گئیں۔ آدم کو مسجود ملائکہ بنایا گیا۔ زمین اور اس میں موجود اشیاء کو اس کے لیے مسخر کر دیا گیا۔ انبیاء اسی نوع سے مبعوث ہوئے جو اللہ کے ہاں افضل الخلائق ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔