ترجمہ و تفسیر — سورۃ الم نشرح (94) — آیت 5

فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا ۙ﴿۵﴾
پس بے شک ہر مشکل کے ساتھ ایک آسانی ہے۔ En
ہاں ہاں مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے
En
پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6،5) ➊ { فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا …:} اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے لیے بشارت ہے کہ مشکلات کے دن تھوڑے ہیں، ہر مشکل کے بعد بلکہ اس کے ساتھ ہی آسانی شروع ہو جاتی ہے۔ { اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا } کا یہی مطلب ہے۔ دوسری بشارت یہ ہے کہ ایک ایک مشکل کے ساتھ دو دو آسانیاں ہیں۔ ابن کثیر نے ابن ابی حاتم کے حوالے سے ان کی سند کے ساتھ حسن بصری رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے، انھوں نے فرمایا: {كَانُوْا يَقُوْلُوْنَ لاَ يَغْلِبُ عُسْرٌ وَاحِدٌ يُسْرَيْنِ اثْنَيْنِ} وہ (صحابہ) کہا کرتے تھے کہ ایک مشکل دو آسانیوں پر غالب نہیں آسکتی۔ ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ ابن کثیر نے اس کی تفصیل یہ بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دہرا کر یہ بات فرمائی ہے: «‏‏‏‏فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (5) اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» ‏‏‏‏ اور عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ اگر کوئی اسم دوسری دفعہ معرفہ ہو کر آئے تو اس سے مراد پہلا اسم ہی ہوتا ہے اور اگر وہ پہلے نکرہ آئے اور دوبارہ بھی نکرہ ہو کر آئے تو وہ پہلے نکرہ سے الگ ہوتا ہے۔ یہاں دوسری دفعہ { الْعُسْرِ } معرفہ آیا ہے جب کہ { يُسْرًا } دوسری دفعہ بھی نکرہ ہوکر آیا ہے، تو معنی یہ ہوا کہ اسی پہلی مشکل کے ساتھ ایک اور آسانی ہے۔ یعنی ایک مشکل کے ساتھ دو آسانیاں ہیں۔ اس قاعدے کی ایک مثال سورۂ مزمل میں ہے، فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا (15) فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ» ‏‏‏‏ [المزمل: ۱۵، ۱۶] ہم نے تمھاری طرف ایک رسول بھیجا جو تم پر شہادت دینے والا ہے، جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا، تو فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی۔ پہلے {رَسُوْلًا } سے مراد ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، دوسرے سے موسیٰ علیہ السلام اور تیسرا { الرَّسُوْلَ } معرفہ آیا ہے اور اس سے مراد وہی رسول ہے جو اس سے پہلے مذکور ہے اور وہ موسیٰ علیہ السلام ہیں۔
➋ یاد رہے کہ نکرہ کو دوبارہ نکرہ کی صورت میں لانے کا یہ قاعدہ اکثر مفسرین نے بیان کیا ہے، مگر یہ قاعدہ کلیہ نہیں بلکہ مشہور نحوی ابن ہشام نے مغنی اللبیب میں اسے خطا قرار دیا ہے، کیونکہ کئی دفعہ ایسا نہیں ہوتا۔ اس لیے ابن عاشور نے التحریر والتنویر میں اور زمخشری نے کشاف میں حسن بصری اور قتادہ کے اقوال اور بعض مرسل روایات میں آنے والی بات کہ {لَنْ يَغْلِبَ عُسْرٌ يُسْرَيْنِ} (ایک مشکل دو آسانیوں پر ہرگز غالب نہیں آئے گی) کے متعلق فرمایا کہ آیت سے یہ بات اس کے تکرار کی وجہ سے نکلتی ہے، اس قاعدے کی وجہ سے نہیں، پھر دونوں مفسروں نے اپنے اپنے انداز سے اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ بلا شبہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی [4] ہے
[4] ان دو آیات میں بہ تکرار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر اس وقت آپ مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں تو عنقریب مصائب کے یہ بادل چھٹ جائیں گے اور اتنی ہی آپ کو سہولتیں اور آسانیاں میسر آئیں گی۔ اس آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ تنگی کے بعد آسانی ہے بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بہت جلد یہ صورت حال بدل جانے والی ہے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور مسلمانوں کو تسلی بھی دے دی گئی کہ وہ یہ مشکل وقت حوصلہ اور صبر کے ساتھ برداشت کریں بس تھوڑی ہی دیر بعد کایا پلٹ جانے والی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿ فَاِنَّ مَعَ الْ٘عُسْرِ یُسْرًاۙ۰۰اِنَّ مَعَ الْ٘عُسْرِ یُسْرًا بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ ایک عظیم الشان خوشخبری ہے کہ جب بھی کوئی تنگی اور سختی پائی جائے گی تو اس کے ساتھ ساتھ آسانی بھی ہو گی حتیٰ کہ اگر تنگی گوہ کے بل میں داخل ہو جائے تو آسانی اس کے ساتھ داخل ہو گی اور اسے باہر نکال لائے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا (الطلاق:65؍7) عنقریب اللہ تعالیٰ تنگی کے ساتھ کشائش عطا کرے گا۔ اور جیسا کہ نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تکلیف کے ساتھ کشادگی ہوتی ہے اور تنگی کی معیت میں کشائش ہے۔ (مسند أحمد: 308-307/1)
دونوں آیات کریمہ میں اَلْعُسْرکو معرفہ استعمال کرنا دلالت کرتا ہے کہ وہ واحد ہے اور اَلْیُسْر کو نکرہ استعمال کرنا اس کے تکرار پر دلالت کرتا ہے۔ پس ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب نہیں آئے گی۔ الف لام کے ساتھ معرفہ بنانے میں جو کہ استغراق اور عموم پر دلالت کرتا ہے، دلیل ہے کہ ہر تنگی خواہ وہ اپنی انتہا کو پہنچ جائے، اس کے آخر میں آسانی کا آنا لازم ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {فإنَّ مع العُسْرِ يُسْراً. إنَّ مع العُسْرِ يُسْراً}: بشارةٌ عظيمةٌ أنَّه كلَّما وُجِدَ عسرٌ وصعوبةٌ؛ فإنَّ اليسر يقارنه ويصاحبه، حتى لو دخل العسر جحر ضبٍّ؛ لدخل عليه اليسر فأخرجه؛ كما قال تعالى: {سيجعل اللهُ بعدَ عُسْرٍ يُسْراً}، وكما قال النبيُّ - صلى الله عليه وسلم -: «وإنَّ الفرج مع الكرب، وإنَّ مع العسر يسراً ».

وتعريف العسر في الآيتين يدلُّ على أنَّه واحدٌ، وتنكير اليسرِ يدلُّ على تكراره؛ فلن يغلب عسرٌ يسرين.

وفي تعريفه بالألف واللاَّم الدالِّ - على الاستغراق والعموم يدل على أنَّ كلَّ عسرٍ وإنْ بلغ من الصعوبة ما بلغ؛ فإنَّه في آخره التيسير ملازمٌ له.