ترجمہ و تفسیر — سورۃ الليل (92) — آیت 8

وَ اَمَّا مَنۡۢ بَخِلَ وَ اسۡتَغۡنٰی ۙ﴿۸﴾
اور لیکن وہ جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا۔ En
اور جس نے بخل کیا اور بےپروا بنا رہا
En
لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 8تا10){ وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰى …:} یعنی جس میں شر کے یہ تین جامع اوصاف ہیں کہ وہ بخل کرتا ہے، اخروی انجام اور حلال و حرام کی پروا ہی نہیں کرتا اور سب سے اچھی بات یعنی اللہ کے ایک ہونے اور اس کی نازل کردہ باتوں کو جھٹلاتا ہے، تو ہم بھی اسے اس کی خواہش کے مطابق اس راستے پر چلنے دیتے ہیں جو مشکلات و مصائب کا راستہ ہے اور جہنم کی طرف لے جانے والا ہے، یعنی اس کے لیے نیکی کرنا مشکل اور گناہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

8۔ 1 یعنی اللہ کے راہ میں خرچ نہیں کرے گا اور اللہ کے حکم سے بےپرواہی کرے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

8۔ اور جس نے بخل کیا اور بے پروا بنا رہا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاَمَّا مَنْۢ بَخِلَ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسْتَغْنٰى اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالْحُسْنٰى اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَ٘سَنُ٘یَسِّرُهٗ لِلْ٘عُسْرٰى تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأمَّا مَن بَخِلَ}: بما أمِرَ به، فترك الإنفاق الواجب والمستحبَّ، ولم تسمح نفسه بأداء ما وجب لله، {واستغنى}: عن الله، فترك عبوديَّته جانباً، ولم ير نفسه مفتقرةً غاية الافتقار إلى ربِّها، الذي لا نجاة لها ولا فوز ولا فلاح إلاَّ بأن يكون هو محبوبها ومعبودها الذي تقصده وتتوجَّه إليه، {وكذَّب بالحُسنى}؛ أي: بما أوجب الله على العباد التصديق به من العقائد الحسنة، {فسنيسِّرهُ للعُسْرى}؛ أي: للحالة العسرة والخصال الذَّميمة؛ بأن يكون ميسَّراً للشرِّ أينما كان ومقيَّضاً له أفعالُ المعاصي. نسأل الله العافية.