(آیت 11) {وَمَايُغْنِيْعَنْهُمَالُهٗۤاِذَاتَرَدّٰى:} جب جہنم میں گرے گا تو وہ مال جو اس نے بخل کرکے جمع کیا تھا اس کے کسی کام نہ آئے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11۔ 1 یعنی جب جہنم میں گرے گا تو یہ مال جسے وہ خرچ نہیں کرتا تھا، کچھ کام نہ آئے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ اور جب وہ (جہنم کے) گڑھے میں گرے گا تو اس [4] کا مال اس کے کسی کام نہ آئے گا
[4]﴿تردّي﴾﴿ردي﴾ بمعنی کسی چیز کو بلندی سے زمین پردے مارنا یا زمین سے کسی گڑھے میں پھینک دینا تاکہ وہ ہلاک ہو جائے اور ﴿تردي﴾ کے معنی خود کنوئیں یا گڑھے میں گرنا اور ہلاکت کو پہنچنا ہے اور یہاں گڑھے سے مراد جہنم کا گڑھا ہے۔ یعنی یہ دوسری قسم کا آدمی جہنم کے گڑھے میں گر پڑے گا تو اس وقت اس کا مال جسے وہ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا تھا کسی کام نہ آسکے گا کیونکہ وہ مال تو دنیا میں ہی رہ گیا ہو گا۔ وہاں کیسے کام آسکتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔