(آیت 10){ وَقَدْخَابَمَنْدَسّٰىهَا: ”دَسَّا“”دَسَّيَدُسُّدَسًّا“} (ن) سے مبالغے کے لیے باب تفعیل ہے، معنی ہے مٹی میں دبا دینا، یہ اصل میں {”دَسَّسَ“} تھا، دوسرے سین کو الف کر دیا، جیسے {”تَقَضَّضَالْبَازِيْ“} (باز شکار پر ٹوٹ پڑا) کو {”تَقَضَّيالْبَازِيْ“} کہہ دیتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «اَمْيَدُسُّهٗفِيالتُّرَابِ» [النحل:۵۹]”یا اسے مٹی میں دبا دے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10۔ 1 یعنی جس نے اسے گمراہ کرلیا وہ خسارے میں رہا جس کے معنی ہیں ایک چیز کو دوسری چیز میں چھپا دینا، جس نے اپنے نفس کا چھپا دیا اور اسے بےکار چھوڑ دیا اسے اللہ کی اطاعت اور عمل صالح کے ساتھ مشہور نہیں کیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
10۔ اور وہ نامراد ہو گا جس نے اسے [9] خاک آلود رکھا
[9] آیت نمبر 9 اور نمبر 10 جواب قسم ہے۔ یعنی ابتدا سورۃ سے آیت نمبر 8 تک جتنی باہم متضاد اشیاء کی قسمیں کھائی گئی ہیں وہ اس حقیقت پر کھائی گئی ہیں کہ جس نے اپنے نفس کو کفر و شرک سے، فاسد عقائد سے اور اخلاق رذیلہ سے پاک کر لیا۔ وہ کامیاب ہو گیا اور جس شخص نے اپنے ضمیر کی آواز کو جو اسے خیر و شر پر متنبہ کرتی رہتی ہے، خاک میں دبا دیا وہ نامراد ہو گیا۔ یعنی جس طرح سورج اور چاند ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ دن اور رات مختلف اور متضاد ہیں۔ زمین اور آسمان ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ فجور اور تقویٰ یا خیر اور شر ایک دوسرے کی ضد ہے۔ اسی طرح خیر و شر کی بنیاد پر اٹھنے والے اعمال کے نتائج بھی یقیناً ایک دوسرے سے متضاد اور مختلف ہونے چاہییں۔ وہ ایک جیسے کبھی نہیں ہو سکتے۔ تقویٰ کی بنیاد پر کیے ہوئے اعمال کا نتیجہ اخروی فلاح و کامیابی ہے جبکہ فجور کی بنیاد پر کیے ہوئے اعمال کا نتیجہ اخروی ناکامی اور نامرادی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔