تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔“
پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔
یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ’ میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا ‘ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم]
«بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» ۱؎ [51-الذریات:48-47]، یعنی ’ آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں ‘۔
اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم ‘۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔
جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ’ نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم ‘ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔
جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» ۱؎ [30-الروم:30]، ’ اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں ‘۔
حدیث میں ہے { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے }۔ [صحیح بخاری:1358]
پھر فرماتا ہے کہ ’ اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی ‘۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔“
ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟
میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:7،8] یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650]
جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» ۱؎ [87-الاعلیٰ:14-15] ’ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا ‘۔
اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ’ جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا ‘۔
عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا }۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔
طبرانی کی حدیث میں ہے کہ { «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» } ۱؎ [طبرانی کبیر:11191:ضعیف]
ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ ۱؎ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف]
مسند احمد کی حدیث میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» } یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:209/6:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أقسم تعالى بهذه الآيات العظيمة على النفس المفلحة وغيرها من النفوس الفاجرة، فقال: {والشمس وضُحاها}؛ أي: نورها ونفعها الصادر منها، {والقمر إذا تلاها}؛ أي: تبعها في المنازل والنور، {والنَّهار إذا جلاَّها}؛ أي: جلَّى ما على وجه الأرض وأوضحه، {والليل إذا يغشاها}؛ أي: يغشى وجه الأرض، فيكون ما عليها مظلماً؛ فتعاقُبُ الظُّلمة والضياء والشمس والقمر على هذا العالم بانتظام وإتقانٍ وقيامٍ لمصالح العباد أكبر دليل على أن الله بكلِّ شيءٍ عليمٌ وعلى كلِّ شيءٍ قديرٌ، وأنَّه المعبود وحده، الذي كلُّ معبودٍ سواه باطل ، {والسَّماء وما بناها}: يحتمل أن {ما} موصولة، فيكون الإقسام بالسماء وبانيها، وهو الله تعالى ، ويحتمل أنها مصدريَّة، فيكون الإقسام بالسماء وبنيانها الذي هو غاية ما يقدَّر من الإحكام والإتقان والإحسان. ونحو هذا قوله: {والأرضِ وما طحاها}؛ أي: مدَّها ووسَّعها، فتمكَّن الخلق حينئذٍ من الانتفاع بها بجميع أوجه الانتفاع.