ترجمہ و تفسیر — سورۃ البلد (90) — آیت 19

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِنَا ہُمۡ اَصۡحٰبُ الۡمَشۡـَٔمَۃِ ﴿ؕ۱۹﴾
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا وہی بائیں ہاتھ والے ہیں۔ En
اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو نہ مانا وہ بدبخت ہیں
En
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا یہ کم بختی والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 18 میں تا آیت 20 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ اور جنہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا وہی بد بخت ہیں
[13] یعنی جن ایمان داروں میں مندرجہ بالا صفات پائی جائیں تو ایسے ہی لوگ وہ خوش نصیب ہیں جنہیں عرش عظیم کے دائیں طرف جگہ ملے گی۔ اور اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمْ اَصْحٰؔبُ الْمَشْـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والذين كفروا بآياتنا}: بأن نبذوا هذه الأمور وراء ظُهورهم فلم يصدِّقوا بالله ولا آمنوا به ولا عملوا صالحاً ولا رحموا عباد الله. أولئك {أصحاب المشأمة. عليهم نارٌ مؤصدةٌ}؛ أي: مغلقةٌ، في عَمَدٍ ممدَّدةٍ، قد مدَّت من ورائها؛ لئلاَّ تنفتح أبوابها، حتى يكونوا في ضيقٍ وهمٍّ وشدَّةٍ.