ترجمہ و تفسیر — سورۃ التوبة (9) — آیت 96

یَحۡلِفُوۡنَ لَکُمۡ لِتَرۡضَوۡا عَنۡہُمۡ ۚ فَاِنۡ تَرۡضَوۡا عَنۡہُمۡ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَرۡضٰی عَنِ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿۹۶﴾
تمھارے لیے قسم کھائیں گے، تاکہ تم ان سے راضی ہو جائو، پس اگر تم ان سے راضی ہو جائو تو بے شک اللہ نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوتا۔ En
یہ تمہارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہو جاؤ لیکن اگر تم اُن سے خوش ہو جاؤ گے تو خدا تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا
En
یہ اس لیے قسمیں کھائیں گے کہ تم ان سے راضی ہوجاؤ۔ سو اگر تم ان سے راضی بھی ہوجاؤ تو اللہ تعالیٰ تو ایسے فاسق لوگوں سے راضی نہیں ہوتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 96) {يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ …:} یعنی ان کے قسمیں کھانے اور حیلے بہانے کرنے کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ تم ان سے درگزر کرو اور چشم پوشی سے کام لو اور پھر یہ چاہتے ہیں کہ ان سے راضی بھی ہو جاؤ، اگر تم ان کی باتوں سے متاثر ہو کر راضی ہو بھی جاؤ تو اللہ تعالیٰ ان کے فسق کی وجہ سے ان سے کبھی راضی نہیں ہو گا۔ { فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَرْضٰي عَنْهُمْ } کے بجائے «{ لَا يَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ کہنے میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بیان ہوا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے بھی ان کے فسق کی وجہ سے کسی صورت ان سے راضی ہونا جائز نہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: جس شخص کے حالات سے معلوم ہوتا ہو کہ وہ منافق ہے، اس کی طرف سے تغافل تو جائز ہے مگر اس سے دوستی اور محبت روا نہیں۔ (موضح)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

96۔ 1 ان تین آیات میں ان منافقین کا ذکر ہے جو تبوک کے سفر میں مسلمانوں کے ساتھ نہیں گئے تھے نبی اور مسلمانوں کو بخریت واپسی پر اپنے عذر پیش کرکے ان کی نظروں میں وفادار بننا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جب ان کے پاس آؤ گے تو یہ عذر پیش کریں گے، تم ان سے کہہ دو، کہ ہمارے سامنے عذر پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اصل حالات سے ہمیں باخبر کردیا ہے۔ اب تمہارے جھوٹے عذروں کا ہم اعتبار کس طرح کرسکتے ہیں؟ البتہ ان عذروں کی حقیقت مستقبل قریب میں مذید واضح ہوجائے گی، تمہارا عمل، جسے اللہ تعالیٰ بھی دیکھ رہا ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر بھی اس پر ہے، تمہارے عذروں کی حقیقت کو خود بےنقاب کر دے گا۔ تیسری آیت میں فرمایا، یہ تمہیں راضی کرنے کے لئے قسمیں کھائیں گے۔ لیکن ان نادانوں کو یہ پتہ نہیں کہ اگر تم ان سے راضی ہو بھی جاؤ تو انہوں نے جس فسق یعنی اطاعت الٰہی سے گریز و فرار کا راستہ اختیار کیا ہے اس کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ ان سے راضی کیونکر ہوسکتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

96۔ وہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ۔ اگر تم راضی ہو جاؤ تو بھی اللہ ایسے فاسق لوگوں سے راضی نہ ہو گا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

غور کیجیے اللہ تعالیٰ نے کیسے فرمایا ہے: ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْ٘فٰسِقِیْنَ بے شک اللہ فاسق لوگوں سے راضی نہیں ہوتا اور یہ نہیں فرمایا: ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنْهُمْ ان سے راضی نہیں ہوتا تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے اگر یہ یا کوئی اور جب بھی توبہ کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر لیتا ہے اور ان پر راضی ہو جاتا ہے لیکن جب تک وہ اپنے فسق پر جمے رہیں اس وقت تک اللہ تعالیٰ ان سے راضی نہیں ہوتا کیونکہ اس کی رضا کا مانع موجود ہے... اور وہ ہے ان کا ان امور سے باہر نکلنا جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں، مثلاً: ایمان اور اطاعت اور ایسے امور میں داخل ہونا جو اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہیں، مثلاً: شرک، نفاق اور نافرمانی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو کچھ ذکر فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کسی عذر کے بغیر جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنے والے منافقین جب اہل ایمان کے سامنے عذر پیش کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ پیچھے رہ جانے میں ان کے پاس عذر تھا تو وہ چاہتے ہیں کہ تم ان کے معاملے کو نظر انداز کر کے ان سے راضی رہو اور ان کا عذر قبول کر لو۔ رہا ان کا عذر قبول کرنا اور ان سے راضی ہونا تو اس میں ان سے کوئی محبت نہیں اور نہ ان کی کوئی تکریم ہے۔
رہا ان سے اعراض کرنا تو اہل ایمان ان سے اس طرح اعراض کیا کرتے تھے جس طرح ناپاک اور ردی امور سے اعراض کیا جاتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں، اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ قَدْ نَبَّاَ نَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ سے اللہ تعالیٰ کے کلام کا اثبات ہوتا ہے اور اسی آیت کریمہ میں اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ میں اللہ تعالیٰ کے افعال اختیاری کا اثبات بھی ہوتا ہے جو اس کی مشیت اور قدرت سے واقع ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ان کے عمل کو اس کے واقع ہونے کے بعد دیکھے گا۔ ان آیات کریمہ میں نیکو کاروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا اور فاسقین کے ساتھ ناراضی اور غصے کا اثبات ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {يحلفون لكم لترضَوْا عنهم}؛ أي: ولهم أيضاً هذا المقصد الآخر منكم غير مجرَّد الإعراض، بل يحبُّون أن ترضَوْا عنهم كأنَّهم ما فعلوا شيئاً. {فإن ترضَوْا عنهم فإنَّ الله لا يرضى عن القوم الفاسقينَ}؛ أي: فلا ينبغي لكم أيُّها المؤمنون أن ترضَوْا عن من لم يرضَ اللهُ عنه، بل عليكم أن توافقوا ربَّكم في رضاه وغضبه. وتأمَّلْ كيف قال: {فإنَّ الله لا يرضى عن القوم الفاسقين}، ولم يقلْ: فإنَّ الله لا يرضى عنهم؛ ليدلَّ ذلك على أن باب التوبة مفتوح، وأنهم مهما تابوا هم أو غيرهم؛ فإنَّ الله يتوب عليهم ويرضى عنهم، وأما ما داموا فاسقين؛ فإنَّ الله لا يرضى عليهم؛ لوجود المانع من رضاه، وهو خروجهم عن ما رضيه الله لهم من الإيمان والطاعة إلى ما يُغْضِبُه من الشرك والنفاق والمعاصي.

وحاصل ما ذكره الله أنَّ المنافقين المتخلِّفين عن الجهاد من غير عذر إذا اعتذروا للمؤمنين وزعموا أن لهم أعذاراً في تخلُّفهم؛ فإنَّ المنافقين يريدون بذلك أن تُعْرِضوا عنهم وتَرْضَوْا وتقبلوا عذرَهم: فأمَّا قَبولُ العذر منهم والرضا عنهم؛ فلا حبًّا ولا كرامةً لهم. وأمَّا الإعراض عنهم؛ فيعرِض المؤمنون عنهم إعراضَهم عن الأمور الرديَّة الرجس.

وفي هذه الآيات إثباتُ الكلام لله تعالى في قوله. {قد نبَّأنا الله من أخباركم}، وإثبات الأفعال الاختياريَّة لله الواقعة بمشيئته وقدرته في هذا وفي قوله: {وسيرى الله عَمَلَكُم ورسولُه}؛ أخبر أنه سيراه بعد وقوعه. وفيها إثبات الرِّضا لله عن المحسنين والغضب والسخط على الفاسقين.