ترجمہ و تفسیر — سورۃ التوبة (9) — آیت 89

اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿٪۸۹﴾
اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ En
خدا نے ان کے لیے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہی گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے
En
انہی کے لئے اللہ نے وه جنتیں تیار کی ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت89){ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ …:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ نے مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کیے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جو زمین و آسمان کے درمیان ہے تو جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو تو اس سے فردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ جنت کا سب سے بہتر اور سب سے بلند حصہ ہے، جس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ [بخاری، الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ: ۲۷۹۰، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

89۔ 1 ان منافقین کے برعکس اہل ایمان کا رویہ یہ ہے کہ وہ اپنی جانوں اور مالوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، اللہ کی راہ میں انہیں اپنی جانوں کی پروا ہے نہ مالوں کی۔ ان کے نزدیک اللہ کا حکم سب پر بالا تر ہے، انہی کے لئے خیرات ہیں، یعنی آخرت کی بھلائیاں اور جنت کی نعمتیں اور بعض کے نزدیک دین و دنیا کے منافع اور یہی لوگ فلاح یاب اور فوز عظیم کے حامل ہونگے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

89۔ اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن میں نہریں بہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

منافق کی آخرت خراب ٭٭
منافقوں کی مذمت اور ان کی اخروی درگت بیان فرما کر اب مومنوں کی مدحت اور ان کی اخروی راحت بیان ہو رہی ہے۔ یہ جہاد کے لئے کمر باندھے رہتے ہیں۔ یہ جان و مال اللہ کی راہ میں فدا کرتے رہتے ہیں۔ انہی کے حصے میں بھلائیاں اور خوبیاں ہیں۔
یہی فلاح پانے والے لوگ ہیں۔ انہی کے لیے جنت الفردوس ہے اور انہی کے لیے بلند درجے ہیں۔ یہی مقصد حاصل کرنے والے یہی کامیابی کو پہنچ جانے والے لوگ ہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰؔلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ تیار کیے ہیں اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ کہ ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہی ہے بڑی کامیابی ہلاکت ہے ایسے شخص کے لیے جو ان امور میں رغبت نہیں رکھتا جن میں اہل جنت رغبت رکھتے ہیں اور وہ اپنے دین اور دنیا و آخرت میں خسارے میں پڑنے والا شخص ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی نظیر ہے ﴿قُ٘لْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖ٘ۤ اِذَا یُتْ٘لٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا (بنی اسرائیل: 17؍107) کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن لوگوں کو اس سے پہلے کتاب کا علم دیا گیا ہے جب ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کی نظیر ہے ﴿فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَؔكَّؔلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ (الانعام: 6؍89) اگر یہ کفار ان باتوں کا انکار کرتے ہیں تو ہم نے ان باتوں پر ایمان لانے کے لیے ایسے لوگوں کو مقرر کر دیا ہے جو اس کا انکار کرنے والے نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أعدَّ الله لهم جناتٍ تجري من تحتها الأنهارُ خالدين فيها ذلك الفوزُ العظيمُ}: فتبًّا لمن لم يرغبْ بما رغبوا فيه وخَسِرَ دينه ودنياه وأخراه، وهذا نظيرُ قوله تعالى: {قل آمِنوا به أو لا تؤمنوا إنَّ الذين أوتوا العلمَ من قبلِهِ إذا يُتلى عليهم يَخِرَّون للأذقانِ سُجَّداً}، وقوله: {فإن يَكْفُرْ بها هؤلاءِ فقد وكلنا بها قوماً ليسوا بها بكافرينَ}.