(آیت89){ اَعَدَّاللّٰهُلَهُمْجَنّٰتٍ …:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ نے مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کیے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جو زمین و آسمان کے درمیان ہے تو جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو تو اس سے فردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ جنت کا سب سے بہتر اور سب سے بلند حصہ ہے، جس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔“[بخاری، الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ: ۲۷۹۰، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
89۔ 1 ان منافقین کے برعکس اہل ایمان کا رویہ یہ ہے کہ وہ اپنی جانوں اور مالوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، اللہ کی راہ میں انہیں اپنی جانوں کی پروا ہے نہ مالوں کی۔ ان کے نزدیک اللہ کا حکم سب پر بالا تر ہے، انہی کے لئے خیرات ہیں، یعنی آخرت کی بھلائیاں اور جنت کی نعمتیں اور بعض کے نزدیک دین و دنیا کے منافع اور یہی لوگ فلاح یاب اور فوز عظیم کے حامل ہونگے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
89۔ اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن میں نہریں بہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
منافق کی آخرت خراب ٭٭
منافقوں کی مذمت اور ان کی اخروی درگت بیان فرما کر اب مومنوں کی مدحت اور ان کی اخروی راحت بیان ہو رہی ہے۔ یہ جہاد کے لئے کمر باندھے رہتے ہیں۔ یہ جان و مال اللہ کی راہ میں فدا کرتے رہتے ہیں۔ انہی کے حصے میں بھلائیاں اور خوبیاں ہیں۔ یہی فلاح پانے والے لوگ ہیں۔ انہی کے لیے جنت الفردوس ہے اور انہی کے لیے بلند درجے ہیں۔ یہی مقصد حاصل کرنے والے یہی کامیابی کو پہنچ جانے والے لوگ ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔