(آیت78){ اَلَمْيَعْلَمُوْۤااَنَّاللّٰهَيَعْلَمُسِرَّهُمْوَنَجْوٰىهُمْ …:} اس آیت میں منافقین کو سخت ڈرایا گیا ہے کہ کیا انھیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل کے راز اور سرگوشیاں سب جانتا ہے اور وہ تو تمام غیبوں کو بہت خوب جاننے والا ہے۔ کیا یہ اس سے بھی اپنی دلی حالت چھپا سکیں گے۔ دیکھیے سورۂ زخرف (۸۰) اور مجادلہ (۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
78۔ 1 اس میں منافقین کے لئے سخت وعید ہے جو اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرتے ہیں اور پھر اس کی پرواہ نہیں کرتے گویا یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مخفی باتوں اور بھیدوں کو نہیں جانتا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے، کیونکہ وہ تو علام الغیوب ہے۔ غیب کی تمام باتوں سے باخبر ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
78۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ ان کے مخفی راز اور سرگوشیوں تک کو جانتا ہے۔ اور یہ بھی کہ اللہ غیب کی سب باتوں کو خوب جانتا ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔