ترجمہ و تفسیر — سورۃ التوبة (9) — آیت 71

وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتُ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ۘ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ یُطِیۡعُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ اُولٰٓئِکَ سَیَرۡحَمُہُمُ اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۷۱﴾
اور مومن مرد اور مومن عورتیں، ان کے بعض بعض کے دوست ہیں، وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ ضرور رحم کرے گا، بے شک اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے
En
مومن مرد وعورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار ومعاون اور) دوست ہیں، وه بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، نمازوں کو پابندی سے بجا ﻻتے ہیں زکوٰة ادا کرتے ہیں، اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ بہت جلد رحم فرمائے گا بیشک اللہ غلبے واﻻ حکمت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت71) {وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ …:} منافق مردوں اور منافق عورتوں کی بد عادات ذکر کرنے کے بعد اب اہل ایمان مردوں اور اہل ایمان عورتوں کے خصال حمیدہ کاذکر ہے کہ وہ سب ایک دوسرے کے اولیاء، یعنی دوست، محبت رکھنے والے اور مدد کرنے والے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص صاحب ایمان نہیں ہو سکتا، حتیٰ کہ وہ اپنے (مسلم) بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔ [بخاری، الإیمان، باب من الإیمان أن یحب لأخیہ: ۱۳، عن أنس رضی اللہ عنہ] نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومنوں کی مثال آپس کی محبت، ایک دوسرے پر رحم اور شفقت میں ایک جسم کی ہے، جس کے اگر ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو بقیہ سارے اعضا بخار اور بے چینی کی صورت میں اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ [مسلم، البر والصلۃ، باب تراحم المؤمنین…: ۲۵۸۶] اور فرمایا: ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے جس کی بعض اینٹیں بعض کو سہارا دیتی ہیں۔ [مسلم، البر والصلۃ، باب تراحم المؤمنین…: ۲۵۸۵] اس کے بعد مومنوں کی مزید صفات جو منافقوں کے بالکل برعکس ہیں، بیان فرمائیں اور ان پر رحم کا وعدہ فرمایا، ساتھ ہی اپنے ہر چیز پر غلبے اور کمال حکمت کا ذکر فرمایا کہ وہ ہر چیز پر غالب ہے مگر اس کا غلبہ اندھا غلبہ نہیں بلکہ کمال حکمت کے ساتھ ملا ہوا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

71۔ منافقین کی صفات مذمومہ کے مقابلے مومنین کی صفات محمودہ کا ذکر ہو رہا ہے پہلی صفت وہ ایک دوسرے کے دوست، معاون و غم خوار ہیں جس طرح حدیث میں ہے (المؤمن للمؤمن کالبنیان، یشد بعضہ بعضا) (صحیح بخاری) مومن مومن کے لیے ایک دیوار کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کی مضبوطی کا ذریعہ ہے دوسری حدیث میں فرمایا: (مثل المؤمنین فی تو ادھم وتراحمھم کمثل الجسد الواحد اذا اشتکی منہ عضو تداعی لہ سائر الجسد بالحمی والسھر) (صحیح مسلم) مومنوں کی مثال، آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے اور رحم کرنے میں ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم تپ کا شکار ہوجاتا ہے اور بیدار رہتا ہے۔ 71۔ 2 یہ ایل ایمان کی دوسری خاص صفت ہے معروف وہ ہے جسے شریعت نے معروف (یعنی نیکی اور بھلائی) اور منکر وہ ہے جسے شریعت نے منکر (یعنی برا) قرار دیا ہے۔ نہ کہ وہ جسے لوگ اچھا یا برا کہیں۔ 71۔ 3 نماز، حقوق اللہ میں نمایاں ترین عبادت ہے اور زکٰو ۃ۔ حقوق العباد کے لحاظ سے، امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لئے ان دونوں کا بطور خاص تذکرہ کر کے فرما دیا گیا کہ وہ ہر معاملے میں اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

71۔ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں جو بھلے کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں، وہ نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے ہیں۔ [86] یہی لوگ ہیں، جن پر اللہ رحم فرمائے گا بلا شبہ اللہ سب پر غالب اور حکمت والا ہے
[86] منافق کے مقابلہ میں مومنوں کی زندگی:۔
اب منافقوں کے مقابلہ میں اس آیت میں سچے مومنوں کے خصائل کا ذکر کیا جا رہا ہے اور بتلایا جا رہا ہے کہ اگرچہ منافق بھی مسلمانوں میں شامل رہتے ہیں اور ان سے ملے جلے رہتے ہیں مگر ان دونوں طبقوں کے اخلاقی مزاج، عادات و خصائل ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ منافق برے کاموں پر خوش ہوتے ہیں اور ان میں مددگار ثابت ہوتے ہیں تو مومن برے کاموں سے خود بھی بچتے ہیں اور دوسروں کو بھی منع کرتے ہیں منافق اچھے کاموں پر خود بھی عمل پیرا نہیں ہوتے اور دوسروں کو بھی ان سے منع کرتے ہیں یا ایسے کاموں میں رکاوٹیں کھڑی کر دیتے ہیں جبکہ مومن خود بھی بھلے کام کرتے، دوسروں کو ان کی تلقین کرتے اور ایسے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کرتے ہیں۔ منافق کی نماز دکھلاوے کی ہوتی ہے جسے وہ ایک بیگار سمجھ کر ادا کرتا ہے، اسی طرح وہ زکوٰۃ بھی جرمانہ اور تاوان سمجھ کر ادا کرتا ہے تاکہ اسے مسلمانوں میں سے ہی سمجھا جا سکے جبکہ مومن یہ دونوں کام اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ان کے اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔ وہ یہ کام دل کی خوشی سے کرتے ہیں تاکہ انہیں اللہ کی رضا حاصل ہو۔ اس لحاظ سے مومن اور منافق اگرچہ ایک ہی امت کے اجزاء ہیں تاہم یہ ایک دوسرے کی عین ضد ہیں اور اسی لحاظ سے منافقوں کے کفر میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔ کیونکہ وہ مومنوں کی عین ضد ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مسلمان ایک دوسرے کے دست و بازو ہیں ٭٭
منافقوں کی بدخصلتیں بیان فرما کر مسلمانوں کی نیک صفتیں بیان فرما رہا ہے کہ یہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، ایک دوسرے کا دست و بازو بنے رہتے ہیں،
صحیح حدیث میں ہے کہ مومن مومن کے لیے مثل دیوار کے ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت پہنچاتا اور مضبوط کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرماتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسری میں ڈال کردکھا بھی دیا، ۱؎ [صحیح بخاری:481]‏‏‏‏
اور صحیح حدیث میں ہے کہ مومن اپنی دوستیوں اور سلوکوں میں مثل ایک جسم کے ہیں کہ ایک حصے کو بھی اگر تکلیف ہو تو تمام جسم بیماری اور بے داری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6011]‏‏‏‏
یہ پاک نفس لوگوں اوروں کی تربیت سے بھی غافل نہیں رہتے، سب کو بھلائیاں سکھاتے ہیں اچھی باتیں بتلاتے ہیں برے کاموں سے بری باتوں سے امکان بھر روکتے ہیں۔ حکم الٰہی بھی یہی ہے، فرماتا ہے تم میں ایک جماعت ضرور ایسی ہونی چاہیئے جو بھلائیوں کا حکم کرے برائیوں سے منع کرے، یہ نمازی ہوتے ہیں، ساتھ ہی زکوٰۃ بھی دیتے ہیں تاکہ ایک طرف اللہ کی عبادت ہو دوسری جانب مخلوق کی دلجوئی ہو،
اللہ تعالیٰ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہی ان کا دلچسپ مشغلہ ہے جو حکم ملا بجا لائے جس سے روکا رک گئے، یہی لوگ ہیں جو رحم الٰہی کے مستحق ہیں، یہی صفتیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کی طرف لپکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ عزیز ہے وہ اپنے فرماں برداروں کی خود بھی عزت کرتا ہے اور انہیں ذی عزت بنا دیتا ہے۔ دراصل عزت اللہ ہی کے لیے ہے اور اس نے اپنے رسولوں اور اپنے ایمانداروں اور غلاموں کو بھی عزت دے رکھی ہے۔ اس کی حکمت ہے کہ ان میں یہ صفتیں رکھیں اور منافقوں میں وہ خصلتیں رکھیں۔ اس کی حکمت کی تہہ کو کون پہنچ سکتا ہے؟ جو چاہے کرے، وہ برکتوں اور بلندیوں والا ہے۔