تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ان کے یہ فاسد اعمال اکارت گئے نہ دنیا میں سود مند ہوئے نہ آخرت میں ثواب دلانے والے ہوئے یہی صریح نقصان ہے کہ عمل کیا اور ثواب نہ ملا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جیسے آج کی رات کل کی رات سے مشابہ ہوتی ہے اسی طرح اس امت میں بھی یہودیوں کی مشابہت آ گئی۔ میرا تو خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم اپنے سے پہلے کے لوگوں کے طریقوں کی تابعداری کرو گے بالکل بالشت بہ بالشت اور ذراع بہ ذراع اور ہاتھ بہ ہاتھ یہاں تک کہ وہ اگر کسی گوہ کے بل میں گھسے ہیں تو یقیناً تم بھی گھسو گے۔“ لوگوں نے پوچھا: ”اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون لوگ ہیں؟ کیا اہل کتاب“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور کون“؟ ۱؎ [صحیح بخاری:3456]
اس حدیث کو بیان فرما کر ابوہریرہ نے فرمایا اگر چاہو تو قرآن کے ان لفظوں کو پڑھ لو «كَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ» [9-التوبہ:69] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ” «خَلَاقِ» سے مراد دین ہے۔ اور تم نے بھی اسی طرح کا خوض کیا جس طرح کا انہوں نے کیا۔“ لوگوں نے پوچھا: ”کیا فارسیوں اور رومیوں کی طرح“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور لوگ ہیں ہی ہیں کون“؟ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3994،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] اس حدیث کے شواہد صحیح احادیث میں بھی ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى محذِّراً للمنافقين أن يُصيبَهم ما أصابَ مَنْ قبلَهم من الأمم المكذِّبة؛ {قوم نوح وعادٍ وثمودَ وقوم إبراهيمَ وأصحاب مَدْيَنَ والمؤتفكاتِ}؛ أي: قرى قوم لوطٍ؛ فكلُّهم {أتتهم رسلهم بالبيِّنات}؛ أي: بالحق الواضح الجليِّ المبيِّن لحقائق الأشياء، فكذَّبوا بها، فجرى عليهم ما قصَّ الله علينا؛ فأنتُم أعمالُكم شبيهةٌ بأعمالهم. {استمتعتُم بخَلاقكم}؛ أي: بنصيبكم من الدنيا، فتناوَلْتموه على وجه اللَّذَّة والشهوة، معرضين عن المراد منه، واستعنتم به على معاصي الله، ولم تتعدَّ همَّتُكم وإرادتكم ما خُوِّلتم من النعم كما فعل الذين من قبلكم. {وخضتُم كالذي خاضوا}؛ أي: وخضتم بالباطل والزُّور وجادلتم بالباطل لِتُدْحِضوا به الحقَّ؛ فهذه أعمالُهم وعلومهم: استمتاعٌ بالخَلاق، وخوضٌ بالباطل؛ فاستحقُّوا من العقوبة والإهلاك ما استحقَّ من قبلهم مِمَّن فعلوا كفعلهم، وأما المؤمنون فهم وإن استمتعوا بنصيبهم وما خُوِّلوا من الدُّنيا؛ فإنَّه على وجه الاستعانة به على طاعة الله، وأما علومهم؛ فهي علوم الرسل، وهي: الوصول إلى اليقين في جميع المطالب العالية، والمجادلة بالحقِّ لإدحاض الباطل. قوله: {فما كان اللهُ لِيَظْلِمَهم}: إذا وقع بهم من عقوبته ما أوقع، {ولكن كانوا أنفسَهم يظلمِون}: حيث تجرؤوا على معاصيه، وعَصَوا رسلهم، واتبعوا أمر كل جبار عنيد.