ترجمہ و تفسیر — سورۃ التوبة (9) — آیت 67

اَلۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الۡمُنٰفِقٰتُ بَعۡضُہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ ۘ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمُنۡکَرِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَقۡبِضُوۡنَ اَیۡدِیَہُمۡ ؕ نَسُوا اللّٰہَ فَنَسِیَہُمۡ ؕ اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۶۷﴾
منافق مرد اور منافق عورتیں، ان کے بعض بعض سے ہیں، وہ برائی کا حکم دیتے ہیں اور نیکی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں۔ وہ اللہ کو بھول گئے تو اس نے انھیں بھلا دیا۔ یقینا منافق لوگ ہی نافرمان ہیں۔ En
منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے ہم جنس (یعنی ایک طرح کے) ہیں کہ برے کام کرنے کو کہتے اور نیک کاموں سے منع کرتے اور (خرچ کرنے سے) ہاتھ بند کئے رہتے ہیں۔ انہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے ان کو بھلا دیا۔ بےشک منافق نافرمان ہیں
En
تمام منافق مرد وعورت آپس میں ایک ہی ہیں، یہ بری باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بھلی باتوں سے روکتے ہیں اور اپنی مٹھی بند رکھتے ہیں، یہ اللہ کو بھول گئے اللہ نے انہیں بھلا دیا۔ بیشک منافق ہی فاسق وبدکردار ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت67) ➊ {اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ …:} یعنی منافق مرد ہوں یا عورتیں سب ایک جیسے ہیں اور سب کی ایک جیسی عادات اور بدخصلتیں ہیں، وہ برے کام کا حکم دیں گے، اچھے کام سے روکیں گے اور بخل کی وجہ سے اپنے ہاتھ بند رکھیں گے، یعنی خرچ نہیں کریں گے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے انھیں بھلا دینے کا ذکر ان کے اللہ تعالیٰ کو بھول جانے کے مقابلے میں فرمایا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے یہی سلوک کیا کہ ان کی پروا ہی نہیں فرمائی، بلکہ انھیں اپنے فضل و کرم سے محروم کر دیا۔ اس تاویل کی ضرورت اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود موسیٰ علیہ السلام کی زبانی نقل فرمایا: «لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَ لَا يَنْسَى» [طٰہٰ: ۵۲] میرا رب بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی بھولنے کی طرف نسبت صرف لفظ کے ہم شکل ہونے تک ہے، ورنہ وہ ذات پاک بھولنے سے ہر طرح پاک ہے۔
➋ { هُمُ الْفٰسِقُوْنَ:} یعنی فسق (نافرمانی) میں حد کمال تک پہنچ چکے ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: بے اعتقاد کی صلاحیت کیا معتبر ہے، اسے فاسق ہی کہنا چاہیے۔ (موضح)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

67۔ 1 منافقین، جو حلف اٹھا کر مسلمان باور کراتے تھے کہ ' ہم تم ہی میں سے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی، کہ ایمان والوں سے ان کا کیا تعلق؟ البتہ یہ سب منافق، چاہے مرد ہوں یا عورتیں، ایک ہی ہیں، یعنی کف و نفاق میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں۔ آگے ان کی صفات بیان کی جا رہی ہیں جو مومنین کی صفات کے بالکل الٹ اور برعکس ہیں۔ 67۔ 2 اس سے مراد بخل ہے۔ یعنی مومن کی صفت اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور منافق کی اس کے برعکس بخل، یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے گریز کرنا ہے۔ 67۔ 3 یعنی اللہ تعالیٰ بھی ان سے ایسا معاملہ کرے گا کہ گویا اس نے انہیں بھلا دیا۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا ' آج ہم تمہیں اس طرح بھلا دیں گے جس طرح تم ہماری ملاقات کے اس دن کو بھولے ہوئے تھے ' مطلب یہ کہ جس طرح انہوں نے دنیا میں اللہ کے احکامات کو چھوڑے رکھا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل و کرم سے محروم رکھے گا گویا نسیان کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف علم بلاغت کے اصول مشاکلت کے اعتبار سے ہے ورنہ اللہ کی ذات نسیان سے پاک ہے (فتح القدیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

67۔ منافق مرد ہوں یا عورتیں، ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں، جو برے کام کا حکم دیتے اور بھلے کام [80] سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھ (بھلائی صدقہ سے) بھینچ [81] لیتے ہیں۔ وہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں بھلا دیا۔ [82] یہ منافق در اصل ہیں ہی نافرمان
[80] منافق امر تو منکرات کا کرتے ہیں اور نہی اوامر کی:۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی کتاب و سنت میں اتنی زیادہ تاکید آئی ہے جس سے بعض علماء نے اس فریضہ کو فرض کفایہ کے بجائے فرض عین سمجھ لیا ہے اور یہ منافق لوگ خواہ مرد ہوں یا عورتیں سب اس اہم فریضہ کے برعکس کام کرتے ہیں۔ کوئی برائی کی بات ہو، کفر و شرک کا معاملہ ہو یا اسلام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا، ان کے دل فوراً ادھر مائل ہو جاتے ہیں اور اس میں ہر طرح سے امداد و تعاون پر تیار ہو جاتے ہیں اور ایسے کاموں میں ان کے دلوں کو اطمینان اور راحت ملتی ہے اور جب کوئی اچھا کام ہو رہا ہو یا دین کی سربلندی کا معاملہ درپیش ہو تو ایسی خبر سنتے ہی ان کے دل بجھ جاتے ہیں۔ پھر وہ ایسی تدبیروں میں مصروف ہو جاتے ہیں کہ یا تو وہ کام شروع ہی نہ ہو اور اگر ہو چکا ہے تو تکمیل کو نہ پہنچ سکے۔
[81] یعنی وہ رسم و رواج، دکھلاوے اور حرام کاموں میں تو اپنے دل کی خوشی سے اور فراخدلی سے خرچ کرتے ہیں۔ لیکن جب جہاد کے لیے یا کسی بھی بھلے کام کے لیے چندہ کی ضرورت پیش آتی ہے تو ان کے دلوں میں گھٹن پیدا ہو جاتی ہے اور کوئی چیز ہاتھوں سے نکالنے کو جی نہیں چاہتا۔
[82] بھلانے کی نسبت اللہ کی طرف:۔
اللہ کا بھلانا یہ ہے کہ اس نے ان منافقوں کو اپنے فضل اور رحمت سے محروم کر دیا اور اس کے بجائے سب مسلمانوں کی نظروں میں اللہ نے ذلیل و رسوا بنا دیا۔ نیز عرب میں محاورہ یہ ہے کہ کسی چیز کے بدلے پر بھی اس کا نام بول دیتے ہیں۔ اور اسے مشاکلہ کہتے ہیں جیسے ﴿يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُم (وہ اللہ کو دھوکا دیتے ہیں اور اللہ انہیں ان کے دھوکے کا بدلہ دیتا ہے) اب اللہ نے اپنے بھلانے کی جو جو سزا بھی مقرر کر رکھی ہے۔ ان سب سزاؤں پر اس لفظ کا اطلاق ہو گا۔ جیسا کہ ان سزاؤں کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے اس سے اگلی آیت میں کر دی ہے یعنی اللہ کے بھلانے سے مراد ان پر اللہ کی پھٹکار اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ایک کے ہاتھ نیکیوں کے کھیت دوسرے کے ہاتھ برائیوں کی وبا ٭٭
منافقوں کی حصلتیں مومنوں کے بالکل برخلاف ہوتی ہیں۔ مومن بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں منافق برائیوں کا حکم دیتے ہیں اور بھلائیوں سے منع کرتے ہیں، مومن سخی ہوتے ہیں، منافق بخیل ہوتے ہیں، مومن ذکر اللہ میں مشغول رہتے ہیں، منافق یاد الٰہی بھلائے رہتے ہیں۔
اسی کے بدلے اللہ بھی ان کے ساتھ وہ معاملہ کرتا ہے جیسے کسی کو کوئی بھول گیا ہو۔ قیامت کے دن یہی ان سے کہا جائے گا کہ آج ہم تمہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے تم اس دن کی ملاقات کو بھلائے ہوئے تھے۔
منافق راہ حق سے دور ہو گئے ہیں گمراہی کے چکر دار بھول بھلیوں میں پھنس گئے ہیں، ان منافقوں اور کافروں کی ان بداعمالیوں کی سزا ان کے لیے اللہ تعالیٰ جہنم کو مقرر فرما چکا ہے وہ ابدالآباد تک رہیں گے وہاں کا عذاب انہیں بس ہو گا، انہیں رب رحیم اپنی رحمت سے دور کر چکا ہے اور ان کے لیے اس نے دائمی اور دیرپا عذاب رکھے ہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَلْ٘مُنٰفِقُوْنَ۠ وَالْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ منافق مرد اور منافق عورتیں آپس میں ایک ہی ہیں۔ کیونکہ نفاق ان میں قدر مشترک ہے اس لیے وہ ایک دوسرے کے باہم دوست ہیں۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان اور منافقین کے درمیان موالات کا رشتہ منقطع ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے منافقین کا عمومی وصف بیان فرمایا جس سے ان کا چھوٹا اور بڑا کوئی بھی باہر نہیں۔ ﴿ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْؔكَرِ وہ بری بات کا حکم دیتے ہیں اور وہ ہے کفر، فسق اور معصیت۔ ﴿ وَیَنْهَوْنَ عَنِ الْ٘مَعْرُوْفِ اور معروف سے روکتے ہیں معروف سے مراد ایمان، اخلاق فاضلہ، اعمال صالحہ اور آداب حسنہ ہیں۔ ﴿وَیَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ اور بند رکھتے ہیں اپنے ہاتھوں کو صدقہ اور بھلائی کے راستوں سے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو بخل کی صفت سے موصوف کیا ہے۔ ﴿ نَسُوا اللّٰهَ وہ بھول گئے اللہ کو پس وہ بہت کم اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں۔ ﴿ فَنَسِیَهُمْ تو وہ بھی بھول گیا ان کو یعنی ان پر رحمت کرنے سے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو بھلائی کی توفیق عطا نہیں کرتا اور نہ ان کو جنت میں داخل کرے گا بلکہ وہ ان کو جہنم کے سب سے نچلے درجہ میں چھوڑ دے گا جہاں ان کو ہمیشہ رکھا جائے گا۔ ﴿ اِنَّ الْ٘مُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْ٘فٰسِقُوْنَ بے شک منافق ہی نافرمان ہیں اللہ تعالیٰ نے فسق کو منافقین میں محصور کر دیا کیونکہ ان کا فسق دیگر فساق کے فسق سے زیادہ بڑا ہے۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ان کو دیا جانے والا عذاب دوسروں کو دیے جانے والے عذاب کی نسبت زیادہ بڑا ہے۔ نیز اہل ایمان جب ان کے درمیان رہ رہے تھے تو ان منافقین کے باعث ان کو آزمائش میں ڈالا گیا اور ان سے بچنے کی نہایت سختی سے تاکید کی گئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {المنافقون والمنافقات بعضُهم من بعض}: لأنهم اشتركوا في النفاق، فاشتركوا في تولِّي بعضهم بعضاً، وفي هذا قطعٌ للمؤمنين من ولايتهم. ثم ذكر وصف المنافقين العام الذي لا يخرُجُ منه صغيرٌ منهم ولا كبيرٌ، فقال: {يأمرون بالمنكر}: وهو الكفر والفسوق والعصيان، {وينهَوْن عن المعروف}: وهو الإيمان والأخلاق الفاضلة والأعمال الصالحة والآداب الحسنة، {ويَقْبِضون أيدِيَهم}: عن الصدقة وطرق الإحسان؛ فوصْفُهم البخلُ. {نَسوا الله}: فلا يذكُرونه إلا قليلاً، {فنَسِيَهم}: من رحمته؛ فلا يوفِّقهم لخيرٍ ولا يدخِلُهم الجنة، بل يترُكهم في الدرك الأسفل من النار خالدين فيها مخلَّدين. {إنَّ المنافقين هم الفاسقون}: حصر الفسقَ فيهم؛ لأنَّ فسقهم أعظم من فسق غيرهم؛ بدليل أن عذابهم أشدُّ من عذاب غيرهم، وأن المؤمنين قد ابتُلوا بهم إذ كانوا بين أظهرهم، والاحتراز منهم شديدٌ.