تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { هُمُ الْفٰسِقُوْنَ:} یعنی فسق (نافرمانی) میں حد کمال تک پہنچ چکے ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”بے اعتقاد کی صلاحیت کیا معتبر ہے، اسے فاسق ہی کہنا چاہیے۔“ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[81] یعنی وہ رسم و رواج، دکھلاوے اور حرام کاموں میں تو اپنے دل کی خوشی سے اور فراخدلی سے خرچ کرتے ہیں۔ لیکن جب جہاد کے لیے یا کسی بھی بھلے کام کے لیے چندہ کی ضرورت پیش آتی ہے تو ان کے دلوں میں گھٹن پیدا ہو جاتی ہے اور کوئی چیز ہاتھوں سے نکالنے کو جی نہیں چاہتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اسی کے بدلے اللہ بھی ان کے ساتھ وہ معاملہ کرتا ہے جیسے کسی کو کوئی بھول گیا ہو۔ قیامت کے دن یہی ان سے کہا جائے گا کہ آج ہم تمہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے تم اس دن کی ملاقات کو بھلائے ہوئے تھے۔
منافق راہ حق سے دور ہو گئے ہیں گمراہی کے چکر دار بھول بھلیوں میں پھنس گئے ہیں، ان منافقوں اور کافروں کی ان بداعمالیوں کی سزا ان کے لیے اللہ تعالیٰ جہنم کو مقرر فرما چکا ہے وہ ابدالآباد تک رہیں گے وہاں کا عذاب انہیں بس ہو گا، انہیں رب رحیم اپنی رحمت سے دور کر چکا ہے اور ان کے لیے اس نے دائمی اور دیرپا عذاب رکھے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {المنافقون والمنافقات بعضُهم من بعض}: لأنهم اشتركوا في النفاق، فاشتركوا في تولِّي بعضهم بعضاً، وفي هذا قطعٌ للمؤمنين من ولايتهم. ثم ذكر وصف المنافقين العام الذي لا يخرُجُ منه صغيرٌ منهم ولا كبيرٌ، فقال: {يأمرون بالمنكر}: وهو الكفر والفسوق والعصيان، {وينهَوْن عن المعروف}: وهو الإيمان والأخلاق الفاضلة والأعمال الصالحة والآداب الحسنة، {ويَقْبِضون أيدِيَهم}: عن الصدقة وطرق الإحسان؛ فوصْفُهم البخلُ. {نَسوا الله}: فلا يذكُرونه إلا قليلاً، {فنَسِيَهم}: من رحمته؛ فلا يوفِّقهم لخيرٍ ولا يدخِلُهم الجنة، بل يترُكهم في الدرك الأسفل من النار خالدين فيها مخلَّدين. {إنَّ المنافقين هم الفاسقون}: حصر الفسقَ فيهم؛ لأنَّ فسقهم أعظم من فسق غيرهم؛ بدليل أن عذابهم أشدُّ من عذاب غيرهم، وأن المؤمنين قد ابتُلوا بهم إذ كانوا بين أظهرهم، والاحتراز منهم شديدٌ.