ترجمہ و تفسیر — سورۃ التوبة (9) — آیت 60

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ الۡعٰمِلِیۡنَ عَلَیۡہَا وَ الۡمُؤَلَّفَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الۡغٰرِمِیۡنَ وَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ؕ فَرِیۡضَۃً مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۶۰﴾
صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ En
صدقات (یعنی زکوٰة وخیرات) تو مفلسوں اور محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلوب منظور ہے اور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قرضداروں (کے قرض ادا کرنے میں) اور خدا کی راہ میں اور مسافروں (کی مدد) میں (بھی یہ مال خرچ کرنا چاہیئے یہ حقوق) خدا کی طرف سے مقرر کر دیئے گئے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
En
صدقے صرف فقیروں کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لئے، فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم وحکمت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت60) ➊ {اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِيْنِ …:} منافقین کا طعن دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے خود صدقات کے حق دار بیان فرما دیے، تاکہ سب لوگ جان لیں کہ صدقات کی تقسیم کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اختیار نہیں، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن بے سود ہے۔ یہاں صدقات سے مراد فرض صدقات، یعنی زکوٰۃ و عشر ہیں، کیونکہ حکومت کی طرف سے وصولی کے لیے عاملین فرض زکوٰۃ ہی کے لیے بھیجے جاتے تھے، یہ الگ بات ہے کہ کوئی ان کے پاس نفل صدقہ بھی جمع کروا دے۔ صدقے کو صدقہ اس لیے کہتے ہیں کہ اللہ کے لیے مال خرچ کرنے والا عملی طور پر اپنے ایمان کے صدق کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یہ لفظ عام طور پر نفلی خرچ پر بولا جاتا ہے، مگر کبھی فرض پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً» [التوبۃ: ۱۰۳] یہاں فرض صدقات ہی مراد ہیں۔ اس آیت کے آخر میں { فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ } سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے، کیونکہ نفلی صدقات کو فریضہ نہیں کہا جاتا۔ { اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ } سے معلوم ہوا کہ ان مقامات کے علاوہ زکوٰۃ و عشر خرچ کرنا جائز نہیں۔
➋ {لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِيْنِ:} فقیر اور مسکین دونوں لفظ محتاج کے معنی میں آتے ہیں، بعض اہل علم فقیر کو زیادہ بدحال قرار دیتے ہیں، بعض مسکین کو اور بعض دونوں کو ایک ہی قرار دیتے ہیں۔ دلائل کے لحاظ سے راجح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ فقیر مسکین سے زیادہ بدحال ہوتا ہے، کیونکہ یہ فقر سے مشتق ہے، کمر کے مہروں کو { فَقَرَاتُ الظَّهْرِ} کہتے ہیں۔ فقیر بمعنی مفقور ہے، یعنی ضرورت کی اشیاء نہ ہونے کی وجہ سے گویا اس کی کمر ٹوٹی ہوئی ہے۔ مسکین سکن سے مشتق ہے کہ ضرورت مندی نے اس کی حرکت کو سکون میں بدل دیا ہے۔ گویا فقیر کی حالت اس شخص کی سی ہے جس کے پاس کچھ نہیں اور مسکین وہ ہے جس کی آمدنی اس کی ضروریات سے کم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اَمَّا السَّفِيْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِيْنَ يَعْمَلُوْنَ فِي الْبَحْرِ» ‏‏‏‏ [الکہف: ۷۹] یعنی وہ کشتی چند مساکین کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ کشتی کا مالک جو کام بھی کرتا ہو بالکل خالی ہاتھ نہیں ہوتا۔ ہاں، آمدنی ضرورت سے کم ہونے کی وجہ سے وہ ضرورت مند و محتاج ہوتا ہے۔ زیر تفسیر آیت میں فقراء کو پہلے لانے سے بھی ان کے زیادہ بدحال ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔ لیکن یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ یہ فرق اس وقت ضروری ہو گا جب فقیر اور مسکین دونوں لفظ اکٹھے آئیں، جیسے ایمان اور اسلام کا فرق ہے، لیکن الگ الگ آئیں تو دونوں ایک ہی ہیں۔ اسی طرح ان میں سے صرف فقیر یا مسکین کا لفظ آئے تو وہ دونوں قسم کے ضرورت مندوں پر بول لیا جاتا ہے، خواہ ان کے پاس کچھ ہو یا نہ ہو۔ یہ دونوں زکوٰۃ کے مستحق ہیں، خواہ وہ بدحال فقیر ہوں یا سفید پوش ضرورت مند۔
➌ { وَ الْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا:} زکوٰۃ و عشر کی وصولی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدمی مقرر فرماتے تھے اورباقاعدہ ان کا محاسبہ فرماتے تھے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن اللتبیہ رضی اللہ عنہ کو اس کام پر مقرر فرمایا تھا اور ان کی آمد پر محاسبہ کرتے ہوئے حکومت کے عمال کو ملنے والے تحائف کو ان کے لیے ناجائز قرار دیا تھا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے { كِتَابُ الْاَحْكَامِ} میں باب قائم فرمایا ہے: { بَابُ رِزْقِ الْحُكَّامِ وَالْعَامِلِيْنَ عَلَيْهَا۔}
➍ { وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ:} اس سے مراد وہ نومسلم ہیں جن کی دل جوئی کرکے انھیں اسلام پر ثابت قدم رکھنا مقصود ہو، یا وہ کفار جن کی دل جوئی سے ان کے اسلام لانے کی امید ہے، یا وہ بااثر لوگ جن پر خرچ کرنے سے کئی لوگوں کے مسلمان ہونے کی امید ہے، یا وہ کافر سردار جن پر خرچ کرنے سے ان کے علاقے میں مسلمانوں کے ظلم و ستم سے محفوظ رہنے کی امید ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کے غلبے کے بعد یہ مد ختم ہو گئی، جیسا کہ امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا، مگر موجودہ زمانے کے حالات کو سامنے رکھیں تو آج کل شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے بھی زیادہ اس کی ضرورت ہے، کیونکہ کفار اسی طریقے سے مسلمانوں کو مرتد کر رہے ہیں۔
➎ { وَ فِي الرِّقَابِ:} گردنیں چھڑانے سے مراد غلاموں کو خرید کر آزاد کرنا ہے۔ مکاتب غلاموں کی (جنھوں نے اپنے مالکوں سے اپنی قیمت قسطوں میں ادا کرنے کی شرط پر آزادی کا معاہدہ کیا ہوا ہے) مدد کرنا ہے۔ آج کل عدالتوں کے کفریہ نظام کی وجہ سے بے گناہ لوگ یا وہ گناہ گار جن کی شرعی سزا قید نہیں ہے، مگر کافرانہ قانون کی وجہ سے قید ہیں، یا کفر کی عدالتوں کا عائد کر دہ جرمانہ ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے یا مقدمہ کے اخراجات ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے جیلوں میں سال ہا سال سے سڑ رہے ہیں ان کو چھڑانے پر زکوٰۃ صرف کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ (واللہ اعلم)
➏ { وَ الْغٰرِمِيْنَ:} وہ مقروض جو قرض ادا نہیں کر سکتے، یا وہ کاروباری لوگ یا زمیندار وغیرہ جو کاروبار یا فصل برباد ہوجانے کی وجہ سے زیر بار ہو گئے، اگر وہ اپنی جائداد میں سے قرض ادا کریں تو فقیر ہو جائیں، یا وہ بااثر لوگ جنھوں نے صلح کروانے کے لیے لوگوں کی دیتیں یا رقوم اپنے ذمے لے لیں، یہ سب غارمین میں آتے ہیں۔
➐ {وَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ:} اس لفظ کے دو استعمال ہیں، ایک تو ہر نیکی ہی اللہ کے لیے اور اللہ کے راستے میں ہے اور فقراء و مساکین وغیرہ پر خرچ بھی فی سبیل اللہ ہے، جن کا ذکر اسی آیت میں پہلے ہو چکا ہے۔ دوسرا ان سب سے الگ فی سبیل اللہ ہے۔ اس سے مراد تمام مفسرین کے اتفاق کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ مجاہد غنی بھی ہو تو اس پر جہادی ضروریات کی خاطر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ حدیث میں حج و عمرہ کو بھی اس مد میں شامل کیا گیا ہے۔ آپ تفسیر کی کتابیں دیکھ لیں یا فقہ کی { وَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ } کی تشریح { هُمُ الْغُزَاةُ } ہی پائیں گے کہ اس سے مراد اللہ کی راہ میں لڑنے والے ہیں، بلکہ اہل علم کا فیصلہ ہے کہ اگر ایک طرف فقراء و مساکین ہوں اور ایک طرف غازیانِ اسلام کو ضرورت ہو تو مجاہدین کی مدد کو ترجیح دی جائے گی، کیونکہ شکست کی صورت میں فقر و مسکنت کے ساتھ کفار کی غلامی کی ذلت اور اسلام کی بے حرمتی کی مصیبت بھی جمع ہو جائے گی۔
➑ { وَ ابْنِ السَّبِيْلِ:} مسافر خواہ صاحب حیثیت ہو اگر سفر میں اسے ضرورت پڑ جائے تو اس پر زکوٰۃ میں سے خرچ کیا جا سکتا ہے۔
➒ { فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ:} معلوم ہوا کہ یہ مصارف فرض صدقات و عشر کے بیان ہوئے ہیں۔ چند اہل علم نے کہا کہ ضروری ہے کہ زکوٰۃ اور عشر میں آنے والا مال آٹھ حصوں میں تقسیم کیا جائے اور لازماً ہر مصرف میں خرچ کیا جائے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء کے عمل کو سامنے رکھتے ہوئے اکثر اہل علم کا کہنا یہ ہے کہ ان میں سے جس مصرف میں زیادہ ضرورت ہو وہاں زیادہ بلکہ سب کا سب بھی صرف کیا جا سکتا ہے۔ ہاں، ان مصارف کے علاوہ خرچ کرنا جائز نہیں اور یہی بات درست ہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے۔ یاد رہے کہ فرض صدقہ صرف مسلمانوں پر خرچ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت انھیں اہل یمن کو کلمۂ شہادت اور روزانہ پانچ نمازیں تسلیم کر لینے کے بعد زکوٰۃ بتانے کا حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اموال میں صدقہ فرض فرمایا ہے: [تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَاءِ هِمْ فَتُرَدُّ فِيْ فُقَرَاءِ هِمْ] جو ان کے اغنیاء سے لیا جائے گا اور انھی کے فقراء پر واپس کر دیا جائے گا۔ [بخاری، الزکوٰۃ، باب أخذ الزکوٰۃ من الأغنیاء …: ۱۴۹۶] مؤلفۃ القلوب پر خرچ بھی دراصل مسلمانوں ہی پر خرچ کی ایک صورت ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

60۔ 1 اس آیت میں اس طعن کا دروازہ بند کرنے کے لئے صدقات کے مستحق لوگوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ صدقات سے مراد یہاں صدقات واجبہ یعنی زکٰوۃ ہے۔ آیت کا آغاز انما سے کیا گیا ہے جو قصر کے صیغوں میں سے ہے اور الصقات میں لام تعریف جنس کے لیے ہے یعنی صدقات کی یہ جنس (زکوٰۃ) ان آٹھ قمسوں میں مقصور ہے جن کا ذکر آیت میں ہے ان کے علاوہ کسی اور مصرف پر زکوٰۃ کی رقم کا استعمال صحیح نہیں۔ اہل علم کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ کیا ان آٹھوں مصارف پر تقسیم کرنا ضروری ہے؟ امام شافعی کی رائے کی رو سے زکٰوۃ کی رقم آٹھوں مصارف پر خرچ کرنا ضروری ہے۔ یا ان میں سے جس مصرف یا مصارف پر امام یا زکوٰۃ ادا کرنے والا مناسب سمجھے حسب ضرورت خرچ کرسکتا ہے امام شافعی وغیرہ پہلی رائے کے قائل ہیں اور امام مالک اور امام ابوحنیفہ وغیرہما دوسری رائے کے۔ اور یہ دوسری رائے ہی زیادہ صحیح ہے امام شافعی کی رائے کی رو سے زکوٰۃ کی رقم آٹھوں مصارف پر خرچ کرنا ضروری ہے یعنی اقتضائے ضرورت اور مصالح دیکھے بغیر رقم کے آٹھ حصے کر کے آٹھوں جگہ پر کچھ کھچ رقم خرچ کی جائے۔ جبکہ دوسری رائے کے مطابق ضرورت اور مصالح کا اعتبار ضروری ہے جس مصرف پر رقم خرچ کرنے کی زیادہ ضرورت یا مصالح کسی ایک مصرف پر خرچ کرنے کے متقتضی ہوں، تو وہاں ضرورت اور مصالح کے لحاظ سے زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جائے گی چاہے دوسرے مصارف پر خرچ کرنے کے لیے رقم نہ بچے اس رائے میں جو معقولیت ہے وہ پہلی رائے میں نہیں ہے۔ 60۔ 2 ان مصارف ثمانیہ کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے۔ ا۔ فقیر اور مسکین چونکہ قریب قریب ہیں اور ایک کا اطلاق دوسر پر بھی ہوتا ہے یعنی فقیر کو مسکین اور مسکین کو فقیر کہہ لیا جاتا ہے۔ اس لئے ان کی الگ الگ تعریف میں خاصا اختلاف ہے۔ تاہم دونوں کے مفہوم میں یہ بات تو قطعی ہے کہ جو حاجت مند ہوں اور اپنی حاجات و ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مطلوبہ رقم اور وسائل سے محروم ہوں ان کو فقیر اور مسکین کہا جاتا ہے مسکین کی تعریف میں ایک حدیث آتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " مسکین وہ گھو منے پھر نے والا نہیں ہے جو ایک ایک یا دو دو لقمے یا کھجور کے لیے گھر گھر پھرتا ہے بلکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال بھی نہ ہو جو اسے بےنیاز کر دے نہ وہ ایسی مسکنت اپنے اوپر طاری رکھے کہ لوگ غریب اور مستحق سمجھ کر اس پر صدقہ کریں اور نہ خود لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرے " (صحیح بخاری ومسلم کتاب الزکوٰۃ) حدیث میں گویا اصل مسکین شخص مذکور کو قرار دیا گیا ہے ورنہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مسکین کی تعریف یہ منقول ہے کہ جو گداگر ہو، گھوم پھر کر اور لوگوں کے پیچھے پڑ کر مانگتا ہو اور فقیر وہ ہے جو نادار ہونے کے باوجود سوال سے بچے اور لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرے (ابن کثیر) 2۔ عاملین سے مراد حکومت کے وہ اہلکار جو زکٰو ۃ و صدقات کی وصولی و تقسیم اور اس کے حساب کتاب پر معمور ہوں۔ 3۔ مولفۃ القلوب ایک تو وہ کافر ہے جو کچھ اسلام کی طرف مائل ہو اور اس کی امداد کرنے پر امید ہو کہ وہ مسلمان ہوجائے گا۔ دوسرے، وہ نو مسلم افراد ہیں جن کو اسلام پر مضبوطی سے قائم رکھنے کے لیے امداد دینے کی ضرورت ہو۔ تیسرے وہ افراد بھی ہیں جن کی امداد دینے کی صورت میں یہ امید ہو کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے سے روکیں گے اور اس طرح وہ قریب کے کمزور مسلمانوں کا تحفظ کریں۔ یہ اور اس قسم کی دیگر صورتیں تالیف قلب کی ہیں جن پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے چاہے مذکورہ افراد مال دار ہی ہوں۔ احناف کے نزدیک یہ مصرف ختم ہوگیا ہے لیکن یہ بات صحیح نہیں حالات وظروف کے مطابق ہر دور میں اس مصرف پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنا جائز ہے۔ 5۔ گردنیں آزاد کرانے میں۔ بعض علماء نے اس سے صرف مکاتب غلام مراد لئے ہیں اور علماء نے مکاتب وغیر مکاتب ہر قسم کے غلام مراد لئے ہیں۔ امام شوکانی نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے۔ 6۔ غارمین سے ایک تو وہ مقروض مراد ہیں جو اپنے اہل و عیال کے نان نفقہ اور ضروریات زندگی فراہم کرنے میں لوگوں کے زیر بار ہوگئے اور ان کے پاس نقد رقم بھی نہیں ہے اور ایسا سامان بھی نہیں ہے جسے بیچ کر وہ قرض ادا کریں سکیں۔ دوسرے وہ ذمہ داراصحاب ضمانت ہیں جنہوں نے کسی کی ضمانت دی اور پھر وہ اس کی ادائیگی کے ذمہ دار قرار پاگئے یا کسی فصل تباہ یا کاروبار خسارے کا شکار ہوگیا اور اس بنیاد پر وہ مقروض ہوگیا۔ ان سب افراد کی زکوٰۃ کی مد سے امداد کرنا جائز ہے۔ 7۔ فی سبیل اللہ سے مراد جہاد ہے یعنی جنگی سامان و ضروریات اور مجاہد (چا ہے وہ مالدار ہی ہو) پر زکٰوۃ کی رقم خرچ کرنا جائز ہے۔ اور احادیث میں آتا ہے کہ حج اور عمرہ بھی فی سبیل اللہ میں داخل ہے اسی طرح بعض علماء کے نزدیک تبلیغ ودعوت بھی فی سبیل اللہ میں داخل ہے کیونکہ اس سے بھی مقصد جہاد کی طرح اعلائے کلمۃ اللہ ہے۔ 8۔ ابن السبیل سے مراد مسافر ہے۔ یعنی اگر کوئی مسافر، سفر میں مستحق امداد ہوگیا ہے چاہے وہ اپنے گھر یا وطن میں صاحب حیثیت ہی ہو، اس کی امداد زکٰوۃ کی رقم سے کی جاسکتی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

60۔ صدقات [65] تو در اصل فقیروں [66] مسکینوں اور ان کارندوں [67] کے لئے ہیں جو ان (کی وصولی) پر مقرر ہیں۔ نیز تالیف قلب [68] غلام آزاد کرانے [69] قرضداروں [70] کے قرض اتارنے، اللہ کی راہ [71] میں اور مسافروں [72] پر خرچ کرنے کے لئے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف [73] سے فریضہ ہے۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے
[65] یہاں صدقات سے مراد صرف فرضی صدقہ یا زکوٰۃ ہے جیسا کہ بعد کے الفاظ فریضۃ من اللّٰہ سے واضح ہوتا ہے۔ صدقات کی تقسیم پر بھی منافقوں کو اعتراض ہوا تھا تو اس کی تقسیم کی مدات اللہ تعالیٰ نے خود ہی مقرر فرما دیں تاکہ ان کی تقسیم میں اعتراض کی گنجائش ہی نہ رہے یا کم سے کم رہ جائے۔ اور یہ کل آٹھ مدات ہیں جو درج ذیل ہیں۔
[66] زکوٰۃ کے حقدار مسکین اور فقیر میں فرق:۔
فقیر اور مسکین کی تعریف اور ان میں فرق سے متعلق علماء کے کئی اقوال ہیں۔ اس سلسلہ میں درج ذیل حدیث قول فیصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں جو ایک یا دو لقموں کے لیے لوگوں کے پاس چکر لگائے کہ اسے ایک یا دو کھجوریں دے کر لوٹا دیا جائے بلکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہ ہو جو اسے بے نیاز کر دے۔ نہ اس کا حال کسی کو معلوم ہوتا ہے کہ اسے صدقہ دیا جائے، نہ وہ لوگوں سے کھڑا ہو کر سوال کرتا ہے۔“ [بخاري۔ كتاب الزكوٰة۔ لَا يَسَْٔلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا، مسلم۔ كتاب الزكوٰة۔ باب المسكين الذى لايجد غني]
گویا احتیاج کے لحاظ سے فقیر اور مسکین میں کوئی فرق نہیں۔ ان میں اصل فرق یہ ہے کہ فقیر وہ ہے جو لوگوں سے سوال کرتا پھرے اور مسکین وہ ہے جو احتیاج کے باوجود قانع رہے اور سوال کرنے سے پرہیز کرے جسے ہمارے ہاں سفید پوش کہا جاتا ہے۔
[67] محنت کرنے والے کو معاوضہ لے لینا چاہئے:۔
یعنی زکوٰۃ کو وصول کرنے والے، تقسیم کرنے والے اور ان کا حساب کتاب رکھنے والا سارا عملہ اموال زکوٰۃ سے معاوضہ یا تنخواہ لینے کا حقدار ہے۔ اس عملہ میں سے اگر کوئی شخص خود مالدار ہو تو بھی معاوضہ یا تنخواہ کا حقدار ہے اور اسے یہ معاوضہ لینا ہی چاہیے خواہ بعد میں صدقہ کر دے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن السعدی کہتے ہیں کہ دور فاروقی میں میں سیدنا عمرؓ کے پاس آیا۔ انہوں نے مجھے کہا: ”مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم لوگوں کے کام کرتے ہو اور جب تمہیں اس کی اجرت دی جائے تو تم اسے ناپسند کرتے ہو؟“ میں نے کہا ”ہاں“ انہوں نے پوچھا ”پھر اس سے تمہارا کیا مطلب ہے؟“ میں نے جواب دیا کہ ”میرے پاس گھوڑے ہیں غلام ہیں اور مال بھی ہے میں چاہتا ہوں کہ اپنی اجرت مسلمانوں پر صدقہ کر دوں۔“ سیدنا عمرؓ نے فرمایا ”ایسا نہ کرو، کیونکہ میں نے بھی یہی ارادہ کیا تھا جو تم نے کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ دیتے تو میں کہہ دیتا کہ یہ آپ اسے دے دیں جو مجھ سے زیادہ محتاج ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ لے لو، اس سے مالدار بنو، پھر صدقہ کرو، اگر تمہارے پاس مال اس طرح آئے کہ تم اس کے حریص نہ ہو اور نہ ہی اس کا سوال کرنے والے ہو تو اس کو لے لیا کرو اور اگر نہ ملے تو اس کی فکر نہ کیا کرو۔ “ [بخاري۔ كتاب الاحكام۔ باب رزق الحاكم والعاملين عليها مسلم۔ كتاب الزكوٰة۔ باب اباحة الاخذ لمن اعطي من غير مسئلة]
زکوٰۃ کی فراہمی اور تقسیم حکومت کی ذمہ داری:۔
ضمناً اس جملہ سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ زکوٰۃ کی فراہمی اور تقسیم اسلامی حکومت کا فریضہ ہے اور انفرادی طور پر زکوٰۃ صرف اس صورت میں ادا کرنا چاہیے جب ایسا نظام زکوٰۃ قائم نہ ہو اور اگر کوئی خاندان، برادری، یا قوم اپنے اہتمام میں اجتماعی طور پر فراہمی زکوٰۃ اور اس کی تقسیم کا کام کر لے تو یہ انفرادی ادائیگی سے بہتر ہے۔
[68] تالیف کے حقدار:۔
اس مدد سے ان کافروں کو بھی مال دیا جا سکتا ہے جو اسلام دشمنی میں پیش پیش ہوں اگر یہ توقع ہو کہ مال کے لالچ سے وہ اپنی حرکتیں چھوڑ کر اسلام کی طرف مائل ہو جائیں گے اور ان نو مسلموں کو بھی جو نئے مسلم معاشرہ میں ابھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل نہ ہوں اور انہیں اپنی معاشی حالت سنبھلنے تک مستقل وظیفہ بھی دیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ سیدنا علیؓ نے یمن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو سونا بھیجا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کافروں میں تقسیم کیا تھا۔ سیدنا عمرؓ نے اپنے دور خلافت میں یہ کہہ کر اس مد کو حذف کر دیا تھا کہ اب اسلام غالب آچکا ہے اور اب اس مد کی ضرورت نہیں رہی۔ لیکن حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے لہٰذا عند الضرورت اس مد کو بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
[69] اجتماعی غلامی کا حال:۔
اس کی بھی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ کسی غلام کو خرید کر آزاد کر دیا جائے۔ دوسری کسی مکاتب غلام کی بقایا رقم ادا کر کے اسے آزاد کرایا جائے۔ آج کل انفرادی غلامی کا دور گزر چکا ہے اور اس کے بجائے اجتماعی غلامی رائج ہو گئی ہے۔ بعض مالدار ممالک نے تنگ دست ممالک کو معاشی طور پر اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ لہٰذا آج علماء کو یہ غور کرنا چاہیے کہ ایسے غلام ممالک کی رہائی کے لیے ممکنہ صورتیں کیا ہونی چاہئیں؟ مثلاً آج کل پاکستان بیرونی ممالک اور بالخصوص امریکہ کے سودی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اور مسلمان تاجر اتنے مالدار بھی ہیں کہ وہ حکومت سے تعاون کریں تو وہ یہ قرضہ اتار بھی سکتے ہیں بشرطیکہ انہیں یہ یقین دہانی کرا دی جائے کہ ان کی زکوٰۃ کا یہ مصرف درست ہے اور حکومت اسلامی نظام کے نفاذ میں مخلص ہے۔
[70] مقروض کے قرضہ کی ادائیگی:۔
یہاں قرض سے مراد خانگی ضروریات کے قرضے ہیں تجارتی اور کاروباری قرضے نہیں اور قرض دار سے مراد ایسا مقروض ہے کہ اگر اس کے مال سے سارا قرض ادا کر دیا جائے تو اس کے پاس نقد نصاب سے کم مال رہتا ہو۔ یہ مقروض خواہ برسر روزگار ہو یا بے روزگار ہو اور خواہ وہ فقیر ہو یا غنی ہو۔ اس مد سے اس کا قرض ادا کیا جا سکتا ہے۔
[71] یعنی ہر ایسا کام جس میں اللہ کی رضا مطلوب ہو۔ اور یہ میدان بڑا وسیع ہے۔ اکثر ائمہ سلف کے اقوال کے مطابق اس کا بہترین مصرف جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرنا ہے اور قتال فی سبیل اللہ اسی کا ایک اہم شعبہ ہے۔ بالفاظ دیگر اس مد سے دینی مدارس کا قیام اور اس کے اخراجات پورے کیے جا سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر وہ ادارہ بھی اس مصرف میں شامل ہے جو زبانی یا تحریری طور پر دینی خدمات سر انجام دے رہا ہے یا اسلام کا دفاع کر رہا ہو۔ بعض علماء کے نزدیک اس مد سے مساجد کی تعمیر و مرمت پر بھی خرچ کیا جا سکتا ہے۔
[72] مسافر خواہ وہ فقیر ہو یا غنی ہو۔ اگر دوران سفر اسے ایسی ضرورت پیش آ جائے تو اس کی بھی مدد کی جا سکتی ہے مثلاً فی الواقع کسی کی جیب کٹ جائے یا مال چوری ہو جائے وغیرہ وغیرہ۔
[73] محتاج زکوٰۃ کے زیادہ حقدار ہیں:۔
واضح رہے کہ زکوٰۃ کی فراہمی اور تقسیم کے لحاظ سے معاشرہ کو تین طبقوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک اغنیاء کا طبقہ جن سے زکوٰۃ وصول کی جائے گی دوسرا فقراء و مساکین یا مقروضوں وغیرہ کا طبقہ۔ جسے زکوٰۃ دی جائے گی اور تیسرا متوسط طبقہ جس پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی تاہم وہ زکوٰۃ کا مستحق بھی قرار نہیں دیا جا سکتا اور اس کے آمدنی کے ذرائع اتنے ہوتے ہیں جس سے اس کے اخراجات پورے ہو جاتے ہیں۔ غنی کی عام تعریف یہ ہے کہ جس شخص کے پاس محل نصاب اشیاء میں سے کوئی چیز بقدر نصاب یا اس سے زائد موجود ہو وہ غنی ہے اور جس کے پاس کوئی چیز بھی بقدر نصاب موجود نہ ہو وہ فقیر یا مسکین ہے۔
دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ زکوٰۃ جس مقام کے اغنیاء سے وصول کی جائے گی اس کے سب سے زیادہ حقدار اسی مقام کے فقراء وغیرہ ہوتے ہیں۔ اگر کچھ رقم بچ جائے تو وہ مرکزی بیت المال میں جمع ہو گی۔ اس سلسلہ میں اب درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
سیدنا ابراہیم بن عطاء اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عمران ابن الحصین کو زکوٰۃ کی وصولی پر روانہ کیا گیا۔ وہ خالی ہاتھ واپس آ گئے تو ان سے پوچھا گیا کہ زکوٰۃ کا مال کہاں ہے؟ انہوں نے جواب دیا ”مجھے زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم کے واسطے روانہ کیا گیا۔ میں نے جن لوگوں سے لینا چاہیے تھا لیا اور جہاں دینا چاہیے تھا دے دیا۔“ [ابن ماجه۔ ابواب الصدقه]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ غنی کی حد کیا ہے؟ فرمایا ”پچاس درہم یا اس کے برابر مالیت کا سونا (یا نقدی)“ [نسائي۔ كتاب الزكوٰة۔ باب حد الغنيٰ]
اور درہم چاندی کا ساڑھے چار ماشہ کا سکہ تھا اور پچاس درھم کا عوض ڈھائی دینار ہے جبکہ دینار ساڑھے تین ماشے سونے کا سکہ تھا۔ یعنی جس کے پاس تقریباً 9 ماشہ سونا ہو وہ غنی ہے۔ اور ایسا شخص متوسط طبقہ میں شمار ہو گا۔ علاوہ ازیں درج ذیل قسم کے لوگ زکوٰۃ کے حقدار نہیں ہوتے:
الف۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور آپ کے رشتہ دار جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے:
1۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ حسن بن علیؓ نے زکوٰۃ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھی چھی“ تاکہ حسن اس کھجور کو منہ سے نکال پھینکیں۔ پھر فرمایا ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقہ کا مال نہیں کھاتے۔“ [بخاري۔ كتاب الزكوٰة۔ باب الصدقة للنبي]
لیکن اگر صدقہ کی کوئی چیز کسی مستحق کے واسطہ سے ہدیہ آل نبی کو مل جائے تو وہ جائز ہو گی۔
2۔ ام عطیہ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہؓ کے ہاں جا کر پوچھا ”کچھ کھانے کو ہے؟“ انہوں نے کہا ”کچھ نہیں صرف بکری کا وہ گوشت ہے جو آپ نے «نسيبه» کو خیرات دی تھی اور «نسيبه» نے تحفہ کے طور پر ہمیں بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لاؤ۔ خیرات تو اپنے ٹھکانے پر پہنچ چکی ہے۔“ [بخاري۔ كتاب الزكوٰة۔ باب اذا تحولت الصدقة]
3۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ گوشت لایا گیا جو بریرہ کو خیرات میں ملا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بریرہ پر یہ صدقہ تھا اور ہمارے لیے یہ تحفہ ہے۔“ [بخاري۔ حواله ايضاً]
ب۔ جو شخص تندرست، طاقتور اور کمانے کے قابل ہو وہ زکوٰۃ کا حقدار نہیں ہوتا:
1۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر صدقہ طلب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”صدقات کی تقسیم میں اللہ کسی نبی یا کسی دوسرے کی تقسیم پر راضی نہیں ہوا۔ اس نے خود فیصلہ کیا اور اسے آٹھ اجزاء میں تقسیم کر دیا۔ اگر تو بھی ان کے ذیل میں آتا ہے تو میں تمہیں دے دیتا ہوں۔“ [ابو داؤد۔ نسائي۔ كتاب الزكوٰة باب مسئلة القوي المكتسب]
2۔ حجۃ الوداع کے موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ دو ہٹے کٹے آدمی آئے اور صدقہ کا سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر انہیں دیکھا۔ پھر نظر نیچے کر لی اور فرمایا ”اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں لیکن صدقہ میں غنی اور قوی کا کوئی حصہ نہیں۔ جو کما سکتا ہو۔ “ [ابو داؤد۔ نسائي۔ كتاب الزكوٰة۔ باب مسئلة القوي المكتسب]
ج۔ جو افراد کسی کے زیر کفالت ہوں۔ وہ انہیں زکوٰۃ نہیں دے سکتا۔ مثلاً بیوی اور اولاد کو۔ اسی طرح اگر باپ بوڑھا ہو چکا ہو اور اس کی کفالت اس کے بیٹے کے ذمہ ہو تو بیٹا باپ کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا۔
جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں صاحب مال ہوں اور میرا والد محتاج ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تو اور تیرا مال سب کچھ تیرے باپ کا ہے۔ اولاد ہی تمہاری پاکیزہ کمائی ہوتی ہے اور اپنی اولاد کی کمائی سے تم کھا سکتے ہو۔ “ [ابو داؤد۔ ابن ماجه بحواله مشكوة۔ كتاب الزكوٰة۔ باب النفقات وحق المملوك]
اس لحاظ سے عورت اپنے خاوند کو زکوٰۃ دے سکتی ہے کیونکہ خاوند بیوی کے زیر کفالت نہیں ہوتا۔
جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: سیدہ زینب (زوجہ عبد اللہ بن مسعودؓ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آئیں۔ وہاں ایک اور انصاری عورت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر پایا۔ وہ بھی وہی مسئلہ پوچھنے آئی تھی جو میں پوچھنا چاہتی تھی۔ اتنے میں بلالؓ نکلے۔ ہم نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو کہ اگر میں اپنے خاوند اور چند یتیموں کو جو میری پرورش میں ہیں خیرات کر دوں تو کیا یہ درست ہو گا؟ ہم نے بلالؓ سے یہ بھی کہا کہ ہمارا نام نہ لینا۔ بلالؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ دو عورتیں یہ مسئلہ پوچھ رہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ”کونسی عورتیں؟“ بلالؓ نے کہ ”زینب نامی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ”کونسی زینب؟“ بلالؓ نے کہا ”عبد اللہ بن مسعودؓ کی بیوی“ آپ نے فرمایا ”ہاں یہ صدقہ درست ہے اور اس کے لیے دوہرا اجر ہے ایک قرابت کا دوسرے صدقہ کا۔“ [بخاري۔ كتاب الزكوٰة۔ باب الزكوٰة على الزوج والا يتام فى الحجر]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

زکوۃ اور صدقات کا مصرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ اللہ کے حکم کے تحت ہے؟ ٭٭
اوپر کی آیت میں ان جاہل منافقوں کا ذکر تھا جو ذات رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر تقسیم صدقات میں اعتراض کر بیٹھتے تھے۔ اب یہاں اس آیت میں بیان فرما دیا کہ تقسیم زکوٰۃ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی پر موقوف نہیں بلکہ ہمارے بتلائے ہوئے مصارف میں ہی لگتی ہے، ہم نے آپ اس کی تقسیم کر دی ہے کسی اور کے سپرد نہیں کی۔
ابوداؤد میں ہے زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے سرکار نبوت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی ایک شخص نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مجھے صدقے میں سے کچھ دلوائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نبی غیر نبی کسی کے حکم پر تقسیم زکوٰۃ کے بارے میں راضی نہیں ہوا یہاں تک کہ خود اس نے تقسیم کر دی ہے آٹھ مصرف مقرر کر دیئے ہیں اگر تو ان میں سے کسی میں ہے تو میں تجھے دے سکتا ہوں۔‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ابوداود:1630،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
امام شافعی وغیرہ تو فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کے مال کی تقسیم ان آٹھوں قسم کے تمام لوگوں پر کرنی واجب ہے اور امام مالک رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ واجب نہیں بلکہ ان میں سے کسی ایک کو ہی دے دینا کافی ہے گو اور قسم کے لوگ بھی ہوں۔
عام اہل علم کا قول بھی یہی ہے، آیت میں بیان مصرف ہے نہ کہ ان سب کو دینے کا وجوب کا ذکر۔ ان اقوال کی دلیلوں اور مناظروں کی جگہ یہ کتاب نہیں واللہ اعلم۔
فقیروں کو سب سے پہلے اس لیے بیان فرمایا کہ ان کی حاجت بہت سخت ہے۔ گو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مسکین فقیر سے بھی برے حال والا ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس کے ہاتھ تلے مال نہ ہو اسی کو فقیر نہیں کہتے بلکہ فقیر وہ بھی ہے جو محتاج ہو گرا پڑا ہو گو کچھ کھاتا پیتا کماتا بھی ہو۔‏‏‏‏ ابن علیہ کہتے ہیں اس روایت میں اخلق کا لفظ ہے۔ اخلق کہتے ہیں ہمارے نزدیک تجارت کو، لیکن جمہور اس کے برخلاف ہیں۔
اور بہت سے حضرات فرماتے ہیں فقیر وہ ہے جو سوال سے بچنے والا ہو، اور مسکین وہ ہے جو سائل ہو لوگوں کے پیچھے لگنے والا اور گھروں اور گلیوں میں گھومنے والا۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں فقیر وہ ہے جو بیماری والا ہو اور مسکین وہ ہے جو صحیح سالم جسم والا ہو۔
ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے مہاجر فقراء ہیں۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں یعنی دیہاتیوں کو اس میں سے کچھ نہ ملے۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مسلمان فقراء کو مساکین نہ کہو مسکین تو صرف اہل کتاب کے لوگ ہیں۔
اب وہ حدیثیں سنئے جو ان آٹھوں قسموں کے متعلق ہیں۔ فقراء، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں صدقہ مالدار اور تندرست توانا پر حلال نہیں، ۱؎ [سنن ترمذی:652،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ دو شخصوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صدقے کا مال مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغور نیچے سے اوپر تک انہیں ہٹا کٹا، قوی، تندرست دیکھ کر فرمایا: اگر تم چاہو تو تمہیں دے دوں لیکن امیر شخص کا اور قوی طاقتور کماؤ شخص کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ابوداود:1633،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
مساکین، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مسکین یہی گھوم گھوم کر ایک لقمہ، دو لقمے، ایک کھجور، دو کھجور لے کر ٹل جانے والے ہی نہیں۔‏‏‏‏ لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ پھر مساکین کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بےپرواہی کے برابر نہ پائے نہ اپنی ایسی حالت رکھے کہ کوئی دیکھ کر پہچان لے اور کچھ دے دے نہ کسی سے خود کوئی سوال کرے۔‏‏‏‏ ۱؎ [صحیح بخاری:1479]‏‏‏‏ صدقہ وصول کرنے والے یہ تحصیل دار ہیں انہیں اجرت اسی مال سے ملے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار جن پر صدقہ حرام ہے اس عہدے پر نہیں آ سکتے۔
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ درخواست لے کر گئے کہ ہمیں صدقہ کا عامل بنا دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر صدقہ حرام ہے یہ تو لوگوں کا میل کچیل ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1072]‏‏‏‏
جن کے دل پر چائے جاتے ہیں، ان کی کئی قسمیں ہیں بعضوں کو تو اس لیے دیا جاتا ہے کہ وہ اسلام قبول کر لیں جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ کو غنیمت حنین کا مال دیا تھا حالانکہ وہ اس وقت کفر کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا تھا اس کا اپنا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس داد و دہش نے میرے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے زیادہ محبت پیدا کر دی حالانکہ پہلے سب سے بڑا دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا میں ہی تھا۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2313]‏‏‏‏
بعضوں کو اس لیے دیا جاتا ہے کہ ان کا اسلام مضبوط ہو جائے اور ان کا دل اسلام پر لگ جائے، جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین والے دن مکہ کے آزاد کردہ لوگوں کے سرداروں کو سو سو اونٹ عطا فرمائے اور ارشاد فرمایا کہ میں ایک کو دیتا ہوں اور دوسرے کو جو اس سے زیادہ میرا محبوب ہے نہیں دیتا اس لیے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ اوندھے منہ جہنم میں گر پڑے۔‏‏‏‏ ۱؎ [صحیح بخاری:27]‏‏‏‏
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے کچا سونا مٹی سمیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو آپ نے صرف چار شخصوں میں ہی تقسیم فرمایا، اقرع بن حابس، عیینہ بن بدر، عقلمہ بن علاثہ اور زید خیر، اور فرمایا: میں ان کی دلجوئی کے لیے انہیں دے رہا ہوں۔‏‏‏‏ ۱؎ [صحیح بخاری:3344]‏‏‏‏
بعض کو اس لیے بھی دیا جاتا ہے کہ اس جیسے اور لوگ بھی اسلام قبول کر لیں۔ بعض کو اس لیے دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے آس پاس والوں سے صدقہ پہنچائے یا آس پاس کے دشمنوں کی نگہداشت رکھے اور انہیں اسلامیوں پر حملہ کرنے کا موقعہ نہ دے۔ ان سب کی تفصیل کی جگہ احکام وفروع کی کتابیں ہیں نہ کہ تفسیر، و اللہ اعلم۔
عمر رضی اللہ عنہ اور عمار شعبی اور ایک جماعت کا قول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اب یہ مصرف باقی نہیں رہا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت دے دی ہے مسلمان ملکوں کے مالک بن گئے ہیں اور بہت سے بندگان رب ان کے ماتحت ہیں۔
لیکن اور بزرگوں کا قول ہے کہ اب بھی مولفتہ القلوب کو زکوٰۃ دینی جائز ہے۔ فتح مکہ اور فتح ہوازن کے بعد بھی حضور علیہ الصلوۃ والتسلیم نے ان لوگوں کو مال دیا۔ دوسرے یہ کہ اب بھی ایسی ضرورتیں پیش آ جایا کرتی ہیں۔
آزادگی گردن کے بارے میں بہت سے بزرگ فرماتے ہیں کہ مراد اس سے وہ غلام ہیں جنہوں نے رقم مقرر کر کے اپنے مالکوں سے اپنی آزادگی کی شرط کر لی ہے انہیں مال زکوٰۃ سے رقم دی جائے کہ وہ ادا کر کے آزاد ہو جائیں۔ اور بزرگ فرماتے ہیں کہ وہ غلام جس نے یہ شرط نہ لکھوائی ہو اسے بھی مال زکوٰۃ سے خرید کر آزاد کرنے میں کوئی ڈر خوف نہیں۔
غرض مکاتب غلام اور محض غلام دونوں کی آزادگی زکوٰۃ کا ایک مصرف ہے احادیث میں بھی اس کی بہت کچھ فضیلت وارد ہوئی ہے یہاں تک کہ فرمایا ہے کہ آزاد کردہ غلام کے ہر ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کا ہر ہر عضو جہنم سے آزاد ہو جاتا ہے یہاں تک کہ شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ بھی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4715]‏‏‏‏
اس لیے کہ ہر نیکی کی جزا اسی جیسی ہوتی ہے۔ قرآن فرماتا ہے تمہیں وہی جزا دی جائے گی جو تم نے کیا ہو گا۔ ۱؎ [37-الصافات:39]‏‏‏‏
حدیث میں ہے تین قسم کے لوگوں کی مدد اللہ کے ذمے حق ہے، وہ غازی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہو، وہ مکاتب غلام اور قرض دار جو ادائیگی کی نیت رکھتا ہو، وہ نکاح کرنے والا جس کا ارادہ بدکاری سے محفوظ رہنے کا ہو۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1655،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت سے قریب اور دوزخ سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نسمہ آزاد کر اور گردن خلاصی کر۔‏‏‏‏ اس نے کہا کہ یہ دونوں ایک ہی چیز نہیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں نسمہ کی آزادگی یہ ہے کہ تو اکیلا ہی کسی غلام کو آزاد کر دے اور گردن خلاصی یہ ہے کہ تو بھی اس میں جو تجھ سے ہو سکے مدد کرے۔‏‏‏‏ ۱؎ [مسند احمد:299/4:صحیح]‏‏‏‏
قرض داران کی بھی کئی قسمیں ہیں ایک شخص دوسرے کا بوجھ اپنے اوپر لے لے کسی کے قرض کا آپ ضامن بن جائے پھر اس کا مال ختم ہو جائے یا وہ خود قرض دار بن جائے یا کسی نے برائی پر قرض اٹھایا ہو اور اب وہ توبہ کر لے پس انہیں مال زکوٰۃ دیا جائے گا کہ یہ قرض ادا کر دیں۔
اس مسئلے کی اصل قبیصہ رضی اللہ عنہ بن مخارق ہلالی کی یہ روایت ہے کہ میں نے دوسرے کا حوالہ اپنی طرف لیا تھا پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ٹھہرو ہمارے پاس مال صدقہ آئے گا ہم اس میں سے تمہں دیں گے۔‏‏‏‏ پھر فرمایا: قبیصہ سن! تین قسم کے لوگوں کو ہی سوال حلال ہے ایک تو وہ جو ضامن پڑے پس اس رقم کے پورا ہونے تک اسے سوال جائز ہے پھر سوال نہ کرے۔ دوسرا وہ جس کا مال کسی آفت ناگہانی سے ضائع ہو جائے اسے بھی سوال کرنا درست ہے یہاں تک کہ پیٹ بھرائ ہو جائے، تیسرا وہ شخص جس پر فاقہ گذرنے لگے اور اس کی قوم کے تین ذی ہوش لوگ اس کی شہادت کے لیے کھڑے ہو جائیں کہ ہاں بیشک فلاں شخص پر فاقے گذرنے لگے ہیں، اسے بھی مانگ لینا جائز ہے تاوقتیکہ اس کا سہارا ہو جائے اور سامان زندگی مہیا ہو جائے، ان کے سوا اوروں کو سوال کرنا حرام ہے اگر وہ مانگ کر کچھ لے کر کھائیں گے تو حرام کھائیں گے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1044]‏‏‏‏
ایک شخص نے زمانہ نبوی میں ایک باغ خریدا قدرت الٰہی سے آسمانی آفت سے باغ کا پھل مارا گیا اس سے وہ بہت قرض دار ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا کہ تمہیں جو ملے لے لو۔ اس کے سوا تمہارے لیے اور کچھ نہیں۔‏‏‏‏ ۱؎ [صحیح مسلم:1556-18]‏‏‏‏
آپ فرماتے ہیں کہ ایک قرض دار کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بلا کر اپنے سامنے کھڑا کر کے پوچھے گا کہ تو نے قرض کیوں لیا اور کیوں رقم ضائع کر دی؟ جس سے لوگوں کے حقوق برباد ہوئے۔ وہ جواب دے گا کہ اے اللہ! تجھے خوب علم ہے میں نے یہ رقم کھائی نہ پی نہ اڑائی بلکہ میرے ہاں مثلاً چوری ہو گئی یا آگ لگ گئی یا کوئی اور آفت آ گئی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرا بندہ سچا ہے آج تیرے قرض کے ادا کرنے کا سب سے زیادہ مستحق میں ہی ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ کوئی چیز منگوا کر اس کی نیکیوں کے پلڑے میں رکھ دے گا جس سے نیکیاں برائیوں سے بڑھ جائیں گی اور اللہ تبارک و تعالیٰ اسے اپنے فضل و رحمت سے جنت میں لے جائے گا۔‏‏‏‏ ۱؎ [مسند احمد:197،198/1:ضعیف]‏‏‏‏
اللہ کی راہ، میں وہ مجاہدین غازی داخل ہیں جن کا دفتر میں کوئی حق نہیں ہوتا۔ حج بھی اللہ کی راہ میں داخل ہے۔
مسافر، جو سفر میں بےسروسامان رہ گیا ہو اسے بھی مال زکوٰۃ سے اپنی رقم دی جائے جس سے وہ اپنے شہر پہنچ سکے، گو وہ اپنے ہاں مالدار ہی ہو۔ یہی حکم ان کا بھی ہے جو اپنے شہر سے سفر کو جانے کا قصد رکھتے ہوں لیکن مال نہ ہو تو اسے بھی سفر خرچ مال زکوٰۃ سے دینا جائز ہے جو اسے آمد و رفت کے لیے کافی ہو۔
آیت کے اس لفظ کی دلیل کے علاوہ ابوداؤد وغیرہ کی یہ حدیث بھی اس کی دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالدار پر زکوٰۃ حرام ہے۔ بجز پانچ قسم کے مالداروں کے ایک تو وہ جو زکوٰۃ وصول کرنے پر مقرر ہو، دوسرا وہ جو مال زکوٰۃ کی کسی چیز کو اپنے مال سے خرید لے، تیسرا قرض دار، چوتھا راہ الٰہی کا غازی مجاہد، پانچواں وہ جسے کوئی مسکین بطور تحفے کے اپنی کوئی چیز جو زکوٰۃ میں اسے ملی ہو دے۔‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1841،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اور روایت ہے کہ زکوٰۃ مالدار کے لیے حلال نہیں مگر فی سبیل اللہ جو ہو اور جو مسافرت میں ہو اور جسے اس کا کوئی مسکین پڑوسی بطور تحفے، ہدیئے کے دے یا اپنے ہاں بلا لے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1637،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
زکوٰۃ کے ان آٹھوں مصارف کو بیان فرما کر پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے یعنی مقدر ہے اللہ کی تقدیر، اس کی تقسیم اور اس کا فرض کرنے سے۔ اللہ تعالیٰ ظاہر و باطن کا عالم ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے واقف ہے، وہ اپنے قول، فعل، شریعت اور حکم میں حکمت والا ہے۔ بجز اس کے کوئی بھی لائق عبادت نہیں نہ اس کے سوا کوئی کسی کا پالنے والا ہے۔