تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {اَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا:} یعنی بہانے تو یہ کرتے ہیں کہ ہم فتنے میں نہ پڑ جائیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ فتنے ہی میں تو پڑے ہوئے ہیں کہ جہاد پر جانے سے گریز کر رہے ہیں۔ {” فِي الْفِتْنَةِ “} پہلے لانے سے حصر کا معنی حاصل ہوتا ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر سے بڑھ کر بھی دنیا میں کوئی فتنہ ہو گا اور پھر جہاد میں شریک نہ ہونا خود ایک فتنہ ہے، اب تو حیلے بہانے تراش کر یہ نکل جائیں گے، مگر جہنم کے گھیرے سے کیسے نکل پائیں گے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ اس منافق نے یہ بہانہ بنایا حالانکہ وہ فتنے میں تو پڑا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑنا جہاد سے منہ موڑنا یہ کیا کم فتنہ ہے؟ یہ منافق بنو سلمہ قبیلے کا رئیس اعظم تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس قبیلے کے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ ”تمہارا سردار کون ہے“؟ تو انہوں نے کہا ”جد بن قیس جو بڑا ہی شوم اور بخیل ہے۔“ آپ نے فرمایا: ”بخل سے بڑھ کر اور کیا بری بیماری ہے“؟ سنو اب سے تمہارا سردار نوجوان سفید اور خوبصورت بشر بن برابن معرور ہے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:163،164/19:صحیح] جہنم کافروں کو گھیر لینے والی ہے نہ اس سے وہ بچ سکیں نہ بھاگ سکیں نہ نجات پا سکیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ومن هؤلاء المنافقين من يستأذن في التخلُّف ويعتذر بعذرٍ آخر عجيب، فيقول: {ائذن لي}: في التخلُّف، {ولا تَفْتِنِّي}: في الخروج؛ فإني إذا خرجت فرأيت نساء بني الأصفر لا أصبر عنهن؛ كما قال ذلك الجدُّ بن قيس، ومقصوده قبَّحه الله الرياء والنفاق؛ بأن مقصودي مقصودٌ حسن؛ فإنَّ في خروجي فتنةً، وتعرضاً للشرِّ، وفي عدم خروجي عافيةً وكفًّا عن الشرِّ. قال الله تعالى مبيِّناً كذب هذا القول: {ألا في الفتنةِ سَقَطوا}: فإنه على تقدير صدق هذا القائل في قصدِهِ؛ في التخلُّف مفسدةٌ كبرى وفتنةٌ عظمى محقَّقة، وهي معصية الله ومعصية رسوله والتجرِّي على الإثم الكبير والوزر العظيم، وأما الخروجُ؛ فمفسدةٌ قليلة بالنسبة للتخلُّف، وهي متوهَّمة، مع أنَّ هذا القائل قصده التخلُّف لا غير، ولهذا توعَّدهم الله بقوله: {وإنَّ جهنَّم لمحيطةٌ بالكافرين}: ليس لهم عنها مَفَرٌّ ولا مناصٌ ولا فكاكٌ ولا خلاصٌ.