تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
لیکن شام تک کے لمبے سفر نے ان کے گھٹنے توڑ دیئے، اس مشقت کے خیال نے ان کے ایمان کمزور کر دیئے، اب یہ آ آ کر جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکہ دے رہے ہیں کہ اگر کوئی عذر نہ ہوتا تو بھلا ہم شرف ہم رکابی چھوڑنے والے تھے، ہم تو جان و دل سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں حاضر ہو جاتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے جھوٹ کا مجھے علم ہے انہوں نے تو اپنے آپ کو غارت کر دیا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لو كان}: خروجُهم لطلب عرض قريبٍ أو منفعةٍ دنيويَّة سهلة التناول. أو كان السفرُ {سفراً قاصداً}؛ أي: قريباً سهلاً {لاتَّبعوك}: لعدم المشقَّة الكثيرة، {ولكن بَعُدَتْ عليهم الشُّقَّةُ}؛ أي: طالت عليهم المسافة، وصعب عليهم السفر؛ فلذلك تثاقلوا عنك، وليس هذا من أمارات العبوديَّة، بل العبد حقيقةً المتعبِّدُ لربِّه في كلِّ حال، القائم بالعبادة السهلة والشاقَّة؛ فهذا العبد لله على كلِّ حال. {وسيحلفون بالله لو استطعنا لخرجنا معكم}؛ أي: سيحلفون أن تخلفهم عن الخروج أنَّ لهم عذراً، وأنهم لا يستطيعون ذلك، {يُهْلِكون أنفسَهم}: بالقعود والكذب والإخبار بغير الواقع. {والله يعلم إنَّهم لكاذبونَ}.
وهذا العتاب إنما هو للمنافقين، الذين تخلَّفوا عن النبي - صلى الله عليه وسلم - في غزوة تبوك، وأبدوا من الأعذار الكاذبة ما أبدوا، فعفا النبي - صلى الله عليه وسلم - عنهم بمجرَّد اعتذارهم، من غير أن يمتَحِنهم فيتبيَّن له الصادق من الكاذب، ولهذا عاتبه الله على هذه المسارعة إلى عذرهم، فقال: