تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ:} معلوم ہوا کہ توبہ کا قبول ہونا محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے، ورنہ اس پر کسی کا زور نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ کعب بن مالکؓ خود بیان کرتے ہیں کہ جس غزوہ میں بھی نبی اکرم شریک ہوتے ہیں ان کے ساتھ ہوتا بجز دو لڑائیوں کے ایک غزوہ عسرہ (جنگ تبوک) اور دوسری غزوہ بدر۔ جنگ تبوک کے موقع پر میں نے پکی نیت کر لی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت مدینہ تشریف لائیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچ سچ کہہ دوں گا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر جب سفر سے تشریف لاتے تو چاشت کے وقت ہی آتے۔ پہلے مسجد میں جاتے اور دو رکعت نماز ادا کیا کرتے۔ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچ سچ بات بتلا دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو مجھ سے اور میرے (جیسے) دو ساتھیوں (ہلال بن امیہ اور مرارہ بن الربیع) سے بات چیت کرنے سے منع کر دیا۔ ہم تین آدمیوں کے سوا جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے اور (جھوٹے عذر پیش کر رہے تھے) ان کے لیے یہ حکم نہیں دیا۔ اب صحابہ نے ہم سے بات چیت کرنا چھوڑ دی اس حال میں زندگی مجھ پر دوبھر ہو گئی۔ مجھے بڑی فکر یہ تھی کہ اگر میں اسی حال میں مر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے جنازے پر نماز بھی نہیں پڑھیں گے یا (خدا نخواستہ) آپ کی وفات ہو جائے تو میں ساری عمر اسی مصیبت میں مبتلا رہوں گا نہ مجھ سے کوئی بات چیت کرے گا اور اگر مر گیا تو کوئی نماز بھی نہ پڑھے گا۔ آخر (پچاس دن گزرنے کے بعد) اللہ تعالیٰ نے ہماری معافی کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا۔ اس وقت تہائی رات باقی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین ام سلمہؓ کے گھر میں تھے۔ ام سلمہ میری بھلائی کی فکر میں تھیں اور میری مدد کرنا چاہتی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہؓ سے کہا ”ام سلمہ! کعب بن مالک کی توبہ قبول ہو گئی۔“ تو انہوں نے کہا ”میں کعب کو مبارک باد کہلا بھیجوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگ ہجوم کر آئیں گے اور تمہاری نیند خراب کر دیں گے۔“ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی تو لوگوں کو ہماری توبہ قبول ہونے کی خبر دی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کوئی اچھی خبر ملتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ یوں چمکنے لگتا جیسے چاند کا ایک ٹکڑا ہے۔ ہم تین آدمیوں کے لیے، جن کا معاملہ التواء میں ڈال دیا گیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے معافی کا حکم اتارا اور باقی جن لوگوں نے جھوٹے بہانے تراشے تھے ان کا ذکر بری طرح کیا گیا۔ اتنا برا ذکر اللہ نے اور کسی کا نہیں کیا۔ فرمایا ”جب تم ان کے پاس واپس آؤ گے تو وہ آپ کے سامنے معذرت شروع کر دیں گے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے: بہانے نہ بناؤ، ہم تمہاری باتوں پر یقین نہیں کریں گے۔ کیونکہ اللہ نے ہمیں تمہارے حالات بتلا دیئے ہیں۔ اور آئندہ بھی اللہ اور اس کا رسول تمہارے کام دیکھ لیں گے۔“ تا آخر (آیت نمبر 94) [بخاري كتاب التفسير]
2۔ سیدنا کعب بن مالکؓ ان تین آدمیوں میں سے تھے جو جنگ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے اور ان کا معاملہ التواء میں ڈال دیا گیا تھا۔ کعب بن مالکؓ آخر عمر میں نابینا ہو گئے تھے اور ان کے بیٹے عبد اللہ بن کعب انہیں لے کر چلا کرتے تھے۔ عبد اللہ بن کعب کہتے ہیں کہ جب کعب اپنا قصہ بیان کرتے تو فرمایا کرتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ”میں اپنی توبہ کے قبول ہونے کے شکریہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لیے صدقہ کرتا ہوں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں تھوڑا سا مال اپنے لیے بھی رکھ لو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔“ [بخاري۔ كتاب التفسير]
پہلی حدیث میں چند اہم باتیں مذکور نہیں جو دوسری احادیث میں مذکور ہیں اور وہ یہ ہیں:
1۔ سیدنا کعبؓ فرماتے ہیں کہ جن دنوں میرے ساتھ صحابہ کی گفتگو بند کی گئی تھی انہی دنوں میں شام کے عیسائیوں میں سے مجھے ایک شخص ملا اور اس نے شاہ غسان کا حریر میں لپٹا ہوا خط مجھے دیا۔ اس خط میں لکھا تھا کہ ”ہم نے سنا ہے کہ تمہارے صاحب نے تم پر تشدد کیا ہے۔ تم ایسے حقیر آدمی نہیں جسے ضائع کیا جائے۔ اگر تم ہمارے پاس آجاؤ تو ہم تمہاری پوری پوری قدر کریں گے۔“ میں نے یہ خط پڑھ کر سمجھ لیا کہ یہ ایک اور آزمائش مجھ پر نازل ہوئی ہے چنانچہ میں نے اس خط کو فوراً چولہے میں جھونک دیا۔
2۔ جب چالیس دن اسی حالت میں گزر گئے تو ہم تینوں کو حکم ہوا کہ ہم اپنی بیویوں سے بھی الگ رہیں۔ میں نے پوچھا ”طلاق دے دوں؟“ جواب ملا ”نہیں بس الگ رہو۔“ ہلال بن امیہ کی بیوی آپ کے پاس گئی اور کہنے لگی کہ ہلال بن امیہ نہایت کمزور ہے اور وہ اکیلا نہیں رہ سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے خاوند کے پاس رہنے کی اجازت دے دی صحبت وغیرہ کی اجازت نہیں دی۔ مگر میں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تم اپنے میکے چلی جاؤ۔ اور انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس معاملہ کا فیصلہ کر دے۔
3۔ مزید دس دن یعنی کل پچاس دن گزر جانے کے بعد ہم لوگوں کی اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول کر لی۔ اللہ تعالیٰ نے ان مخلص صحابہ کا جو کڑا امتحان لیا تھا اس میں وہ پورے اترے۔ پھر اللہ نے نہایت شفقت بھرے الفاظ میں ان کی صرف توبہ ہی قبول نہیں فرمائی بلکہ اگلی آیت میں ان کی سچائی، راست بازی اور وفاداری کی تعریف بھی فرمائی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کہتے ہیں کہ جنگ تبوک کے موقع پر میرے والد کے رہ جانے کا واقعہ خود کی زبانی یہ ہے کہ فرماتے ہیں ”میں اس کے سوا کسی اور غزوے میں پچھے نہیں رہا۔ ہاں غزوہ بدر کا ذکر نہیں، اس میں جو لوگ شامل نہیں ہوئے تھے، ان پر کوئی سرزنش نہیں ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو قافلے کے ارادے سے چلے تھے لیکن وہاں اللہ کی مرضی سے قریش کے جنگی مرکز سے لڑائی ٹھہر گئی۔ تو چونکہ یہ لڑائی بیخبری میں ہوئی اس لیے میں اس میں حاضر نہ ہو سکا، اس کے بجائے الحمداللہ میں لیلۃالعقبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ تھا جب کہ ہم نے اسلام پر موافقت کی تھی۔ اور میرے نزدیک تو یہ چیز بدر سے بھی زیادہ محبوب ہے گو بدر کی شہرت لوگوں میں بہت زیادہ ہے۔
اچھا اب غزوہ تبوک کی غیر حاضری کا واقعہ سنئے۔ اس وقت مجھے جو آسانی اور قوت تھی وہ اس سے پہلے کبھی میسر نہ آئی تھی۔ اس وقت میرے پاس دو اونٹنیاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس غزوے میں جاتے توریہ کرتے یعنی ایسے الفاظ کہتے کہ لوگ صاف مطلب نہ سمجھیں۔ لیکن چونکہ اس وقت موسم سخت گرم تھا، سفر بہت دور دراز کا تھا، دشمن بڑی تعداد میں تھا، پس آپ نے مسلمانوں کے سامنے اپنا مقصد صاف صاف واضح کر دیا کہ وہ پوری پوری تیاری کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت مسلمانوں کی تعداد بھی اتنی زیادہ تھی کہ رجسٹر میں ان کے نام نہ آ سکے۔ پس کوئی بازپرس نہ تھی جو بھی چاہتا کہ میں رک جاؤں وہ رک سکتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا رکنا مخفی رہ سکتا تھا۔
یہاں تک کہ یوں ہی صبح شام، صبح شام آج کل آج کل کرتے کوچ کا دن آ گیا اور لشکر اسلام بجانب تبوک چل پڑا میں نے کہا کوئی بات نہیں ایک دو دن میں میں بھی پہنچتا ہوں۔ یونہی آج کا کام کل پر ڈالا اور کل کا پرسوں پر یہاں تک کہ لشکر دور جا پہنچا۔ گرے پڑے لوگ بھی چل دیئے۔ میں نے کہا خیر چلے گئے اور کئی دن ہو گئے تو کیا ہوا میں تیز چل کر جا ملوں گا؟ لیکن افسوس کہ یہ بھی مجھ سے نہ ہو سکا۔ ارادوں ہی ارادوں میں رہ گیا۔
اب تو یہ حالت تھی میں بازاروں میں نکلتا تو مجھے سوائے منافقوں اور بیمار لولے لنگڑے اندھے مریضوں اور معذور لوگوں کے اور کوئی نظر نہ آتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک پہنچ کر مجھے یاد فرمایا کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کیا کیا؟ اس پر بنو سلمہ کے ایک شخص نے کہا: ”اسے تو اچھے کپڑوں اور جسم کی راحت رسانی نے روک رکھا ہے۔“ یہ سن کر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ یہ درست نہیں فرما رہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا خیال تو کعب کی نسبت بہتر ہی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے۔
جب مجھے معلوم ہوا کہ اب آپ لوٹ رہے ہیں تو میرا جی بہت ہی گھبرایا۔ اور میں حیلے بہانے سوچنے لگا کہ یوں یوں بہانہ بنا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے سے نکل جاؤں گا اپنے والوں سے بھی رائے ملا لوں گا۔
پس میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ جھوٹ نہیں بولوں گا۔صاف صاف سچ سچ بات کہ دوں گا۔ آپ خیر سے تشریف لائے اور حسبِ عادت پہلے مسجد میں آئے، دو رکعت نماز ادا کی اور وہیں بیٹھے اسی وقت اس جہاد میں شرکت نہ کرنے والےآنے لگے اور عذر معذرت کرنے لگے۔ یہ لوگ اسی 80 سے کچھ اوپر تھے۔ آپ ان کی باتیں سنتے اور اندرونی حالت سپرد الہٰ کر کے ظاہری باتوں کو قبول فرما کر ان کے لئے استغفار کرتے۔
میں بھی حاضر ہوا اور سلام کیا۔ آپ نے غصے سے تبسم فرمایا اورر مجھے اپنے پاس بلایا میں قریب آن کر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا: ”تم کیسے رک گئے؟ تم نے سواری بھی خرید لی تھی۔“
میں نے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ کے سوا کسی اور کے پاس میں بیٹھا ہوتا تو بیسیوں باتیں بنا لیتا۔ بولنے میں اور باتیں بنانے میں میں کسی سے پیچھے نہیں ہوں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ اگر آج جھوٹ سچ ملا کر آپ کے غصے سے میں آزاد ہو گیا تو ممکن ہے کل اللہ تعالیٰ آپ کو حقیقت حال سے مطلع فرما دے کر پھر مجھ سے ناراض کر دے۔ اور آج سچ کی بنا پر اگر آپ مجھ سے بگڑیں تو ہو سکتا ہے کہ میری سچائی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے پھر خوش کر دے۔“
میں کھڑا ہو گیا، بنو سلمہ کے چند شخص بھی میرے ساتھ ہی اٹھے اور ساتھ ہی چلے اور مجھ سے کہنے لگے اس سے پہلے تو تم سے کبھی کوئی اس قسم کی خطا نہیں ہوئی۔ لیکن تعجب ہے کہ تو نے کوئی عذر معذرت پیش نہیں کی جیسے کہ اوروں نے کی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تمہارے لیے استغفار کرتے تو تمہیں یہ کافی تھا۔
الغرض کچھ اس طرح یہ لوگ میرے پیچھے پڑے کہ مجھے خیال آنے لگا کہ پھر واپس جاؤں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی پہلی بات کو جھٹلا کر کوئی حیلہ غلط سلط میں بھی پیش کر دوں۔ پھر میں نے پوچھا: ”کیوں جی کوئی اور بھی میرے جیسا اس معاملے میں اور ہے“؟ انہوں نے کہا: ”ہاں دو شخص اور ہیں اور انہیں بھی وہی جواب ملا ہے جو تمہیں ملا ہے۔“ میں نے کہا: ”وہ کون کون ہیں“؟ انہوں نے جواب دیا مرارہ بن ربیع عامری اور حلال بن امیہ واقفی رضی اللہ عنہما۔ ان دونوں صالح اور نیک بدری صحابیوں کا نام جب میں نے سنا تو مجھے پورا اطمینان ہو گیا اور میں گھر چلا گیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تینوں سے کلام کرنے سے مسلمانوں کو روک دیا تھا۔ لوگ ہم سے الگ ہو گئے، کوئی ہم سے بولتا چالتا نہ تھا یہاں تک کہ مجھے تو اپنا وطن پر دیس معلوم ہونے لگا کہ گویا میں یہاں کی کسی چیز سے واقف ہی نہیں ہوں۔ پچاس راتیں ہم پر اسی طرح گزر گئیں۔
وہ دونوں بدری بزرگ تو تھک ہار کر اپنے اپنے مکانوں میں بیٹھ رہے، باہر اندر آنا جانا بھی انہوں نے چھوڑ دیا۔ میں ذرا زیادہ آنے جانے والا اور تیز طبعیت والا تھا۔ نہ میں نے مسجد جانا چھوڑا، نہ بازاروں میں جانا آنا ترک کیا۔ مجھ سے کوئی بولتا نہ تھا۔
نماز کے بعد جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں لوگوں کے مجمع میں تشریف فرما ہوتے تو میں آتا اور سلام کرتا اور اپنے جی میں کہتا کہ میرے سلام کے جواب میں آپ کے ہونٹ ہلے بھی یا نہیں؟ پھر آپ کے قریب ہی کہیں بیٹھ جاتا اور کن انکھیوں سے آپ کو دیکھتا رہتا۔ جب میں نماز میں ہوتا تو آپ کی نگاہ مجھ پر پڑتی لیکن جہاں میں آپ کی طرف التفات کرتا، آپ میری طرف سے منہ موڑ لیتے۔ آخر اس ترک کلامی کی طویل مدت نے مجھے پریشان کر دیا۔
ایک روز میں اپنے چچا زاد بھائی ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ کی دیوار سے کود کر ان کے پاس گیا۔ مجھے ان سے بہت ہی محبت تھی۔ میں نے سلام کیا لیکن واللہ! انہوں نے جواب نہ دیا۔ میں نے کہا: ”ابو قتادہ رضی اللہ عنہ تجھے اللہ کی قسم کیا تو نہیں جانتا میں اللہ، رسول سے محبت رکھتا ہوں“؟ اس نے پھر خاموشی اختیار کی میں نے دوبارہ انہیں قسم دی اور پوچھا وہ پھر بھی خاموش رہے میں نے سہ بارہ انہیں قسم دے کر یہی سوال کیا اس کے جواب میں بھی وہ خاموش رہے اور فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول کو ذیادہ علم ہے۔“ اب تو میں اپنے دل کو نہ روک سکا۔ میری دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور بہت ہی غمگین ہو کر میں پھر دیوار پر چڑھ کر باہر نکل گیا۔
میں بازار جا رہا تھا کہ میں نے شام کے ایک قبطی کو جو مدینہ میں غلہ بیچنے آیا تھا یہ پوچھتے ہوئے سنا کہ کوئی مجھے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا پتہ بتا دے۔ لوگوں نے اسے میری طرف اشارہ کر کے بتا دیا وہ میرے پاس آیا اور مجھے شاہ غسان کا خط دیا۔
میں نے اپنے دل میں سوچا یہ ایک اور مصیبت اور منجانب اللہ آزمائش ہے۔ میں نے تو جا کر چولھے میں اس رقعے کو جلا دیا۔ چالیس راتیں جب گزر چکیں تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد میرے پاس آ رہا ہے اس نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا تم اپنی بیوی سے علیحدہ رہو۔ میں نے پوچھا: ”یعنی کیا طلاق دے دوں یا کیا کروں“؟ اس نے کہا: ”نہیں طلاق نہ دو لیکن ان سے ملو جلو نہیں۔“
میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی یہی پیغام پہنچا۔ میں نے تو اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تم اپنے میکے چلی جاؤ اور وہیں رہو جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس امر کا فیصلہ نہ کر دے۔ ہاں سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے آن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ”میرے خاوند بہت بوڑھے ہیں، کمزور بھی ہیں اور گھر میں کوئی خادم بھی نہیں اگر آپ اجازت دیں تو میں ان کا کام کاج کر دیا کروں۔“ آپ نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ تم سے ملیں نہیں۔“ انہوں نے کہا: ”واللہ! ان میں تو حرکت کی قوت ہی نہیں اور جب سے یہ بات پیدا ہوئی ہے تب سے لے کر آج تک ان کے آنسو تھمے ہی نہیں۔“
مجھ سے بھی میرے بعض دوستوں نے کہا کہ تم بھی اتنی اجازت تو حاصل کر لو جتنی سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کے لیے ملی ہے۔ لیکن میں نے جواب دیا کہ میں اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں کہوں گا۔ اللہ جانے آپ جواب میں کیا ارشاد فرمائیں؟ ظاہر ہے کہ وہ بوڑھے آدمی ہیں اور میں جوان ہوں۔
واللہ! میں اس وقت سجدے میں گڑ پڑا اور سمجھ گیا کہ اللہ عزوجل کی طرف سے قبولیت توبہ کی کوئی خبر آ گئی۔ بات بھی یہی تھی صبح کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر صحابہ سے بیان فرمائی تھی اور یہ سنتے ہی وہ پیدل اور سوار ہم تینوں کی طرف دوڑ پڑے تھے کہ ہمیں خبر پہنچائیں۔
ایک صاحب تو اپنے گھوڑے پر سوار میری طرف خوشخبری لیے ہوئے آ رہے تھے لیکن اسلم کے ایک صاحب نے دوڑ کر پہاڑ پر چڑھ کر باآواز بلند میرا نام لے کر مجھے خوشخبری پہنچائی سوار سے پہلے ان کی آواز میرے کان میں آ گئی۔ جب یہ صاحب میرے پاس پہنچے تو میں نے اپنے پہنے ہوئے دونوں کپڑے انہیں بطور انعام دے دیئے واللہ! اس دن میرے پاس اور کچھ بھی نہ تھا۔
دو کپڑے اور ادھار لے کر میں نے پہنے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے گھر سے نکلا۔ راستے میں جوق در جوق لوگ مجھ سے ملنے لگے اور مجھے میری توبہ کی بشارت مبارکباد دینے لگے۔ کہ کعب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کا تمہاری توبہ کو قبول فرما لینا تمہیں مبارک ہو۔ میں جب مسجد میں پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور دیگر صحابہ بھی حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{و} كذلك لقد تاب [اللهُ] {على الثلاثة الذين خُلِّفوا}: عن الخروج مع المسلمين في تلك الغزوة، وهم كعبُ بن مالك وصاحباه، وقصَّتُهم مشهورةٌ معروفةٌ في الصحاح والسنن. {حتى إذا}: حزنوا حزناً عظيماً، و {ضاقتْ عليهم الأرضُ بما رَحُبَتْ}؛ أي: على سعتها ورحبها، {وضاقت عليهم أنفسُهُم}: التي هي أحبُّ إليهم من كلِّ شيءٍ، فضاق عليهم الفضاء الواسع والمحبوبُ الذي لم تجرِ العادة بالضيق منه، وذلك لا يكون إلا من أمرٍ مزعج بَلَغَ من الشدَّة والمشقَّة ما لا يمكن التعبيرُ عنه، وذلك لأنهم قدَّموا رضا الله ورضا رسوله على كلِّ شيءٍ. {وظنُّوا أن لا مَلْجَأ من الله إلا إليه}؛ أي: تيقَّنوا وعرفوا بحالهم أنه لا يُنْجي من الشدائد ويُلْجَأ إليه إلاَّ الله وحده لا شريك له، فانقطع تعلُّقهم بالمخلوقين، وتعلَّقوا بالله ربِّهم، وفرُّوا منه إليه، فمكثوا بهذه الشدَّة نحو خمسين ليلةً. {ثمَّ تاب عليهم}؛ أي: أذن في توبتهم ووفَّقهم لها، {لِيَتوبوا}؛ أي: لتقعَ منهم فيتوبَ الله عليهم. {إنَّ الله هو التوَّابُ}؛ أي: كثير التوبة والعفو والغفران عن الزلاَّت والنُّقصان ، {الرحيمُ}: وَصْفُهُ الرحمة العظيمة التي لا تزال تَنْزِلُ على العباد في كلِّ وقت وحينٍ، في جميع اللحظات ما تقوم به أمورُهم الدينيَّة والدنيويَّة.
وفي هذه الآيات دليلٌ على أن توبة الله على العبد أجلُّ الغايات وأعلى النهايات؛ فإنَّ اللَّه جعلها نهاية خواصِّ عباده، وامتنَّ عليهم بها حين عملوا الأعمال التي يحبُّها ويرضاها.
ومنها: لطف الله بهم، وتثبيتهم في إيمانهم عند الشدائد والنوازل المزعجة.
ومنها: أنَّ العبادة الشاقَّة على النفس لها فضلٌ ومزيَّة ليست لغيرها، وكلَّما عظُمت المشقة؛ عظم الأجر.
ومنها: أن توبة الله على عبده بحسب ندمِهِ وأسفِهِ الشديد، وأنَّ من لا يبالي بالذنب ولا يُحْرَجُ إذا فعله؛ فإنَّ توبته مدخولةٌ، وإنْ زَعَمَ أنَّها مقبولةٌ.
ومنها: أنَّ علامة الخير وزوال الشدَّة إذا تعلَّق القلب بالله تعالى تعلُّقاً تامًّا وانقطع عن المخلوقين.
ومنها: أنَّ من لطف الله بالثلاثة أنْ وَسَمَهم بوسم ليس بعارٍ عليهم، فقال: {خُلِّفوا}؛ إشارةً إلى أن المؤمنين خَلَّفوهم أو خُلِّفوا عن مَنْ بُتَّ في قَبول عذرِهم أو في ردِّه، وأنهم لم يكن تخلُّفهم رغبةً عن الخير، ولهذا لم يقلْ: تَخَلَّفوا.
ومنها: أن الله تعالى منَّ عليهم بالصدق، ولهذا أمر بالاقتداء بهم، فقال: