لَا تَقُمۡ فِیۡہِ اَبَدًا ؕ لَمَسۡجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقۡوٰی مِنۡ اَوَّلِ یَوۡمٍ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِیۡہِ ؕ فِیۡہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّتَطَہَّرُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُطَّہِّرِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾
اس میں کبھی کھڑے نہ ہونا۔ یقینا وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی زیادہ حق دار ہے کہ تو اس میں کھڑا ہو۔ اس میں ایسے مرد ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ بہت پاک رہیں اور اللہ بہت پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
En
تم اس (مسجد) میں کبھی (جاکر) کھڑے بھی نہ ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا (اور نماز پڑھایا) کرو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو کہ پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور خدا پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے
En
آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں۔ البتہ جس مسجد کی بنیاد اول دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے وه اس ﻻئق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں، اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وه خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 108) ➊ {لَا تَقُمْ فِيْهِ اَبَدًا:} اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک تو یہ کہ آپ اس میں کبھی نماز نہ پڑھیں، کیونکہ قیام نماز کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسا کہ حدیث ہے: [مَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِيْمَانًا] دوسرا یہ کہ نماز تو دور کی بات ہے آپ کبھی اس مسجد میں جا کر کھڑے بھی نہ ہوں، کیونکہ اس میں ان کی عزت افزائی ہو گی، جیسا کہ آپ کو منافقین کا جنازہ پڑھنے اور ان کی قبروں پر کھڑے ہونے سے بھی منع فرمایا: «{ وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ }» [التوبۃ: ۸۴] چنانچہ آپ نے راستے ہی سے آدمی بھیج کر اس مسجد کو جلوا کر مسمار کروا دیا۔
➋ { لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ …:} اس مسجد سے کون سی مسجد مراد ہے؟ سیاق و سباق سے واضح طور پر مسجد قبا ہی معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اس کی بنیاد مسجد ضرار کے برعکس پہلے دن ہی سے اللہ کے تقویٰ اور اس کی رضا کے حصول پر رکھی گئی تھی اور اس کی خاص فضیلت بھی صحیح احادیث میں آئی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد قبا میں نماز عمرہ کی طرح ہے۔“ [ترمذی، الصلاۃ، باب ما جاء فی مسجد قباء: ۳۲۴، عن أسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ] عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتہ کے دن مسجد قبا میں سوار ہو کر یا پیدل آیا کرتے تھے اور اس میں دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ [مسلم، الحج، باب فضل مسجد قباء…: ۱۳۹۹]
صحیح بخاری میں ہجرت سے متعلق طویل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے موقع پر پہلے بنوعمرو بن عوف میں دس سے کچھ زیادہ راتیں ٹھہرے اور اس مسجد کی بنیاد رکھی جو «{ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ }» ہے اور آپ نے اس میں نماز پڑھی، پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور لوگوں کے ساتھ چلتے ہوئے آگے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ اونٹنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مسجد کے پاس بیٹھ گئی جو مدینہ میں ہے اور وہ سہل اور سہیل رضی اللہ عنھما کی کھجوریں سکھانے کی جگہ تھی۔ [بخاری، مناقب الأنصار، باب ہجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم و أصحابہ إلی المدینۃ: ۳۹۰۶] اس سے بھی ظاہر ہے کہ اس سے مراد مسجد قبا ہے، مگر بعض احادیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مصداق مسجد نبوی کو قرار دیا، چنانچہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمیوں کی اس مسجد کے بارے میں بحث ہو گئی کہ وہ کون سی مسجد ہے جو «{ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ }» ہے۔ ایک نے کہا، وہ مسجد قبا ہے۔ دوسرے نے کہا، وہ مسجد رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، یعنی مسجد نبوی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میری یہ مسجد (مسجد نبوی) ہے۔“ [ترمذی، تفسیر القرآن، سورۃ التوبۃ: ۳۰۹۹] اس کی سند بھی صحیح ہے اور احمد، مسلم اور نسائی میں مذکور احادیث میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسجد نبوی ہی قرار دیا ہے۔ اہل علم نے فرمایا، ان دونوں حدیثوں میں کوئی تضاد نہیں، کیونکہ دونوں مسجدوں کی بنیاد پہلے دن ہی سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اور آپ کا مسجد نبوی کی صراحت کرنا اس لیے تھا کہ کوئی شخص یہ نہ سمجھ لے کہ پہلے دن سے تقویٰ پر بنیاد صرف مسجد قبا کی رکھی گئی ہے، بلکہ واضح فرمایا کہ مسجد نبوی کی بنیاد بھی پہلے دن ہی سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اور وہ بالاولیٰ اس آیت کی مصداق ہے۔
➌ ہر وہ مسجد جس کی بنیاد مسلمانوں کو نقصان پہنچانے یا تفریق ڈالنے کے لیے رکھی جائے، اس میں نماز جائز نہیں اور اسے ڈھا دینا لازم ہے اور ایک مسجد کے ساتھ ہی دوسری مسجد بنانا درست نہیں، الا یہ کہ آبادی زیادہ ہو جو ایک مسجد میں نماز نہ پڑھ سکیں۔ اسی طرح کوئی بھی مسجد جس کے بنانے والوں نے اس کی بنیاد ہی مشرکانہ عقائد پھیلانے اور توحید اور اہل توحید و سنت کی عداوت اور مخالفت کے لیے رکھی ہو اور اس میں قبر بنا دی ہو یا شرکیہ کلمات لکھے ہوں، اس میں بھی نماز پڑھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ہاں، جس مسجد کی بنیاد پوری بستی نے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نماز ہی کے لیے رکھی ہو بعد میں کوئی مشرکانہ عقیدے والا اس میں شرک کی کوئی علامت نمایاں کر دے، جسے ختم کرنے پر آدمی قدرت نہ رکھتا ہو، یا کوئی قدیم مسجد جس کے متعلق معلوم نہ ہو کہ اس کے بنانے والے نے اس کی بنیاد مشرکانہ عقیدے پر رکھی ہے، وہاں نماز پڑھنا جائز ہے، کیونکہ اس کی بنیاد تقویٰ پر ہے، جیسا کہ مشرکین نے کعبہ کے اندر اور اردگرد بت رکھ دیے تھے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ سے پہلے اس میں نماز پڑھتے اور طواف کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ قوت عطا فرمائے تو ان مساجد کو شرک کے مظاہر و علامات سے پاک کر دیا جائے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔
مسلمانوں کے زوال کے اسباب میں سے بہت بڑا سبب ان کی باہمی تفریق ہے، اس لیے تمام کفار اور منافقین اسے زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ وہ تفریق صوفیانہ فرقوں کی ہو یا فقہی فرقوں کی، یا سیاسی فرقوں کی مسلمانوں کی نجات، ترقی اور غلبہ تمام فرقے ختم کرکے صرف کتاب و سنت پر ایک ہو جانے میں ہے۔ ہماری تاریخ میں ایک ایسا دور بھی گزرا ہے کہ حنفی، مالکی، حنبلی اور شافعی چاروں کی الگ مسجدیں، الگ مدرسے، الگ عدالتیں تھیں، حتیٰ کہ عین مسجد حرام میں چار الگ الگ مصلوں پر جماعتیں ہوتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے سلطان عبد العزیز رحمہ اللہ کو جنھوں نے تمام مملکت نجد و حجاز میں اور خانہ کعبہ میں یہ تفریق ختم کرکے سب کو ایک ہی امام پر جمع فرمایا۔ دوسرے ممالک میں ابھی تک ہر فرقے کی الگ الگ مسجدیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو فرقہ بازی چھوڑ کر توحید و سنت پر جمع ہونے کی توفیق عطا فرمائے، جیسا کہ مسلمانوں کا پہلا ایک سو سال کا روشن ترین زمانہ ان فرقوں اور الگ الگ عدالتوں اور مساجد سے پاک تھا اور تمام مسلمانوں کے کتاب و سنت پر متحد ہونے کی وجہ سے پوری دنیا پر ان کا غلبہ تھا۔ یہ تمام فرقے اور جن کے ناموں پر فرقے بنے ہیں سب بعد میں ظہور پذیر ہوئے، خیر القرون میں ان کا نام و نشان بھی نہ تھا۔
➍ { فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا …: ” يَتَطَهَّرُوْا “} اور {” الْمُطَّهِّرِيْنَ “} یہ ”{طَهُرَ } (کرم)“ میں سے باب تفعل یعنی {”تَطَهَّرَ يَتَطَهَّرَ“} کے صیغے ہیں، اس لیے ان کا معنی حروف میں اضافے کی وجہ سے بہت پاک ہونا اور رہنا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آیت: «{ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا وَ اللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ }» اہل قبا کے متعلق اتری، وہ پانی کے ساتھ استنجا کرتے تھے۔“ [أبوداوٗد، الطھارۃ، باب فی الاستنجاء بالماء: ۴۴۔ ترمذی: ۳۱۰۰۔ ابن ماجہ: ۳۵۵، و صححہ الألبانی]
➎ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے بلوغ المرام میں ابن عباس رضی اللہ عنھما کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل قبا سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ تمھاری تعریف کرتا ہے (اس کی کیا وجہ ہے؟) انھوں نے کہا کہ ہم پتھروں کے بعد پانی استعمال کرتے ہیں۔ اس حدیث کی وجہ سے بہت سے لوگ جہاں پانی میسر ہو وہاں بھی پہلے ڈھیلے استعمال کرتے ہیں پھر پانی، جس سے گندگی بھی پھیلتی ہے اور گٹر بھی بند ہوتے ہیں۔ کئی لوگ استنجا خانے سے باہر شلوار ہاتھ میں پکڑ کر ڈھیلے سے پیشاب خشک کر رہے ہوتے ہیں جو نہایت بے ہودہ دکھائی دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اہل قبا کی تعریف اس لیے تھی کہ وہ پانی کے ساتھ استنجا کرتے تھے، پانی کی موجودگی میں ڈھیلے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کسی کو صرف پانی کے ساتھ طہارت سے تسلی نہیں ہوتی تو وہ وسوسے کا مریض ہے۔ یہ حدیث جس میں پتھروں کے بعد پانی کا ذکر ہے، اس کے متعلق خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بلوغ المرام میں فرمایا کہ اسے بزار نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اصل حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں ہے، جسے ابن خزیمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح کہا ہے اور وہ پتھروں کے ذکر کے بغیر ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے {” التلخيص الحبير“} میں اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اسے صرف محمد بن عبد العزیز راوی نے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے۔ اسے ابوحاتم نے ضعیف کہا ہے۔ ہاں استنجا صرف پتھروں سے بھی جائز اور کافی ہے اور اگر کبھی اس کا اتفاق ہو اور اس کے بعد پانی سے مزید صفائی کر لے تو بہتر ہے، ورنہ پانی کی موجودگی میں پتھر استعمال کرنے کی کوئی حدیث صحیح نہیں ہے اور نہ اس کی کوئی ضرورت ہے۔
➋ { لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ …:} اس مسجد سے کون سی مسجد مراد ہے؟ سیاق و سباق سے واضح طور پر مسجد قبا ہی معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اس کی بنیاد مسجد ضرار کے برعکس پہلے دن ہی سے اللہ کے تقویٰ اور اس کی رضا کے حصول پر رکھی گئی تھی اور اس کی خاص فضیلت بھی صحیح احادیث میں آئی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد قبا میں نماز عمرہ کی طرح ہے۔“ [ترمذی، الصلاۃ، باب ما جاء فی مسجد قباء: ۳۲۴، عن أسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ] عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتہ کے دن مسجد قبا میں سوار ہو کر یا پیدل آیا کرتے تھے اور اس میں دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ [مسلم، الحج، باب فضل مسجد قباء…: ۱۳۹۹]
صحیح بخاری میں ہجرت سے متعلق طویل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے موقع پر پہلے بنوعمرو بن عوف میں دس سے کچھ زیادہ راتیں ٹھہرے اور اس مسجد کی بنیاد رکھی جو «{ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ }» ہے اور آپ نے اس میں نماز پڑھی، پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور لوگوں کے ساتھ چلتے ہوئے آگے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ اونٹنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مسجد کے پاس بیٹھ گئی جو مدینہ میں ہے اور وہ سہل اور سہیل رضی اللہ عنھما کی کھجوریں سکھانے کی جگہ تھی۔ [بخاری، مناقب الأنصار، باب ہجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم و أصحابہ إلی المدینۃ: ۳۹۰۶] اس سے بھی ظاہر ہے کہ اس سے مراد مسجد قبا ہے، مگر بعض احادیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مصداق مسجد نبوی کو قرار دیا، چنانچہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمیوں کی اس مسجد کے بارے میں بحث ہو گئی کہ وہ کون سی مسجد ہے جو «{ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ }» ہے۔ ایک نے کہا، وہ مسجد قبا ہے۔ دوسرے نے کہا، وہ مسجد رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، یعنی مسجد نبوی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میری یہ مسجد (مسجد نبوی) ہے۔“ [ترمذی، تفسیر القرآن، سورۃ التوبۃ: ۳۰۹۹] اس کی سند بھی صحیح ہے اور احمد، مسلم اور نسائی میں مذکور احادیث میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسجد نبوی ہی قرار دیا ہے۔ اہل علم نے فرمایا، ان دونوں حدیثوں میں کوئی تضاد نہیں، کیونکہ دونوں مسجدوں کی بنیاد پہلے دن ہی سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اور آپ کا مسجد نبوی کی صراحت کرنا اس لیے تھا کہ کوئی شخص یہ نہ سمجھ لے کہ پہلے دن سے تقویٰ پر بنیاد صرف مسجد قبا کی رکھی گئی ہے، بلکہ واضح فرمایا کہ مسجد نبوی کی بنیاد بھی پہلے دن ہی سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اور وہ بالاولیٰ اس آیت کی مصداق ہے۔
➌ ہر وہ مسجد جس کی بنیاد مسلمانوں کو نقصان پہنچانے یا تفریق ڈالنے کے لیے رکھی جائے، اس میں نماز جائز نہیں اور اسے ڈھا دینا لازم ہے اور ایک مسجد کے ساتھ ہی دوسری مسجد بنانا درست نہیں، الا یہ کہ آبادی زیادہ ہو جو ایک مسجد میں نماز نہ پڑھ سکیں۔ اسی طرح کوئی بھی مسجد جس کے بنانے والوں نے اس کی بنیاد ہی مشرکانہ عقائد پھیلانے اور توحید اور اہل توحید و سنت کی عداوت اور مخالفت کے لیے رکھی ہو اور اس میں قبر بنا دی ہو یا شرکیہ کلمات لکھے ہوں، اس میں بھی نماز پڑھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ہاں، جس مسجد کی بنیاد پوری بستی نے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نماز ہی کے لیے رکھی ہو بعد میں کوئی مشرکانہ عقیدے والا اس میں شرک کی کوئی علامت نمایاں کر دے، جسے ختم کرنے پر آدمی قدرت نہ رکھتا ہو، یا کوئی قدیم مسجد جس کے متعلق معلوم نہ ہو کہ اس کے بنانے والے نے اس کی بنیاد مشرکانہ عقیدے پر رکھی ہے، وہاں نماز پڑھنا جائز ہے، کیونکہ اس کی بنیاد تقویٰ پر ہے، جیسا کہ مشرکین نے کعبہ کے اندر اور اردگرد بت رکھ دیے تھے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ سے پہلے اس میں نماز پڑھتے اور طواف کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ قوت عطا فرمائے تو ان مساجد کو شرک کے مظاہر و علامات سے پاک کر دیا جائے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔
مسلمانوں کے زوال کے اسباب میں سے بہت بڑا سبب ان کی باہمی تفریق ہے، اس لیے تمام کفار اور منافقین اسے زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ وہ تفریق صوفیانہ فرقوں کی ہو یا فقہی فرقوں کی، یا سیاسی فرقوں کی مسلمانوں کی نجات، ترقی اور غلبہ تمام فرقے ختم کرکے صرف کتاب و سنت پر ایک ہو جانے میں ہے۔ ہماری تاریخ میں ایک ایسا دور بھی گزرا ہے کہ حنفی، مالکی، حنبلی اور شافعی چاروں کی الگ مسجدیں، الگ مدرسے، الگ عدالتیں تھیں، حتیٰ کہ عین مسجد حرام میں چار الگ الگ مصلوں پر جماعتیں ہوتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے سلطان عبد العزیز رحمہ اللہ کو جنھوں نے تمام مملکت نجد و حجاز میں اور خانہ کعبہ میں یہ تفریق ختم کرکے سب کو ایک ہی امام پر جمع فرمایا۔ دوسرے ممالک میں ابھی تک ہر فرقے کی الگ الگ مسجدیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو فرقہ بازی چھوڑ کر توحید و سنت پر جمع ہونے کی توفیق عطا فرمائے، جیسا کہ مسلمانوں کا پہلا ایک سو سال کا روشن ترین زمانہ ان فرقوں اور الگ الگ عدالتوں اور مساجد سے پاک تھا اور تمام مسلمانوں کے کتاب و سنت پر متحد ہونے کی وجہ سے پوری دنیا پر ان کا غلبہ تھا۔ یہ تمام فرقے اور جن کے ناموں پر فرقے بنے ہیں سب بعد میں ظہور پذیر ہوئے، خیر القرون میں ان کا نام و نشان بھی نہ تھا۔
➍ { فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا …: ” يَتَطَهَّرُوْا “} اور {” الْمُطَّهِّرِيْنَ “} یہ ”{طَهُرَ } (کرم)“ میں سے باب تفعل یعنی {”تَطَهَّرَ يَتَطَهَّرَ“} کے صیغے ہیں، اس لیے ان کا معنی حروف میں اضافے کی وجہ سے بہت پاک ہونا اور رہنا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آیت: «{ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا وَ اللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ }» اہل قبا کے متعلق اتری، وہ پانی کے ساتھ استنجا کرتے تھے۔“ [أبوداوٗد، الطھارۃ، باب فی الاستنجاء بالماء: ۴۴۔ ترمذی: ۳۱۰۰۔ ابن ماجہ: ۳۵۵، و صححہ الألبانی]
➎ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے بلوغ المرام میں ابن عباس رضی اللہ عنھما کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل قبا سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ تمھاری تعریف کرتا ہے (اس کی کیا وجہ ہے؟) انھوں نے کہا کہ ہم پتھروں کے بعد پانی استعمال کرتے ہیں۔ اس حدیث کی وجہ سے بہت سے لوگ جہاں پانی میسر ہو وہاں بھی پہلے ڈھیلے استعمال کرتے ہیں پھر پانی، جس سے گندگی بھی پھیلتی ہے اور گٹر بھی بند ہوتے ہیں۔ کئی لوگ استنجا خانے سے باہر شلوار ہاتھ میں پکڑ کر ڈھیلے سے پیشاب خشک کر رہے ہوتے ہیں جو نہایت بے ہودہ دکھائی دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اہل قبا کی تعریف اس لیے تھی کہ وہ پانی کے ساتھ استنجا کرتے تھے، پانی کی موجودگی میں ڈھیلے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کسی کو صرف پانی کے ساتھ طہارت سے تسلی نہیں ہوتی تو وہ وسوسے کا مریض ہے۔ یہ حدیث جس میں پتھروں کے بعد پانی کا ذکر ہے، اس کے متعلق خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بلوغ المرام میں فرمایا کہ اسے بزار نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اصل حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں ہے، جسے ابن خزیمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح کہا ہے اور وہ پتھروں کے ذکر کے بغیر ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے {” التلخيص الحبير“} میں اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اسے صرف محمد بن عبد العزیز راوی نے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے۔ اسے ابوحاتم نے ضعیف کہا ہے۔ ہاں استنجا صرف پتھروں سے بھی جائز اور کافی ہے اور اگر کبھی اس کا اتفاق ہو اور اس کے بعد پانی سے مزید صفائی کر لے تو بہتر ہے، ورنہ پانی کی موجودگی میں پتھر استعمال کرنے کی کوئی حدیث صحیح نہیں ہے اور نہ اس کی کوئی ضرورت ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
18۔ 1 یعنی آپ نے وہاں جاکر نماز پڑھنے کا جو وعدہ فرمایا، اس کے مطابق وہاں جاکر نماز نہ پڑھیں چناچہ آپ نہ صرف یہ کہ وہاں نماز نہیں پڑھی بلکہ اپنے چند ساتھیوں کو بھیج کر مسجد گرا دی اور اسے ختم کردیا اس سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ جو مسجد اللہ کی عبادت کی بجائے، مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی غرض سے بنائی جائے، وہ مسجد ضرار ہے، اس کو ڈھا دیا جائے تاکہ مسلمانوں میں تفریق و انتشار پیدا نہ ہو۔ 18۔ 2 اس سے مراد کونسی مسجد ہے ا؟ اس میں اختلاف بعض نے اسے مسجد قبا اور بعض نے مسجد نبوی قرار دیا ہے، سلف کی ایک جماعت دونوں کی قائل رہی ہے۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ آیت سے اگر مسجد قبا مراد ہے تو بعض احادیث میں مسجد نبوی کو مصداق قرار دیا گیا ہے ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اس لئے کہ اگر مسجد قبا کے اندر یہ صفت پائی جاتی ہے کہ اول یوم سے ہی اس کی بنیاد تقوٰی پر رکھی گئی ہے تو مسجد نبوی تو بطریق اولی اس صفت کی حال اور اس کی مصداق ہے۔ 18۔ 3 حدیث میں آتا ہے کہ اس سے مراد اہل قبا ہیں۔ نبی نے ان سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری طہارت کی تعریف فرمائی ہے، تم کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا ڈھیلے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ پانی بھی استعمال کرتے ہیں۔ (بحوالہ ابن کثیر کہ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ ایسی قدیم مسجد میں نماز پڑھنا مستحب ہے جو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی غرض سے تعمیر کی گئی ہوں، نیز صالحین کی جماعت اور ایسے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنا مستحب ہے جو مکمل وضو کرنے اور طہارت و پاکیزگی کا صحیح صحیح اہتمام کرنے والے ہوں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
108۔ (اے نبی)! آپ اس (مسجد ضرار) میں کبھی بھی (نماز کے لئے) کھڑے نہ ہونا۔ وہ مسجد جس کی پہلے دن سے تقویٰ پر بنیاد [121] رکھی گئی تھی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے
[121] تقویٰ پر تعمیر شدہ مسجد کونسی ہے؟
وہ مسجد کونسی تھی اور کیسے حالات میں تعمیر ہوئی؟ اس کی وضاحت کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے اس بات میں جھگڑا کیا کہ وہ کونسی مسجد ہے جس کی پہلے دن سے تقویٰ پر بنیاد رکھی گئی تھی۔ ایک نے کہا وہ مسجد قبا ہے اور دوسرے نے کہا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”وہ یہی میری مسجد ہے۔“ [ترمذي۔ ابواب التفسير]
2۔
1۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے اس بات میں جھگڑا کیا کہ وہ کونسی مسجد ہے جس کی پہلے دن سے تقویٰ پر بنیاد رکھی گئی تھی۔ ایک نے کہا وہ مسجد قبا ہے اور دوسرے نے کہا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”وہ یہی میری مسجد ہے۔“ [ترمذي۔ ابواب التفسير]
2۔
مسجد نبوی کی تعمیر اور بعد میں وسعت:۔
سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے بلند حصہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں اترے آپ چوبیس (اور ایک روایت کے مطابق چودہ) راتیں وہاں رہے۔ پھر بنی نجار کو بلا بھیجا جو تلواریں لٹکائے حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار ہوئے سیدنا ابو بکر صدیقؓ آپ کی خواصی میں اور بنی نجار کے سردار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد تھے۔ یہاں سے چل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابو ایوب کے گھر میں اترے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ جہاں نماز کا وقت آئے وہیں نماز پڑھ لیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیر مسجد کا حکم دیا۔ اور بنی نجار کے سرداروں کو بلا بھیجا اور فرمایا ”تم اپنے اس باغ کی قیمت مجھ سے طے کر لو۔“ وہ کہنے لگے۔ ”نہیں اللہ کی قسم ہم تو اس کی قیمت اللہ تعالیٰ سے ہی لیں گے۔“ اس باغ میں کچھ تو مشرکوں کی قبریں تھیں، کچھ کھنڈر اور کچھ کھجور کے درخت۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو مشرکوں کی قبریں کھود ڈالی گئیں، کھنڈر برابر کیے گئے اور کھجور کے درخت کاٹ کر ان کی لکڑیاں قبلے کی طرف جما دی گئیں۔ اس کے دونوں طرف پتھروں کا پشتہ لگایا۔ صحابہ شعر پڑھ پڑھ کر پتھر ڈھو رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ شعر پڑھتے اور فرماتے:
«اللہم لاخير الا خيرالاٰ خرة»
«فاغفر الانصار والمهاجرة»
(اے اللہ! بھلائی تو وہی ہے جو آخرت کی ہو اے اللہ انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔) [بخاري۔ كتاب الصلوة۔ باب هل ينبش قبور مشركي الجاهليه]
3۔ ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ (مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت) ہم ایک ایک اینٹ اٹھا رہے تھے اور عمارؓ دو دو اینٹیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمارؓ کو دیکھا تو ان کے بدن سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمایا ”افسوس عمارؓ کو باغی جماعت مار ڈالے گی۔ یہ تو انہیں بہشت کی طرف بلائے گا اور وہ اسے دوزخ کی طرف بلائیں گے۔“ چنانچہ عمارؓ کہا کرتے: میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ [بخاري۔ كتاب الصلوة۔ باب التعاون فى بناء المسجد]
4۔ عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد نبوی کچی اینٹ سے بنی ہوئی تھی، چھت پر کھجور کی ڈالیاں اور ستون کھجور کی لکڑی کے تھے۔ سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے (اپنے دور خلافت میں) کچھ نہیں بڑھایا اور سیدنا عمرؓ نے مسجد کو بڑھایا لیکن عمارت ویسی ہی رکھی جیسی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی یعنی اینٹوں اور کھجور کی ڈالیوں کی۔ البتہ کھجور کی لکڑی کے ستون دوبارہ لگائے گئے پھر سیدنا عثمان رضی اللہ نے اسے بدل ڈالا اور بہت بڑھایا اور اس کی دیواریں نقشی پتھر اور گچ سے بنوائیں اور اس کے ستون بھی نقشی پتھر کے تھے اور اس کی چھت ساگوان سے بنوائی۔ [بخاري۔ كتاب الصلوة۔ باب بنيان المسجد]
«اللہم لاخير الا خيرالاٰ خرة»
«فاغفر الانصار والمهاجرة»
(اے اللہ! بھلائی تو وہی ہے جو آخرت کی ہو اے اللہ انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔) [بخاري۔ كتاب الصلوة۔ باب هل ينبش قبور مشركي الجاهليه]
3۔ ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ (مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت) ہم ایک ایک اینٹ اٹھا رہے تھے اور عمارؓ دو دو اینٹیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمارؓ کو دیکھا تو ان کے بدن سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمایا ”افسوس عمارؓ کو باغی جماعت مار ڈالے گی۔ یہ تو انہیں بہشت کی طرف بلائے گا اور وہ اسے دوزخ کی طرف بلائیں گے۔“ چنانچہ عمارؓ کہا کرتے: میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ [بخاري۔ كتاب الصلوة۔ باب التعاون فى بناء المسجد]
4۔ عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد نبوی کچی اینٹ سے بنی ہوئی تھی، چھت پر کھجور کی ڈالیاں اور ستون کھجور کی لکڑی کے تھے۔ سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے (اپنے دور خلافت میں) کچھ نہیں بڑھایا اور سیدنا عمرؓ نے مسجد کو بڑھایا لیکن عمارت ویسی ہی رکھی جیسی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی یعنی اینٹوں اور کھجور کی ڈالیوں کی۔ البتہ کھجور کی لکڑی کے ستون دوبارہ لگائے گئے پھر سیدنا عثمان رضی اللہ نے اسے بدل ڈالا اور بہت بڑھایا اور اس کی دیواریں نقشی پتھر اور گچ سے بنوائیں اور اس کے ستون بھی نقشی پتھر کے تھے اور اس کی چھت ساگوان سے بنوائی۔ [بخاري۔ كتاب الصلوة۔ باب بنيان المسجد]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک قصہ ایک عبرت، مسجد ضرار ٭٭
ان آیات کا سبب نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف سے لانے سے پہلے مدنہ میں قبیلہ خزرج کا آدمی رہتا تھا جس کا نام تھا ابو عامر راہب۔ یہ ایام جاہلیت میں نصرانی ہو گیا تھا اور اہل کتاب کا علم حاصل کر چکا تھا۔ یہ ایام جاہلیت میں ایک عبادت گزار شخص تھا اپنے قبیلے میں اس کو بڑی بزرگی حاصل تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینے تشریف لائے اور مسمانوں کا آپ کے پاس اجتماع ہونے لگا اور اسلام کا بول بالا ہو گیا اور بدر کی لڑائی میں بھی اللہ تعالیٰ نے مسمانوں کو غالب رکھا تو ابو عامر پر یہ بات بہت شاق گزری اور کھلم کھلا عداوت ظاہر کرنے لگا اور مدینہ سے بھاگ کر کفار اور مشرکین مکہ سے جا ملا اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے پر مائل کرتا تھا اب عرب کے سارے قبیلے اکٹھے ہو گئے اور جنگ احد کے لئے پیش قدمی کی نتیجہ مسلمانوں کو جو ضرر پہنچا اللہ عزوجل نے اس جنگ مین مسلمانوں کا امتحان لیا دنیا نہ سہی لیکن عاقبت تو متقین کے لئے ہے۔ اس فاسق نے دونوں طرف کی صفوں کے درمیان کئی گڑھے کھود رکھے تھے ان میں سے ایک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑے آپ کو مضرت پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہو گیا نیچے کی طرف سے سامنے کے چار دانت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹوٹ گئے۔ سر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زخمی ہو گیا۔ ابو عامر نےشروع جنگ میں اپنی قوم انصار کی طرف بڑھ کر انہیں مخاطب کیا اور انہیں اپنی مدد اور اپنی موافقت کی دعوت دی۔
جب انصار نے ابو عامر کی یہ حرکت دیکھی تو کہنے لگے کہ اے فاسق اے عدو اللہ! اللہ تجھے برباد کرے اور اس کو گالیاں دیں اس کی عزت ریزی کی۔ اب وہ یہ کہتا ہوا واپس ہو گیا کہ میرے بعد میری قوم تو اور بگڑ گئی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فرار ہونے سے پہلے اس کو دعوت اسلام دی تھی اور قرآن کی وحی سے سنائی تھی، لیکن اسلام لانے سے اس نے انکار کیا اور سر کشی اختیار کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بد دعا کی کہ کم بخت جلا وطنی اور پردیسی موت مرے۔ چنانچہ یہ بد دعا اس پر کارگر ہوئی اور یہ بات اس طرح وقوع پذیر ہوئی کہ لوگ جب جنگ احد سے فارغ ہوئے تو اس نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تو بول بالا ہو رہا ہے۔ اسلام بڑھتا چلا جا رہا ہے تو وہ ملک روم ہرقل کے پاس گیا اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بر خلاف مدد مانگی۔ اس نے وعدہ کیا۔ اس نے اپنی امیدیں کامیاب ہوتی دیکھیں تو ہرقل کے پاس ٹھہر گیا اور اپنی قوم انصار میں سے ان لوگوں کو مکہ بھیجا جو اہل نفاق تھے کہ لشکر لے کر آ رہا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوب جنگ ہو گئی، ان پر غالب آ جاؤں گا اور انہیں اپنی اسلام سے پہلے کی سابقہ حالت پر آنا ہو گا اور ان اہل نفاق کو حکم بھیجا کہ اس کے لئے پناہ کی جگہ بنائے رکھو اور میرے احکام اور مراسلے جو لے کر آیا کریں ان کے لئے قیامگاہ اور مآمن بنائے رکھو تا کہ اس کے بعد جب وہ خود آئے تو اس کے لئے کمین گاہ کا کام دے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فرار ہونے سے پہلے اس کو دعوت اسلام دی تھی اور قرآن کی وحی سے سنائی تھی، لیکن اسلام لانے سے اس نے انکار کیا اور سر کشی اختیار کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بد دعا کی کہ کم بخت جلا وطنی اور پردیسی موت مرے۔ چنانچہ یہ بد دعا اس پر کارگر ہوئی اور یہ بات اس طرح وقوع پذیر ہوئی کہ لوگ جب جنگ احد سے فارغ ہوئے تو اس نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تو بول بالا ہو رہا ہے۔ اسلام بڑھتا چلا جا رہا ہے تو وہ ملک روم ہرقل کے پاس گیا اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بر خلاف مدد مانگی۔ اس نے وعدہ کیا۔ اس نے اپنی امیدیں کامیاب ہوتی دیکھیں تو ہرقل کے پاس ٹھہر گیا اور اپنی قوم انصار میں سے ان لوگوں کو مکہ بھیجا جو اہل نفاق تھے کہ لشکر لے کر آ رہا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوب جنگ ہو گئی، ان پر غالب آ جاؤں گا اور انہیں اپنی اسلام سے پہلے کی سابقہ حالت پر آنا ہو گا اور ان اہل نفاق کو حکم بھیجا کہ اس کے لئے پناہ کی جگہ بنائے رکھو اور میرے احکام اور مراسلے جو لے کر آیا کریں ان کے لئے قیامگاہ اور مآمن بنائے رکھو تا کہ اس کے بعد جب وہ خود آئے تو اس کے لئے کمین گاہ کا کام دے۔
چنانچہ ان منافقین نے مسجد قباء کے قریب ہی ایک اور مسجد بنا ڈالی، اس کی تعمیر کردی اس کو پختہ کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تبوک سے بکلنے سے پہلے اس کام سے فارغ بھی ہو لئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ درخواست کے کر آئے کہ آپ ہمارے پاس آئیے ہماری مسجد میں نماز پڑھئے تاکہ اس بات کی سند ہو سکے کہ یہ مسجد اپنی جگہ قابل استقرار اور قابل اثبات ہے۔ اور آپ کے سامنے یہ بیان کیا کہ ضعیفوں اور کمزوروں کی خاطر یہ مسجد بنائی گئی ہے اور سردی کی راتوں میں جو بیمار لوگ دور مسجد میں نہیں جا سکتے ان کے لئے آسانی کی غرض ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسجد میں نماز پڑھنے سے بچانا چاہتا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیں اس وقت سفر در پیش ہے جب ہم واپس ہوں گے اور اللہ نے چاہا تو دیکھا جائے گا اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ تبوک سے فارغ ہو کر مدینہ کی طرف واپس ہوئے اور مدینہ تک مسافت جب ایک دن یا دن اس سے کچھ کم رہ گئی تو جبرائیل علیہ السلام مسجد ضرار کی خبر لئے ہوئے آ پہنچے اور منافقین کے اس راز کو ظاہر کر دیا کہ مسجد قبا کے قریب ایک اور مسجد بنانے سے مسلمانوں کی جماعت میں تفریق پیدا کرنے کا مقصد ان کافروں اور منافقوں نے پیش کر رکھا ہے، وہ مسجد قبا ہے جس کی بنیاد اوّل روز سے تقوٰی پر اٹھائی گئی ہے۔ اس علم کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مدینے پہنچنے سے پہلے ہی چند لوگوں کو اس مسجد ضرار کی طرف بھیج دیا کہ اس کو منہدم کر دیا جائے۔
جیسا کہ علی بن ابی طلحہ نے اس آیت کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصار کے لوگ تھے جنہوں نے ایک مسجد بنائی تھی اور ابو عامر نے ان سے کہا کہ تم ایک مسجد بناؤ اور جس قدر بھی تم سے ممکن ہو اس میں ہتھیار جنگ چھپائے رکھو اور اس کو اپنی پناہ اور کمیں گاہ بنائے رہو کیونکہ میں قیصر ملک روم کی طرف جا رہا ہوں، روم سے لشکر لے کر آؤں گا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب کو مدینہ سے نکال دونگا۔ چنانچہ یہ منافقین جب مسجد ضرار بنا کر فارغ ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدنت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ ہم یہ دلی خواہش رکھتے ہیں کہ ایک بار آپ اس مسجد میں آ کر نماز پڑھ لیں اور اس میں ہمارے لئے برکت کی دعا کریں، تو اللہ عزوجل نے یہ وحی نازل فرما دی «لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ، أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ تَقْوَىٰ مِنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَم مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ» [9-التوبة:107-108] تک۔ یعنی ہر گز اس میں نماز نہ پڑھنا یقیناً وہ مسجد جس کی بنیاد اول یوم سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے زیادہ حقدار ہے اس بات کی کہ تم اسی میں نماز پڑھو، اس میں ایسے پاکیزہ لوگ رہتے ہیں کہ پاک دل ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے ہی پاکیزہ دلوں کو پسند کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17201:مرسل]
جیسا کہ علی بن ابی طلحہ نے اس آیت کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصار کے لوگ تھے جنہوں نے ایک مسجد بنائی تھی اور ابو عامر نے ان سے کہا کہ تم ایک مسجد بناؤ اور جس قدر بھی تم سے ممکن ہو اس میں ہتھیار جنگ چھپائے رکھو اور اس کو اپنی پناہ اور کمیں گاہ بنائے رہو کیونکہ میں قیصر ملک روم کی طرف جا رہا ہوں، روم سے لشکر لے کر آؤں گا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب کو مدینہ سے نکال دونگا۔ چنانچہ یہ منافقین جب مسجد ضرار بنا کر فارغ ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدنت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ ہم یہ دلی خواہش رکھتے ہیں کہ ایک بار آپ اس مسجد میں آ کر نماز پڑھ لیں اور اس میں ہمارے لئے برکت کی دعا کریں، تو اللہ عزوجل نے یہ وحی نازل فرما دی «لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ، أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ تَقْوَىٰ مِنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَم مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ» [9-التوبة:107-108] تک۔ یعنی ہر گز اس میں نماز نہ پڑھنا یقیناً وہ مسجد جس کی بنیاد اول یوم سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے زیادہ حقدار ہے اس بات کی کہ تم اسی میں نماز پڑھو، اس میں ایسے پاکیزہ لوگ رہتے ہیں کہ پاک دل ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے ہی پاکیزہ دلوں کو پسند کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17201:مرسل]
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے بھی بالاسناد یہی روایت کی ہے اور محمد بن اسحاق نے بھی بالاسناد یہ روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس ہوئے اور مقام ذی اوان میں فروکش ہوئے۔ مدینہ یہاں سے چند گھنٹوں کی مسافت پر ہے۔ تو اس مسجد ضرار کی خبر اللہ کی طرف سے آپ کو مل گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی سالم کے بھائی مالک بن خشم کو بلایا اور معن بن عدی یا اس کے بھائی عامر بن عدی، غرض ان دونوں کو بلایا اور فرمایا کہ تم دونوں ان ظالموں کی مسجد کی طرف جاؤ اور اس کو منہدم کر دو اور جلا ڈالو۔ یہ دونوں فوراً گئے اور بنی سالم بن عوف کے پاس آئے۔ یہ مالک بن الدخشم کے قبیلہ کے لوگ تھے، اب مالک نے معن سے کہا ٹھہرو! میں اپنے لوگوں میں سے کسی کے پاس سے آگ لے آتا ہوں۔ اب وہ مالک اپنے لوگوں میں آئے۔ درخت کی ایک بڑی سی لکڑی لی اس کو سلگایا اور فوراً نکل کھڑے ہوئے۔ یہ دونوں مسجد پہنچے، مسجد میں یہ کفار موجود تھے، ان دونوں نے مسجد کو جلا دیا اور اس کو گرا دیا۔ لوگ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے اور قرآن کی یہ آیت ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی، «وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا» ۔
یہ لوگ جنھوں نے یہ مسجد ضرار بنائی بارہ افراد تھے خذام بن خالد، اسی کے گھر سے مسجد شقاق کی راہ نکلتی ہے، اور ثعلبہ بن حاطب بنی امیہ کے خادم، اور معتب بن قشیر اور ابو حبیبہ بن الازعر، اور عباد بن حنیف، اور حارثہ بن عامر، اور اس کے دونوں بیٹے مجمع اور زید اور نبتل الحارث، اور مخرج اور بجاد بن عثمان، اور ودیعہ بن ثابت، الو ابو لبابہ کے قبیلہ کے خادم، [تفسیر ابن جریر الطبری:17200] وہ لوگ جنہوں نے اس کو بنایا وہ قسمیں کھا کر کہہ رہے تھے کہ ہم نے تو نیک ارادے سے اس کی بناء ڈالی ہے۔ ہمارے پیش نظر تو صرف لوگوں کی خیر خواہی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ «وَاللَّـهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» اللہ تعالیٰ شہادت دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں یعنی جو انہوں نے قصد کیا اور نیت رکھی ہے، اس میں جھوٹے ہیں۔ محض اس مقصد سے مسجد بنائی ہے کہ مسجد قبا کی ضرر پہنچائیں اور کفر کی اشاعت کریں، مسلمانوں میں تفریق ڈال دیں، اللہ سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کی خاطر کمین گاہ بنائے رکھیں، جہان ان کے مشورے اور کونسل ہوا کرے، وہ شخص ابو عامر وہ فاسق جس کو راہب سمجھا جاتا ہے، اللہ اس پر لعنت کرے۔
یہ لوگ جنھوں نے یہ مسجد ضرار بنائی بارہ افراد تھے خذام بن خالد، اسی کے گھر سے مسجد شقاق کی راہ نکلتی ہے، اور ثعلبہ بن حاطب بنی امیہ کے خادم، اور معتب بن قشیر اور ابو حبیبہ بن الازعر، اور عباد بن حنیف، اور حارثہ بن عامر، اور اس کے دونوں بیٹے مجمع اور زید اور نبتل الحارث، اور مخرج اور بجاد بن عثمان، اور ودیعہ بن ثابت، الو ابو لبابہ کے قبیلہ کے خادم، [تفسیر ابن جریر الطبری:17200] وہ لوگ جنہوں نے اس کو بنایا وہ قسمیں کھا کر کہہ رہے تھے کہ ہم نے تو نیک ارادے سے اس کی بناء ڈالی ہے۔ ہمارے پیش نظر تو صرف لوگوں کی خیر خواہی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ «وَاللَّـهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» اللہ تعالیٰ شہادت دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں یعنی جو انہوں نے قصد کیا اور نیت رکھی ہے، اس میں جھوٹے ہیں۔ محض اس مقصد سے مسجد بنائی ہے کہ مسجد قبا کی ضرر پہنچائیں اور کفر کی اشاعت کریں، مسلمانوں میں تفریق ڈال دیں، اللہ سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کی خاطر کمین گاہ بنائے رکھیں، جہان ان کے مشورے اور کونسل ہوا کرے، وہ شخص ابو عامر وہ فاسق جس کو راہب سمجھا جاتا ہے، اللہ اس پر لعنت کرے۔
[وَ قَوْلُہُ] «لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں نماز پڑھنے سے ممانعت فرما دی۔ نماز نہ پڑھنے میں ان کی تابع ان کی امت بھی ہے چنانچہ مسلمانوں کو بھی تاکید ہے کہ کبھی اس میں نماز نہ پڑھیں۔ پھر یہ مسجد قبا میں نماز پڑھنے پر ابھارا مسجد قبا کی بنیاد شروع ہی سے تقویٰ اطاعت اللہ اور اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہیں یہاں مسلمان مل بیٹھتے ہیں دینی مشورے کرتے ہیں اور یہ اسلام اور اہل اسلام کی پناہ کی جگہ ہے اور اسی کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «مَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ» اور سیاق عبارت مسجد قبا سے متعلق ہے۔ اس لئے حدیث صحیح میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد قبا میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے ثواب کے برابر ہے۔ [سنن ترمذي:324، قال الشيخ الألباني:صحیح] صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا کی طرف سوار ہو کر بھی آتے تھے اور پیادہ بھی۔ [صحیح بخاری:1191] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے بنایا تو آپ کی سب سے پہلے تشریف آواری بن عمرو بن عوف کے پاس تھی اور جہتِ قبلہ جبرائیل علیہ السلام نے معین کی تھی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابوداؤد نے بالاسناد ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب یہ آیت اہل قبا کے بارے میں نازل ہوئی۔ «فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا» [التوبہ: 108] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پانی سے طہارت کرتے تھے، [سنن ابوداود:44، قال الشيخ الألباني:صحیح] چنانچہ ان کی تعریف میں یہ آیت اتری ہ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب متذکرہ بالا آیت اتری تو آپ عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور پوچھا کہ تمھاری وہ کون سی طہارت ہے؟ کہ اللہ عز و جل نے تمھارے لئے جس کی تعریف کی ہے۔
ابوداؤد نے بالاسناد ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب یہ آیت اہل قبا کے بارے میں نازل ہوئی۔ «فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا» [التوبہ: 108] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پانی سے طہارت کرتے تھے، [سنن ابوداود:44، قال الشيخ الألباني:صحیح] چنانچہ ان کی تعریف میں یہ آیت اتری ہ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب متذکرہ بالا آیت اتری تو آپ عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور پوچھا کہ تمھاری وہ کون سی طہارت ہے؟ کہ اللہ عز و جل نے تمھارے لئے جس کی تعریف کی ہے۔
تو عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے جب کوئی مرد یا عورت حاجت سے فارغ ہوتے ہیں تو پانی سے اپنے اندام نہانی کو اچھی طرح دھو لیتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یہی بات ہے۔ [طبرانی کبیر:1065:ضعیف] امام احمد رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا میں تشریف لائے اور کہا کہ نماز کے لئے تمھاری طہارت کی اللہ پاک نے بڑے اچھے الفاظ میں تعریف کی ہے سو وہ تمھاری کون سی طہارت ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو اس کے سوا کوئی علم نہیں کہ یہود ہمارے پڑوسی ہیں اور وہ حاجت سے فارغ ہونے کے بعد پانی سے دھوتے ہیں چنانچہ ہم نے بھی یہی طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔ [مسند احمد:422/3:حسن لغیرہ]
ابن خزیمہ نے اپنی کتاب حدیث میں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تمھاری کس طہارت کی تعریف اللہ پاک نے کی ہے؟ تو کہا کہ ہم طہارت کرنے میں پانی استعمال کرتے ہیں۔ ابن جریر نے کہا کہ آیت «فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ» [9-التوبة:108] جو اتری ہے وہ حاجت کے بعد پانی سے دھونے والوں کی شان میں ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ [بالاسناد] روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا میں آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری طہارت کی بہت اچھی تعریف کی ہے، وہ کیا ہے؟ تو کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تو آیت میں پانی سے طہارت کے احکام پائے ہیں۔ [مسند احمد:6/6:ضعیف][اس میں ایک راوہ عبداللہ بن سلام تھے جو اہل توریت تھے] حدیث صحیح میں وارد ہے کہ مدینے کے اندر جو مسجد نبوی ہ یہی وہ مسجد ہے جس کے لئے ہا گیا کہ تقویٰ پر اس کی بنیاد اٹھی ہوئی ہے۔ اور یہ صحیح بات ہے اس آیت اور اس آیت میں کوئی منافات نہیں کیونکہ جب قبا کی تاسیس اول یوم سے بر بنائے تقویٰ ہے تو بدرجہ اولیٰ مسجد نبوی کو یہ خصوصیت حاصل ہونی چاہیے اسی لئے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسجد تقویٰ کا اساس رکھتی ہے وہ میری یہ مسجد ہے۔ [مسند احمد:116/5:صحیح]
امام احمد رحمہ اللہ نے پھر [بالاسناد] روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو آدمیوں نے اس بارے میں اختلاف کیا کہ اس خصوصیت والی مسجد کونسی ہے؟ تو ایک نے کہا کہ وہ مسجد نبوی ہے اور دوسرے نے کہا کہ وہ مسجد قبا ہے، یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تحقیق کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے یہی میری مسجد مراد ہے۔ [مسند احمد:331/5:صحیح]
ابن خزیمہ نے اپنی کتاب حدیث میں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تمھاری کس طہارت کی تعریف اللہ پاک نے کی ہے؟ تو کہا کہ ہم طہارت کرنے میں پانی استعمال کرتے ہیں۔ ابن جریر نے کہا کہ آیت «فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ» [9-التوبة:108] جو اتری ہے وہ حاجت کے بعد پانی سے دھونے والوں کی شان میں ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ [بالاسناد] روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا میں آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری طہارت کی بہت اچھی تعریف کی ہے، وہ کیا ہے؟ تو کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تو آیت میں پانی سے طہارت کے احکام پائے ہیں۔ [مسند احمد:6/6:ضعیف][اس میں ایک راوہ عبداللہ بن سلام تھے جو اہل توریت تھے] حدیث صحیح میں وارد ہے کہ مدینے کے اندر جو مسجد نبوی ہ یہی وہ مسجد ہے جس کے لئے ہا گیا کہ تقویٰ پر اس کی بنیاد اٹھی ہوئی ہے۔ اور یہ صحیح بات ہے اس آیت اور اس آیت میں کوئی منافات نہیں کیونکہ جب قبا کی تاسیس اول یوم سے بر بنائے تقویٰ ہے تو بدرجہ اولیٰ مسجد نبوی کو یہ خصوصیت حاصل ہونی چاہیے اسی لئے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسجد تقویٰ کا اساس رکھتی ہے وہ میری یہ مسجد ہے۔ [مسند احمد:116/5:صحیح]
امام احمد رحمہ اللہ نے پھر [بالاسناد] روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو آدمیوں نے اس بارے میں اختلاف کیا کہ اس خصوصیت والی مسجد کونسی ہے؟ تو ایک نے کہا کہ وہ مسجد نبوی ہے اور دوسرے نے کہا کہ وہ مسجد قبا ہے، یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تحقیق کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے یہی میری مسجد مراد ہے۔ [مسند احمد:331/5:صحیح]
امام احمد رحمہ اللہ نے پھر [بالاسناد] روایت کی کہ دو آدمی اس خصوصیت والی مسجد کے بارے میں مختلف الرائے تھے ایک مسجد قبا کو اور دوسرا مسجد نبوی کو بتا رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد تقویٰ یہ میری مسجد ہے۔ [مسند احمد:89/3:صحیح] پھر اس کے بعد حدیثیں اسی مضمون کی وارد ہیں، چنانچہ الخراط المدنی نے ابو سلمہ سے پوچھا کہ تم نے اپنے باپ سے مسجد تقویٰ کے بارے میں کیا سنا ہے؟ تو کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تقویٰ کونسی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر کنکریاں زمین سے اٹھائیں اور انہیں مار کر کہا کہ وہ یہی مسجد ہے۔ اس وقت آپ مسجد کے صحن میں اپنی بیوی کے ایک کمرے میں تشریف فرما تھے۔ [صحیح مسلم:1398:صحیح]
پھر وہ کہتے ہیں کہ اس کو مسلم نے بالاسناد حمید الخراط سے روایت کیا ہے کہ خلف اور سلف کی ایک جماعت اسی بات کی قائل ہے کہ وہ مسجد نبوی ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما اور عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے بھی یہی روایت ہے کہ «لَمَسْجِدٌ اُسَّسَ» والی آیت پاک اس بات کی دلیل ہے کہ مساجد قدیمہ میں جن کی اول بنیاد عبادت خاوندی پر اٹھائی گئی ہے نماز پڑھنا مستحب ہے۔ اور اس استحباب کی بھی دلیل ہے کہ جماعت صالحین اور عباد عاملین کے ساتھ نماز پڑھی جائے اور وضو باقاعدہ طور پر مکمل کیا جائے اور نماز میں میلے یا گندے کپڑوں سے بالکل پاک رہا جائے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے [بالاسناد] روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور اس میں سورۃ روم پڑھی، پڑھنے میں آپ کو کچھ شک سا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس ہوئے تو فرمایا قرآن پڑھنے میں کچھ گڑ بڑ ہو جاتی ہے دیکھو تم میں بعض لوگ ایسے ہیں جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں لیکن وضو اچھی طرح نہیں کرتے پس جو ہمارے ساتھ نماز پڑھنا چاہے اس کے چاہیے کہ وضو کامل کیا کرے، وضو میں کوئی خرابی نہ کرنے پائے۔ [مسند احمد:472/3:حسن]
پھر وہ کہتے ہیں کہ اس کو مسلم نے بالاسناد حمید الخراط سے روایت کیا ہے کہ خلف اور سلف کی ایک جماعت اسی بات کی قائل ہے کہ وہ مسجد نبوی ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما اور عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے بھی یہی روایت ہے کہ «لَمَسْجِدٌ اُسَّسَ» والی آیت پاک اس بات کی دلیل ہے کہ مساجد قدیمہ میں جن کی اول بنیاد عبادت خاوندی پر اٹھائی گئی ہے نماز پڑھنا مستحب ہے۔ اور اس استحباب کی بھی دلیل ہے کہ جماعت صالحین اور عباد عاملین کے ساتھ نماز پڑھی جائے اور وضو باقاعدہ طور پر مکمل کیا جائے اور نماز میں میلے یا گندے کپڑوں سے بالکل پاک رہا جائے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے [بالاسناد] روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور اس میں سورۃ روم پڑھی، پڑھنے میں آپ کو کچھ شک سا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس ہوئے تو فرمایا قرآن پڑھنے میں کچھ گڑ بڑ ہو جاتی ہے دیکھو تم میں بعض لوگ ایسے ہیں جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں لیکن وضو اچھی طرح نہیں کرتے پس جو ہمارے ساتھ نماز پڑھنا چاہے اس کے چاہیے کہ وضو کامل کیا کرے، وضو میں کوئی خرابی نہ کرنے پائے۔ [مسند احمد:472/3:حسن]
ذوالکلاع سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت فرمائی تھی، یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حسن طہارت قیام فی العبادت میں آسانی پیدا کرتا ہے اور عبادت کی تتمیم و تکمیل میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ابو العالیہ نے قول پاک «وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ» کے بارے میں کہا کہ پانی سے طہارت کرنا تو بیشک بہت اچھی بات ہے لیکن جن کی طہارت کی اللہ تعالیٰ تعریف فرما رہا ہے وہ گناہوں سے اپنے آپ کو پاک رکھنے والے لوگ ہیں۔ اعمش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس طہارت سے مراد گناہوں سے توبہ اور شرک سے پاکیزگی ہے۔ حدیث میں وارد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل قباء سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جو تمھاری طہارت کی تعریف کی ہے وہ کیسی طہارت ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم پانی سے استنجاء کرتے ہیں۔ حافظ ابوبکر بزار رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ یہ آیت اہل قباء کے بارے میں اتری ہے۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سوال کیا تھا تو کہا تھا کہ ہن پہلے ڈھیلے لیتے تھے پھر پانی سے دھوتے تھے۔ [مجمع الزوائد:1053:ضعیف] اس کو بزار نے روایت کیا ہے۔ اس کو صرف محمد بن عبدالعزیز نے اور ان سے ان کے بیٹے نے روایت کیا ہے۔ میں نے یہاں یہ تصریح اس لئے کر دی ہے کہ یہ چیز اگرچہ فقہاء میں مشہور ہے لیکن اکثر متاخرین اس کو معروف تسلین نہیں کرتے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔