تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
منافقین نے مسلمانوں کے دلوں سے شک دور کرنے کے لیے مسجد بنانے کا بہانہ یہ بنایا کہ ہم نے بیماروں اور کمزوروں کی سہولت کے لیے یہ مسجد بنائی ہے، تاکہ وہ سردی اور بارش میں سہولت سے یہاں نماز پڑھ سکیں اور ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے درخواست کی کہ آپ وہاں چل کر نماز پڑھیں، تاکہ ہمیں برکت حاصل ہو۔ خواہش ان کی یہ تھی کہ آپ کے نماز پڑھنے سے ہماری مسجد تسلیم ہو جائے اور ہم اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ آپ اس وقت تبوک کے لیے روانہ ہو رہے تھے، اس لیے آپ نے فرمایا کہ اللہ نے چاہا تو واپسی پر میں تمھاری مسجد میں آ کر نماز پڑھوں گا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے واپسی پر مدینہ کے بالکل قریب پہنچ گئے تو جبریل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے جن میں اس مسجد ضرار کا پول کھولا گیا اور یہ بھی بتایا گیا کہ یہ لوگ یقینا قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا ارادہ اس مسجد بنانے سے بھلائی کے سوا کچھ نہ تھا، جب کہ اللہ تعالیٰ کی شہادت یہ ہے کہ بلاشک و شبہ یہ لوگ یقینا جھوٹے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فرار ہونے سے پہلے اس کو دعوت اسلام دی تھی اور قرآن کی وحی سے سنائی تھی، لیکن اسلام لانے سے اس نے انکار کیا اور سر کشی اختیار کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بد دعا کی کہ کم بخت جلا وطنی اور پردیسی موت مرے۔ چنانچہ یہ بد دعا اس پر کارگر ہوئی اور یہ بات اس طرح وقوع پذیر ہوئی کہ لوگ جب جنگ احد سے فارغ ہوئے تو اس نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تو بول بالا ہو رہا ہے۔ اسلام بڑھتا چلا جا رہا ہے تو وہ ملک روم ہرقل کے پاس گیا اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بر خلاف مدد مانگی۔ اس نے وعدہ کیا۔ اس نے اپنی امیدیں کامیاب ہوتی دیکھیں تو ہرقل کے پاس ٹھہر گیا اور اپنی قوم انصار میں سے ان لوگوں کو مکہ بھیجا جو اہل نفاق تھے کہ لشکر لے کر آ رہا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوب جنگ ہو گئی، ان پر غالب آ جاؤں گا اور انہیں اپنی اسلام سے پہلے کی سابقہ حالت پر آنا ہو گا اور ان اہل نفاق کو حکم بھیجا کہ اس کے لئے پناہ کی جگہ بنائے رکھو اور میرے احکام اور مراسلے جو لے کر آیا کریں ان کے لئے قیامگاہ اور مآمن بنائے رکھو تا کہ اس کے بعد جب وہ خود آئے تو اس کے لئے کمین گاہ کا کام دے۔
جیسا کہ علی بن ابی طلحہ نے اس آیت کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصار کے لوگ تھے جنہوں نے ایک مسجد بنائی تھی اور ابو عامر نے ان سے کہا کہ تم ایک مسجد بناؤ اور جس قدر بھی تم سے ممکن ہو اس میں ہتھیار جنگ چھپائے رکھو اور اس کو اپنی پناہ اور کمیں گاہ بنائے رہو کیونکہ میں قیصر ملک روم کی طرف جا رہا ہوں، روم سے لشکر لے کر آؤں گا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب کو مدینہ سے نکال دونگا۔ چنانچہ یہ منافقین جب مسجد ضرار بنا کر فارغ ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدنت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ ہم یہ دلی خواہش رکھتے ہیں کہ ایک بار آپ اس مسجد میں آ کر نماز پڑھ لیں اور اس میں ہمارے لئے برکت کی دعا کریں، تو اللہ عزوجل نے یہ وحی نازل فرما دی «لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ، أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ تَقْوَىٰ مِنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَم مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ» [9-التوبة:107-108] تک۔ یعنی ہر گز اس میں نماز نہ پڑھنا یقیناً وہ مسجد جس کی بنیاد اول یوم سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے زیادہ حقدار ہے اس بات کی کہ تم اسی میں نماز پڑھو، اس میں ایسے پاکیزہ لوگ رہتے ہیں کہ پاک دل ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے ہی پاکیزہ دلوں کو پسند کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17201:مرسل]
یہ لوگ جنھوں نے یہ مسجد ضرار بنائی بارہ افراد تھے خذام بن خالد، اسی کے گھر سے مسجد شقاق کی راہ نکلتی ہے، اور ثعلبہ بن حاطب بنی امیہ کے خادم، اور معتب بن قشیر اور ابو حبیبہ بن الازعر، اور عباد بن حنیف، اور حارثہ بن عامر، اور اس کے دونوں بیٹے مجمع اور زید اور نبتل الحارث، اور مخرج اور بجاد بن عثمان، اور ودیعہ بن ثابت، الو ابو لبابہ کے قبیلہ کے خادم، [تفسیر ابن جریر الطبری:17200] وہ لوگ جنہوں نے اس کو بنایا وہ قسمیں کھا کر کہہ رہے تھے کہ ہم نے تو نیک ارادے سے اس کی بناء ڈالی ہے۔ ہمارے پیش نظر تو صرف لوگوں کی خیر خواہی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ «وَاللَّـهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» اللہ تعالیٰ شہادت دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں یعنی جو انہوں نے قصد کیا اور نیت رکھی ہے، اس میں جھوٹے ہیں۔ محض اس مقصد سے مسجد بنائی ہے کہ مسجد قبا کی ضرر پہنچائیں اور کفر کی اشاعت کریں، مسلمانوں میں تفریق ڈال دیں، اللہ سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کی خاطر کمین گاہ بنائے رکھیں، جہان ان کے مشورے اور کونسل ہوا کرے، وہ شخص ابو عامر وہ فاسق جس کو راہب سمجھا جاتا ہے، اللہ اس پر لعنت کرے۔
ابوداؤد نے بالاسناد ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب یہ آیت اہل قبا کے بارے میں نازل ہوئی۔ «فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا» [التوبہ: 108] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پانی سے طہارت کرتے تھے، [سنن ابوداود:44، قال الشيخ الألباني:صحیح] چنانچہ ان کی تعریف میں یہ آیت اتری ہ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب متذکرہ بالا آیت اتری تو آپ عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور پوچھا کہ تمھاری وہ کون سی طہارت ہے؟ کہ اللہ عز و جل نے تمھارے لئے جس کی تعریف کی ہے۔
ابن خزیمہ نے اپنی کتاب حدیث میں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تمھاری کس طہارت کی تعریف اللہ پاک نے کی ہے؟ تو کہا کہ ہم طہارت کرنے میں پانی استعمال کرتے ہیں۔ ابن جریر نے کہا کہ آیت «فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ» [9-التوبة:108] جو اتری ہے وہ حاجت کے بعد پانی سے دھونے والوں کی شان میں ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ [بالاسناد] روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا میں آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری طہارت کی بہت اچھی تعریف کی ہے، وہ کیا ہے؟ تو کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تو آیت میں پانی سے طہارت کے احکام پائے ہیں۔ [مسند احمد:6/6:ضعیف][اس میں ایک راوہ عبداللہ بن سلام تھے جو اہل توریت تھے] حدیث صحیح میں وارد ہے کہ مدینے کے اندر جو مسجد نبوی ہ یہی وہ مسجد ہے جس کے لئے ہا گیا کہ تقویٰ پر اس کی بنیاد اٹھی ہوئی ہے۔ اور یہ صحیح بات ہے اس آیت اور اس آیت میں کوئی منافات نہیں کیونکہ جب قبا کی تاسیس اول یوم سے بر بنائے تقویٰ ہے تو بدرجہ اولیٰ مسجد نبوی کو یہ خصوصیت حاصل ہونی چاہیے اسی لئے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسجد تقویٰ کا اساس رکھتی ہے وہ میری یہ مسجد ہے۔ [مسند احمد:116/5:صحیح]
امام احمد رحمہ اللہ نے پھر [بالاسناد] روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو آدمیوں نے اس بارے میں اختلاف کیا کہ اس خصوصیت والی مسجد کونسی ہے؟ تو ایک نے کہا کہ وہ مسجد نبوی ہے اور دوسرے نے کہا کہ وہ مسجد قبا ہے، یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تحقیق کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے یہی میری مسجد مراد ہے۔ [مسند احمد:331/5:صحیح]
پھر وہ کہتے ہیں کہ اس کو مسلم نے بالاسناد حمید الخراط سے روایت کیا ہے کہ خلف اور سلف کی ایک جماعت اسی بات کی قائل ہے کہ وہ مسجد نبوی ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما اور عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے بھی یہی روایت ہے کہ «لَمَسْجِدٌ اُسَّسَ» والی آیت پاک اس بات کی دلیل ہے کہ مساجد قدیمہ میں جن کی اول بنیاد عبادت خاوندی پر اٹھائی گئی ہے نماز پڑھنا مستحب ہے۔ اور اس استحباب کی بھی دلیل ہے کہ جماعت صالحین اور عباد عاملین کے ساتھ نماز پڑھی جائے اور وضو باقاعدہ طور پر مکمل کیا جائے اور نماز میں میلے یا گندے کپڑوں سے بالکل پاک رہا جائے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے [بالاسناد] روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور اس میں سورۃ روم پڑھی، پڑھنے میں آپ کو کچھ شک سا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس ہوئے تو فرمایا قرآن پڑھنے میں کچھ گڑ بڑ ہو جاتی ہے دیکھو تم میں بعض لوگ ایسے ہیں جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں لیکن وضو اچھی طرح نہیں کرتے پس جو ہمارے ساتھ نماز پڑھنا چاہے اس کے چاہیے کہ وضو کامل کیا کرے، وضو میں کوئی خرابی نہ کرنے پائے۔ [مسند احمد:472/3:حسن]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
كان أناسٌ من المنافقين من أهل قُباء اتَّخذوا مسجداً إلى جنب مسجد قباء يريدون به المضارَّة والمشاقَّة بين المؤمنين، ويُعِدُّونه لمن يرجونه من المحاربين لله ورسوله؛ يكون لهم حصناً عند الاحتياج إليه، فبيَّن تعالى خِزْيَهم، وأظهر سِرَّهم، فقال: {والذين اتَّخذوا مسجداً ضراراً}؛ أي: مضارَّة للمؤمنين ولمسجدهم الذي يجتمعون فيه، {وكفراً}؛ أي: مقصدهم فيه الكفر إذا قصد غيرهم الإيمان، {وتفريقاً بين المؤمنين}؛ أي: ليتشعبوا ويتفرَّقوا ويختلفوا، {وإرصاداً}؛ أي: إعداداً {لمن حارب الله ورسوله مِن قبلُ}؛ أي: إعانة للمحاربين لله ورسوله، الذين تقدَّم حرابهم واشتدَّت عداوتهم، وذلك كأبي عامر الراهب، الذي كان من أهل المدينة، فلما قدم النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - وهاجر إلى المدينة؛ كفر به، وكان متعبِّداً في الجاهلية، فذهب إلى المشركين يستعين بهم على حرب رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، فلما لم يدرك مطلوبه عندهم؛ ذهب إلى قيصر بزعمه أنه ينصره، فهلك اللعين في الطريق، وكان على وعدٍ وممالئة هو والمنافقون، فكان مما أعدُّوا له مسجد الضِّرار، فنزل الوحي بذلك، فبعث إليه النبي - صلى الله عليه وسلم - من يهدمه ويحرقه ، فهُدم، وحُرق، وصار بعد ذلك مزبلةً.
قال تعالى بعد ما بيَّن من مقاصدهم الفاسدة في ذلك المسجد: {ولَيَحْلِفُنَّ إن أردْنا} في بنائنا إيَّاه {إلا الحسنى}؛ أي: الإحسان إلى الضعيف والعاجز والضرير. {والله يشهدُ إنَّهم لكاذبونَ}: فشهادة الله عليهم أصدق من حلفهم.