وَ السّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ وَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ تَحۡتَہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۱۰۰﴾
اور مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے سب سے پہلے لوگ اور وہ لوگ جو نیکی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
En
جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے
En
اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وه سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 100) ➊ {وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ …:} مدینہ کے اندر رہنے والے منافقین کے ذکر کے بعد اس کے اردگرد رہنے والے بعض اعراب منافقین کا ذکر فرمایا، پھر بعض اعراب مومنوں کے اخلاص کا ذکر فرمایا اور انھیں اپنی رحمت کی خوش خبری سنائی، اب ان سے اعلیٰ مراتب والے خوش نصیبوں کا تذکرہ ہے۔ چنانچہ اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے تین گروہوں کی تعریف فرمائی ہے، پہلا گروہ مہاجرین میں سے سبقت کرنے والے پہلے لوگ۔ ان کی تعیین میں مفسرین سے مختلف اقوال منقول ہیں، وہ لوگ جنھوں نے مکہ میں اپنی جائدادیں، گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر ہجرت کی، بعض نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھنے والے، بعض نے بدری صحابہ، بعض نے بیعت رضوان تک والے اور بعض نے فتح مکہ تک والے صحابہ مراد لیے ہیں۔ بہرحال ان سب کو دوسروں پر یقینا ایک قسم کی سبقت حاصل ہے۔ دوسرا گروہ انصار میں سے سابقون وہ ہیں جنھوں نے مدینہ سے آکر ۱۱ نبوی میں مکہ میں حج کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر پہلی بیعت عقبہ کی۔ یہ سات افراد تھے، دوسری بیعت عقبہ جو ۱۲ نبوی میں ہوئی اس میں ستر (۷۰) آدمی اور دو خواتین شامل تھیں، پھر وہ جو ان کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ ہجرت سے پہلے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے، پھر وہ سب اہل مدینہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد کے بعد مسلمان ہوئے، ان سب کو درجہ بدرجہ سبقت حاصل ہے۔ تیسرا گروہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے سابقین مہاجرین و انصار کے بعد ایمان لاکر ہجرت یا نصرت کا شرف حاصل کیا، جیسا کہ سورۂ انفال میں مہاجرین و انصار کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا: «{ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ }» [الأنفال: ۷۵] ”اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمھارے ساتھ مل کر جہاد کیا۔“ گویا صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایمان لانے والے اور اس پر استقامت اختیار کرنے والے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اس تیسرے گروہ میں شامل ہیں۔
➋ آلوسی صاحبِ روح المعانی نے فرمایا: ”بہت سے مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ «{ وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَ الْاَنْصَارِ }» سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں، کیونکہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے شرف کی بنا پر بعد والے تمام لوگوں پر سبقت حاصل ہے، جو پھر کسی کو نصیب نہ ہو سکی اور «{ وَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ }» (اور وہ لوگ جو نیکی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے) سے قیامت تک آنے والے وہ تمام مسلمان مراد ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صرف قرآن اور سنت رسول پر اخلاص کے ساتھ عمل کرتے رہے۔“ کیونکہ دوسرے کسی بھی فرقے کے لوگ اپنے امام کی تقلید کا دعویٰ تو کر سکتے ہیں، مگر تمام صحابہ کی اچھے طریقے اور نیکی سے پیروی کا دعویٰ نہیں کر سکتے، کیونکہ صحابہ کا عمل صرف قرآن و سنت پر تھا۔ اس وقت نہ فرقے تھے نہ وہ لوگ جن کے نام پر فرقے بنے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تفسیر بھی بالکل درست ہے، البتہ اس آیت سے صرف اصطلاحی تابعین مراد لینا کہ وہ لوگ جنھوں نے ایمان کی حالت میں صحابہ کی زیارت کی ہو ہر گز درست نہیں، کیونکہ احسان کے ساتھ مہاجرین و انصار کے پیچھے چلنے والے صرف وہی نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے سبھی مسلمان ہیں جن کے اخلاص اور قول و عمل میں احسان پایا جاتا ہے۔ ہاں اصطلاحی تابعین بدرجۂ اولی ان میں شامل ہیں۔
➌ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سب سے افضل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں جو اسلام میں بھی اول ہیں اور ہجرت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں، پھر بالترتیب دوسرے خلفاء رضی اللہ عنھم کے درجے ہیں، ان کے بعد باقی عشرہ مبشرہ جن میں طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید، عبد الرحمن بن عوف اور ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنھم شامل ہیں، پھر بدری اور عقبہ والے صحابہ کا درجہ ہے اور ان کے بعد جو بیعت رضوان میں شریک ہوئے، پھر جو فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہوئے اور ہجرت و نصرت کی۔ صحابہ کی فضیلت کی اس ترتیب پر اہل السنۃ والجماعہ متفق ہیں۔
➍ {رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ:} چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور جنت میں داخلے کی خو ش خبری کی جو وجہ بیان ہوئی ہے، یعنی ہجرت و نصرت وہ دائمی ہے۔ کوئی شخص ان سے یہ اعزاز نہیں چھین سکتا۔ اس لیے اس پر ملنے والی بشارت بھی دائمی اور ہمیشہ کے لیے ہے، لہٰذا ان صحابہ میں سے (العیاذ باللہ) کسی کے مرتد ہونے کا تصور بھی نہیں ہو سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اپنی رضا اور جنت کی خوش خبری دے ہی نہیں سکتا جس کے متعلق اسے علم ہو کہ اس نے مرتد ہو جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جس طرح گزشتہ اور موجودہ حالات کا مکمل علم ہے آئندہ آنے والی ہر بات کا بھی اسی طرح مکمل علم ہے۔ وہ کفر پر مرنے والوں کو جنت اور رضا کی بشارت کیسے دے سکتا ہے؟ پھر کتنے بدبخت اور لعنتی ہیں وہ لوگ جو ان حضرات کے خلاف عموماً اور ان میں سے افضل ترین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین ہستیوں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات امہات المومنین رضی اللہ عنھن جو ہجرت و نصرت کا شرف بھی رکھتی ہیں، ان کے خلاف زبان درازی، سب و شتم، تہمت تراشی اور تبرا بازی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں اور ان کو برے القاب سے یاد کرتے ہیں۔
➋ آلوسی صاحبِ روح المعانی نے فرمایا: ”بہت سے مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ «{ وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَ الْاَنْصَارِ }» سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں، کیونکہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے شرف کی بنا پر بعد والے تمام لوگوں پر سبقت حاصل ہے، جو پھر کسی کو نصیب نہ ہو سکی اور «{ وَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ }» (اور وہ لوگ جو نیکی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے) سے قیامت تک آنے والے وہ تمام مسلمان مراد ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صرف قرآن اور سنت رسول پر اخلاص کے ساتھ عمل کرتے رہے۔“ کیونکہ دوسرے کسی بھی فرقے کے لوگ اپنے امام کی تقلید کا دعویٰ تو کر سکتے ہیں، مگر تمام صحابہ کی اچھے طریقے اور نیکی سے پیروی کا دعویٰ نہیں کر سکتے، کیونکہ صحابہ کا عمل صرف قرآن و سنت پر تھا۔ اس وقت نہ فرقے تھے نہ وہ لوگ جن کے نام پر فرقے بنے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تفسیر بھی بالکل درست ہے، البتہ اس آیت سے صرف اصطلاحی تابعین مراد لینا کہ وہ لوگ جنھوں نے ایمان کی حالت میں صحابہ کی زیارت کی ہو ہر گز درست نہیں، کیونکہ احسان کے ساتھ مہاجرین و انصار کے پیچھے چلنے والے صرف وہی نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے سبھی مسلمان ہیں جن کے اخلاص اور قول و عمل میں احسان پایا جاتا ہے۔ ہاں اصطلاحی تابعین بدرجۂ اولی ان میں شامل ہیں۔
➌ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سب سے افضل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں جو اسلام میں بھی اول ہیں اور ہجرت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں، پھر بالترتیب دوسرے خلفاء رضی اللہ عنھم کے درجے ہیں، ان کے بعد باقی عشرہ مبشرہ جن میں طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید، عبد الرحمن بن عوف اور ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنھم شامل ہیں، پھر بدری اور عقبہ والے صحابہ کا درجہ ہے اور ان کے بعد جو بیعت رضوان میں شریک ہوئے، پھر جو فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہوئے اور ہجرت و نصرت کی۔ صحابہ کی فضیلت کی اس ترتیب پر اہل السنۃ والجماعہ متفق ہیں۔
➍ {رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ:} چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور جنت میں داخلے کی خو ش خبری کی جو وجہ بیان ہوئی ہے، یعنی ہجرت و نصرت وہ دائمی ہے۔ کوئی شخص ان سے یہ اعزاز نہیں چھین سکتا۔ اس لیے اس پر ملنے والی بشارت بھی دائمی اور ہمیشہ کے لیے ہے، لہٰذا ان صحابہ میں سے (العیاذ باللہ) کسی کے مرتد ہونے کا تصور بھی نہیں ہو سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اپنی رضا اور جنت کی خوش خبری دے ہی نہیں سکتا جس کے متعلق اسے علم ہو کہ اس نے مرتد ہو جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جس طرح گزشتہ اور موجودہ حالات کا مکمل علم ہے آئندہ آنے والی ہر بات کا بھی اسی طرح مکمل علم ہے۔ وہ کفر پر مرنے والوں کو جنت اور رضا کی بشارت کیسے دے سکتا ہے؟ پھر کتنے بدبخت اور لعنتی ہیں وہ لوگ جو ان حضرات کے خلاف عموماً اور ان میں سے افضل ترین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین ہستیوں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات امہات المومنین رضی اللہ عنھن جو ہجرت و نصرت کا شرف بھی رکھتی ہیں، ان کے خلاف زبان درازی، سب و شتم، تہمت تراشی اور تبرا بازی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں اور ان کو برے القاب سے یاد کرتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10۔ 1 اس میں تین گروہوں کا ذکر ہے ایک مہاجرین کا جنہوں نے دین کی خاطر، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مکہ اور دیگر علاقوں سے ہجرت کی اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مدینہ آگئے دوسرا انصار جو مدینہ میں رہائش پذیر تھے انہوں نے ہر موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد اور حفاظت فرمائی اور مدینہ آنے والے مہاجرین کی خوب پذیرائی اور تواضع کی۔ اور اپنا سب کچھ ان کی خدمت میں پیش کردیا۔ تیسری قسم وہ ہے جو ان مہاجرین و انصار کے خلوص اور احسان کے ساتھ پیروکار ہیں۔ اس گروہ سے مراد بعض کے نزدیک اصطلاحی تابعین ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا لیکن صحابہ کرام کی صحبت سے مشرف ہوئے اور بعض نے اسے عام رکھا یعنی قیامت تک جتنے بھی انصار و مہاجرین سے محبت رکھنے والے اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے مسلمان ہیں، وہ اس میں شامل ہیں۔ ان میں اصطلاحی تابعین بھی آجاتے ہیں۔ 10۔ 2 اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا کا مطلب ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نیکیاں قبول فرما لیں، ان کی بشری لغزشوں کو معاف فرما دیا اور وہ ان پر ناراض نہیں۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کے لئے جنت کی نعمتوں کی بشارت کیوں دی جاتی، جو اس آیت میں دی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
100۔ وہ مہاجر اور انصار جنہوں نے سب سے پہلے ایمان لانے میں سبقت [112] کی اور وہ لوگ جنہوں نے احسن طریق پر ان کی اتباع [113] کی، اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی بہت بڑی کامیابی ہے
[112] اولین مہاجر و انصار صحابہ اور ان کے نام:۔
مردوں میں سب سے پہلے سیدنا ابو بکرؓ ایمان لائے تھے۔ عورتوں میں سیدہ خدیجہؓ۔ لڑکوں میں سیدنا علیؓ اور غلاموں میں سیدنا زید بن حارثہؓ۔ ان میں ماسوائے سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے باقی سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے افراد تھے۔ پھر سیدنا ابو بکر صدیقؓ کی کوشش سے جو حضرات ایمان لائے ان کے نام یہ ہیں: سیدنا عثمانؓ، سیدنا زبیر بن عوامؓ، سیدنا عبد الرحمن بن عوفؓ، سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ اور سیدنا طلحہؓ۔ پھر ان کے بعد بہت سے لوگ مسلمان ہوئے اور یہ سب مہاجرین اولین اور سابقین ہیں۔ اور انصار میں سابقین و اولین وہ پانچ شخص ہیں جنہوں نے پہلے لیلۃ العقبہ میں بیعت کی تھی یعنی حضرت سعدؓ، عوفؓ، رافعؓ، قطبہؓ اور جابرؓ۔ پھر جنہوں نے دوسری دفعہ عقبہ میں بیت کی وہ بارہ اشخاص تھے۔ پھر تیسرے عقبہ میں ستر اشخاص نے بیعت کی۔ اور یہ سب ہجرت نبوی سے پہلے اسلام لائے تھے۔ ﴿السابقون الاولون﴾ سے مراد تو وہ ابتدائی مسلمان ہیں جنہوں نے ہر تنگی و ترشی کے وقت اسلام اور پیغمبر اسلام کا ساتھ دیا تا آنکہ اللہ کا کلمہ بلند ہو گیا۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جن مسلمانوں نے کفار اور مشرکین کے بے پناہ مظالم برداشت کیے تھے ان کا درجہ عام مسلمانوں سے بلند ہی ہونا چاہیے اور اسی لحاظ سے اللہ کے ہاں وہ اجر و ثواب اور بلندی درجات کے بھی زیادہ مستحق ہیں۔ مگر ان کی تعیین میں علماء نے بہت اختلاف کیا ہے۔ بعض کے نزدیک اس سے وہ مسلمان مراد ہیں جنہوں نے ہجرت نبوی سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔ بعض کے نزدیک وہ مسلمان ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں (بیت المقدس اور کعبہ) کی طرف نماز پڑھی۔ بعض کے نزدیک غزوہ بدر تک کے مسلمان سابقین اولین ہیں۔ بعض اس دائرہ کو صلح حدیبیہ تک وسیع کرتے ہیں اور بعض کے نزدیک تمام مہاجرین و انصار، اطراف کے مسلمانوں اور بعد میں آنے والی نسلوں کے اعتبار سے سابقین اولین ہیں۔ اور معنیٰ کے لحاظ سے ان تمام اقوال میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ سبقت اور اولیت اضافی چیزیں ہیں۔ لہٰذا ایک ہی شخص (یا جماعت) ایک اعتبار سے سابق اور دوسرے اعتبار سے لاحق ہو سکتا ہے۔
السابقون الاولون کی تعیین:۔
ہمارے خیال میں سابقین اولین سے مراد غزوہ بدر تک کے مسلمان ہیں۔ اس لیے کہ فتح بدر کے بعد اسلام ایک مقابلہ کی قوت بن گیا تھا اور دوسرے اموال غنائم سے مسلمانوں کی معیشت کو بھی تقویت پہنچی تھی۔ یا زیادہ سے زیادہ اس دائرہ کو فتح خیبر تک وسیع کیا جا سکتا ہے جبکہ حبشہ کے مہاجرین بھی واپس پہنچ گئے تھے اور مسلمانوں کی معاشی حالت اتنی سنبھل چکی تھی کہ انہوں نے انصار سے مستعار لیے ہوئے کھجوروں کے درخت بھی انہیں واپس کر دیئے تھے۔ بعد کے مسلمانوں کو نہ پہلے مسلمانوں جیسے مصائب برداشت کرنا پڑے اور نہ معاشی تنگی۔
[113] تابعین کی فضیلت:۔
سابقین اولین کی طرح متبعین کی تعیین میں بھی اختلاف ہے کیونکہ جو بھی حد ہم سابقین اولین کی مقرر کریں گے اس کے بعد سے متبعین کا آغاز ہو جائے گا۔ بعض کے نزدیک ان سے مراد باقی صحابہ کرامؓ ہیں بعض کے نزدیک تابعین بھی ان میں شامل ہیں اور بعض کے نزدیک تبع تابعین بھی اور قیامت تک کے مسلمان ان میں شامل ہیں۔ بشرطیکہ وہ سابقین اولین کے طریق پر قائم ہوں۔ یعنی کتاب و سنت کے پابند ہوں اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہوں اور نہایت نیک نیتی کے ساتھ ان کی پیروی کرتے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سابقوں کو بشارت ٭٭
اللہ تعالٰی خبر دے رہا ہے کہ میں ان مہاجرین اور انصار اور تابعین سے راضی ہوں جنہوں نے میری رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرنے میں سبقت کی ہے اور میری خوشنودی اس طرح ثابت ہے کہ میں نے ان کے لئے جناتِ نعیم تیار کر رکھی ہے۔ شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں ان سے مراد وہ مہاجر و انصار میں سے سابقین و اولین وہ ہیں جنہوں نے صلح حدیبیہ میں بیت رضوان کا شرف حاصل کیا اور شعبی رحمہ اللہ سیدنا موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما اور سعید بن المسیّب اور محمد بن سیرین اور حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبلتین کی طرف نماز پڑھی تھی۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ القرظی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے اور وہ یہ آیت پڑھ رہاتھا «وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ» [9-التوبة:100] تو عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور پوچھا کہ کس نے تمھیں یہ پڑھایا ہے؟ تو کہنے لگا کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے! تو کہنے لگے اچھا چلو میں تمھیں ابی کے پاس لے چلتا ہوں تا کہ پوچھ لوں۔ اور جب حضرت ابی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو پوچھا، کیا تم نے اس آیت کو اس طرح پڑھنا بتایا ہے؟ تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں فرمایا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے؟ کہا ہاں! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ہم نے وہ اعلٰی و ارفع درجہ پا لیا ہے کہ ہمارے بعد کوئی دوسرا یہ منزلت حاصل نہیں کر سکتا۔ تو ابی رضی اللہ عنہ کہنے لگے اس آیت کی تصدیق سورۃ جمعہ کے اول میں بھی ہے۔
یعنی «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [62-الجمعة: 3] اور سورۃ الحشرمیں بھی «وَالَّذِيْنَ جَاءُوْ مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» [59- الحشر: 10] اور سورۃ الانفال میں بھی ہے۔ «وَالَّذِينَ آمَنُوا مِن بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا مَعَكُمْ فَأُولَـٰئِكَ مِنكُمْ» [8- الانفال: 75]الخ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی روایت کی ہے اور کہا کہ حسن بصری «وَالْاَنٰصَارِ» کے لفظ پڑھتے ہیں۔ اور «وَّالسّٰبِقُوْنَ اَلْاَوَّلُوْنٗ» پر عطف قرار دیتے تھے۔ گویا عبارت یوں ہوئی کہ مہاجرین میں سے سابقین اولین اور انصار اور ان کے تابعین سے اللہ راضی ہے۔
افسوس کیا کم بختی ہے ان لوگوں کی جو ان صحابہ رضی اللہ عنہم سے بغض رکھتے ہیں انہیں گالیاں دیتے ہیں یہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو سبُّ و شتم کرتے ہیں،
محمد بن کعب رحمہ اللہ القرظی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے اور وہ یہ آیت پڑھ رہاتھا «وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ» [9-التوبة:100] تو عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور پوچھا کہ کس نے تمھیں یہ پڑھایا ہے؟ تو کہنے لگا کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے! تو کہنے لگے اچھا چلو میں تمھیں ابی کے پاس لے چلتا ہوں تا کہ پوچھ لوں۔ اور جب حضرت ابی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو پوچھا، کیا تم نے اس آیت کو اس طرح پڑھنا بتایا ہے؟ تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں فرمایا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے؟ کہا ہاں! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ہم نے وہ اعلٰی و ارفع درجہ پا لیا ہے کہ ہمارے بعد کوئی دوسرا یہ منزلت حاصل نہیں کر سکتا۔ تو ابی رضی اللہ عنہ کہنے لگے اس آیت کی تصدیق سورۃ جمعہ کے اول میں بھی ہے۔
یعنی «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [62-الجمعة: 3] اور سورۃ الحشرمیں بھی «وَالَّذِيْنَ جَاءُوْ مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» [59- الحشر: 10] اور سورۃ الانفال میں بھی ہے۔ «وَالَّذِينَ آمَنُوا مِن بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا مَعَكُمْ فَأُولَـٰئِكَ مِنكُمْ» [8- الانفال: 75]الخ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی روایت کی ہے اور کہا کہ حسن بصری «وَالْاَنٰصَارِ» کے لفظ پڑھتے ہیں۔ اور «وَّالسّٰبِقُوْنَ اَلْاَوَّلُوْنٗ» پر عطف قرار دیتے تھے۔ گویا عبارت یوں ہوئی کہ مہاجرین میں سے سابقین اولین اور انصار اور ان کے تابعین سے اللہ راضی ہے۔
افسوس کیا کم بختی ہے ان لوگوں کی جو ان صحابہ رضی اللہ عنہم سے بغض رکھتے ہیں انہیں گالیاں دیتے ہیں یہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو سبُّ و شتم کرتے ہیں،
خصوصاً وہ صحابی جو تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا سردار ہے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسی کا درجہ ہے جس کو افضل صحابہ رضی اللہ عنہ کا درجہ حاصل ہے یعنی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما اور خلیفہ اعظم ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہما یہ رافضیوں کا بامراد فرقہ افضل صحابی سے دشمنی رکھتا ہے انہیں گالی گلوچ کرتا ہے۔ ایسی حرکت سے اللہ کی پناہ۔
یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انکی عقلیں اوندھی ہو گئی ہیں ان کے قلوب الٹ گئے ہیں، اگر وہ کمبخت ان لوگوں کو گالیاں دیں جن سے اللہ راضی ہو چکا ہے اور قرآن میں اپنی رضا مندی کی انھیں سند دے دی تو پھر کسی منہ سے وہ قرآن پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں اب قرآن پر ایمان ہی کہاں رہا؟ اہل سنت ان لوگوں کی قدر کرتے ہیں اور ان سے راضی ہیں جن سے اللہ راضی ہے اور یہ اہل سنت برا بھلا کہتے ہیں تو ان کو جنہیں خعد اللہ نے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے برا کہا ہے اور ان لوگوں کو دوست رکھتے ہیں جن کو اللہ دوست رکھتا ہے اور ان کے مخالف ہیں کہ اللہ خود جن کا مخالف ہے یہ اتباعِ ہدایت کرتے ہیں بدعتی نہیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے ہیں اور مذہب و اعتقادات میں نئے نئے شاخسانے نہیں نکالتے۔ فلاح پانے والے اور مومن بندوں کی جماعت یہی ہے۔
یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انکی عقلیں اوندھی ہو گئی ہیں ان کے قلوب الٹ گئے ہیں، اگر وہ کمبخت ان لوگوں کو گالیاں دیں جن سے اللہ راضی ہو چکا ہے اور قرآن میں اپنی رضا مندی کی انھیں سند دے دی تو پھر کسی منہ سے وہ قرآن پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں اب قرآن پر ایمان ہی کہاں رہا؟ اہل سنت ان لوگوں کی قدر کرتے ہیں اور ان سے راضی ہیں جن سے اللہ راضی ہے اور یہ اہل سنت برا بھلا کہتے ہیں تو ان کو جنہیں خعد اللہ نے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے برا کہا ہے اور ان لوگوں کو دوست رکھتے ہیں جن کو اللہ دوست رکھتا ہے اور ان کے مخالف ہیں کہ اللہ خود جن کا مخالف ہے یہ اتباعِ ہدایت کرتے ہیں بدعتی نہیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے ہیں اور مذہب و اعتقادات میں نئے نئے شاخسانے نہیں نکالتے۔ فلاح پانے والے اور مومن بندوں کی جماعت یہی ہے۔