(آیت 4){ وَالَّيْلِاِذَايَسْرِ: ”يَسْرِ“} اصل میں {”يَسْرِيْ“} ہے، آیات کے فواصل کی مطابقت کے لیے یاء حذف کر کے راء پر کسرہ باقی رکھا گیا ہے۔ {”سَرٰييَسْرِيْسُرًي“} (ض) رات کا چلنا۔ سورۂ مدثر میں فرمایا: «وَالَّيْلِاِذْاَدْبَرَ»[المدثر: ۳۳]”اور قسم ہے رات کی، جب وہ جانے لگے۔“ یعنی رخصت ہوتی ہوئی رات قیامت قائم ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4۔ 1 یعنی جب آئے اور جب جائے، کیونکہ سیر (چلنا) آتے جاتے دونوں صورتوں میں ہوتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ اور رات کی جب وہ گزر [4] جائے
[4]﴿يَسَرْ﴾﴿سرٰي﴾﴿يسري﴾ کا لفظ رات کو چلنے کے لیے مخصوص ہے، رات کو سفر کرنا اور ساریہ رات کو سفر کرنے والی چھوٹی سی جماعت کو کہتے ہیں۔ اور اسری کے معنی کسی دوسرے کو رات کے وقت سیر کرانا، لے چلنا، سفر کرانا [17: 1] اس لحاظ سے اس کا ایک معنی تو یہ ہو گا کہ اس رات کی قسم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا سفر کیا اور دوسرا معنی یہ ہے کہ رات کی قسم جب وہ خود جانے لگے یا رخصت ہونے لگے۔ اس لحاظ سے ان آیات میں ایک ہی وقت دو طرح کے انداز بیان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی رات کے رخصت ہونے کا وہی وقت ہوتا ہے جب پو پھوٹتی یا سپیدہ سحر نمودار ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔