اس آیت کی تفسیر آیت 27 میں تا آیت 29 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
28۔ 1 یعنی اس کے اجر وثواب اور ان نعمتوں کی طرف جو اس نے اپنے بندوں کے لیے جنت میں تیار کی ہیں بعض کہتے ہیں قیامت والے دن کہا جائے گا بعض کہتے ہیں کہ موت کے وقت بھی فرشتے خوشخبری دیتے ہیں اسی طرح قیامت والے دن بھی اسے یہ کہا جائے گا جو یہاں مذکور ہے، حافظ ابن کثیر نے ابن عساکر کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم نے ایک آدمی کو یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا، اللھم انی اسالک نفسا، بک مطمئنہ، تو من بلقائک، وترضی بقضائک، وتقنع بعطائک۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
28۔ اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔