اس آیت کی تفسیر آیت 25 میں تا آیت 27 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس لیے کہ اس روز تمام اختیارات صرف ایک اللہ کے پاس ہوں گے، دوسرے کسی کو اس کے سامنے رائے یادم زنی نہیں ہوگا حتی کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش تک نہیں کرسکے گا ایسے حالات میں کافروں کو جو عذاب ہوگا اور جس طرح وہ اللہ کی قید وبند میں جکڑے ہوں گے، اس کا یہاں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، چہ جائیکہ اس کا کچھ اندازہ ممکن ہو، یہ تو مجرموں اور ظالموں کا حال ہوگا لیکن اہل ایمان وطاعت کا حال اس سے بلکل مختلف ہوگا جیسا کہ اگلی آیات میں ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
26۔ اور جیسے وہ جکڑے [18] گا کوئی بھی نہیں جکڑ سکتا
[18] ایسے لوگوں کو اس اس دن ایسی سخت مار پڑے گی اور سزا ملے گی جیسی کوئی دوسرا دے ہی نہیں سکتا۔ فرشتے ان کے گلوں میں طوق اور پاؤں میں زنجیریں ڈال کر جہنم میں پھینک دیں گے پھر اوپر سے جہنم کو بند کر دیا جائے گا۔ اس میں سانپ اور بچھوؤں کے ڈسنے کا عذاب الگ ہو گا اور فرشتوں کے مارنے اور ڈانٹنے کا الگ۔ پھر ذہنی عذاب یہ ہو گا کہ اس عذاب سے نجات کی انہیں کوئی صورت نظر نہ آئے گی۔ علاوہ ازیں یہ عذاب وقتی اور عارضی نہیں بلکہ مستقل اور دائمی ہو گا۔ یہ فکر ان کے جسمانی عذاب کو کئی گنا زیادہ بنا دے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔