ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفجر (89) — آیت 15

فَاَمَّا الۡاِنۡسَانُ اِذَا مَا ابۡتَلٰىہُ رَبُّہٗ فَاَکۡرَمَہٗ وَ نَعَّمَہٗ ۬ۙ فَیَقُوۡلُ رَبِّیۡۤ اَکۡرَمَنِ ﴿ؕ۱۵﴾
پس لیکن انسان جب اس کا رب اسے آزمائے، پھر اسے عزت بخشے اور اسے نعمت دے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے عزت بخشی۔ En
مگر انسان (عجیب مخلوق ہے کہ) جب اس کا پروردگار اس کو آزماتا ہے تو اسے عزت دیتا اور نعمت بخشتا ہے۔ تو کہتا ہے کہ (آہا) میرے پروردگار نے مجھے عزت بخشی
En
انسان (کا یہ حال ہے کہ) جب اسے اس کا رب آزماتا ہے اور عزت ونعمت دیتا ہے تو وه کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنایا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15تا20){ فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ …:} قیامت کے منکرین کے نزدیک چونکہ سبھی کچھ دنیا ہے اس لیے ان کا خیال یہ ہے کہ دنیا میں جو آسودہ حال ہے اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہے اور جو تنگ حال ہے اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہے۔ فرمایا یہ بات ہر گز درست نہیں، فرعون اور دوسرے لوگوں کے واقعات ابھی تم نے سنے، ان کی خوش حالی اور پھر ان پر آنے والے عذاب کو یاد کرو تو سمجھ لو گے کہ دنیا کی آسودہ حالی یا بدحالی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے کہ کافر خوش حالی میں سرکشی اور تنگی میں شکوہ و نا شکری کرکے ناکام ہو جاتے ہیں اور مومن نعمت پر شکر کے ساتھ اور مصیبت میں صبر کے ساتھ کامیاب ہو جاتے ہیں۔ تمھارا حال تو یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ خوش حالی کی نعمت کا شکر ادا کرو اور بطور شکر مستحقین پر خرچ کرو، تم اتنا بھی نہیں کرتے کہ یتیم کے ساتھ عزت کا برتاؤ ہی کر لو، یا مسکین کو کھلاتے نہیں تو کسی دوسرے کو ترغیب ہی دے دو۔ تم تو میراث کا مال بھی جو تمھیں بغیر محنت کے مل گیا ہے، عطا فرمانے والے کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے حصے پر قناعت کے بجائے سارا ہی لپیٹ جاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم مال عطا فرمانے والے کے بجائے مال سے محبت کرتے ہو اور حد سے بڑھ کر کرتے ہو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 یعنی جب کسی کو عزت و دولت کی فروانی عطا فرماتا ہے تو وہ اپنی بابت اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتا ہے کہ اللہ اس پر بہت مہربان ہے، حالانکہ فروانی امتحان اور آزمائش کے طور پر ہوتی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ مگر انسان کا یہ حال ہے کہ جب اس کا پروردگار اسے آزمائش میں ڈالتا ہے اور اسے عزت اور نعمت دیتا ہے تو کہتا ہے کہ: میرے پروردگار نے مجھے عزت بخشی

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو ٭٭
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے «أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ» * «نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:55-56]‏‏‏‏ الخ یعنی ’ مال و اولاد کے بڑھ جانے کو یہ لوگ نیکیوں کی زیادتی سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بےسمجھی ہے ‘۔
اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگ ترشی کو انسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ دراصل یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اسی لیے یہاں «كَلَّا» کہہ کر ان دونوں خیالات کی تردید کی کہ یہ واقعہ نہیں جسے اللہ مال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اور جس میں تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ خوشی اور ناخوشی کا مدار ان دونوں حالتوں میں عمل پر ہے غنی ہو کر شکر گزاری کرے تو اللہ کا محبوب اور فقیر ہو کر صبر کرے تو اللہ کا محبوب اللہ تعالیٰ اس طرح اور اس طرح آزماتا ہے۔
پھر یتیم کی عزت کرنے کا حکم دیا، حدیث میں ہے کہ { سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کی اچھی پرورش ہو رہی ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس سے بدسلوکی کی جاتی ہو پھر آپ نے انگلی اٹھا کر فرمایا: میں اور یتیم کو پالنے والا جنت میں ایسے ہوں گے یعنی قریب قریب۱؎ [سنن ابن ماجہ:3679:ضعیف]‏‏‏‏
ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ { کلمہ کی اور بیچ کی انگلی ملا کر انہیں دکھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور یتیم کا پالنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے } ۱؎ [صحیح بخاری:6005]‏‏‏‏
پھر فرمایا کہ یہ لوگ فقیروں اور مسکینوں کے ساتھ احسان کرنے، انہیں کھانا پینا دینے کی، ایک دوسرے کو رغبت و لالچ نہیں دلاتے اور یہ عیب بھی ان میں ہے کہ میراث کا مال حلال ہو یا حرام ہضم کر جاتے ہیں اور مال کی محبت بھی ان میں بے حد ہے۔