ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفجر (89) — آیت 14

اِنَّ رَبَّکَ لَبِالۡمِرۡصَادِ ﴿ؕ۱۴﴾
بے شک تیرا رب یقینا گھات میں ہے۔ En
بے شک تمہارا پروردگار تاک میں ہے
En
یقیناً تیرا رب گھات میں ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 14){ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ: رَصَدَ يَرْصُدُ رَصْدًا} (ن) کسی کے راستے میں اس پر حملے کے انتظار میں بیٹھنا۔ {اَلْمِرْصَادُ} گھات، چھپ کر بیٹھنے کی جگہ جس میں بیٹھ کر دشمن پر حملے کا انتظار کیا جاتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ان کے لیے مقرر کردہ وقت کے انتظار میں ہے، جب مقرر وقت آتا ہے پکڑ لیتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

14۔ 1 یعنی تمام مخلوقات کے اعمال دیکھ رہا ہے اور اس کے مطابق وہ دنیا اور آخرت میں جزا دیتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ بلا شبہ آپ کا پروردگار تو تاک [11] میں ہوتا ہے
[11] تاک یا گھات ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی شخص کسی کی انتظار میں اس لیے چھپا بیٹھا ہوتا ہے کہ جب وہ چیز اس کی زد میں آئے تو اس کے جال میں پھنس جائے۔ گزرنے والا اپنے انجام سے غافل اور بے فکری سے جا رہا ہوتا ہے کہ اچانک شکار ہو جاتا ہے۔ یہی صورت حال اللہ کے مقابلہ میں ان ظالموں کی ہے جنہیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ کوئی ہستی انہیں دیکھ رہی ہے۔ وہ بڑی دیدہ دلیری سے گناہوں میں آگے ہی بڑھتے چلے جاتے ہیں تاآنکہ وہ حد آجاتی ہے جس سے آگے اللہ انہیں بڑھنے نہیں دینا چاہتا، اس وقت اچانک ان پر اللہ کے عذاب کا کوڑا برس جاتا ہے۔ اور اگر کسی فرد یا قوم پر دنیا میں ایسا وقت نہ بھی آئے تو ہر شخص کی موت اس کا یقینی وقت ہے۔ جیسا کہ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ لب المرصاد کا معنی الیہ المصیر یعنی سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔