2۔ 1 مشہور ہے کہ اس کے جواب میں اللھم حاسبنا حسابا یسیرا۔ پڑھا جائے، یہ دعا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے جو آپ اپنی بعض نمازوں میں پڑھتے تھے، جیسا کہ سورة انشقاق میں گزرا لیکن اس کے جواب میں پڑھنا یہ آپ سے ثابت نہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
26۔ پھر ان کا حساب لینا ہمارے ہی ذمہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس آیت کی تفسیر آیت 25 میں میں گزر چکی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔