تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جا رہے تھے کہ ایک عورت کی قرآن پڑھنے کی آواز آئی آپ کھڑے ہو کر سننے لگے اس نے یہی آیت «هَلْ أَتَاكَ» پڑھی یعنی ’ کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی قیامت کی بات پہنچی ہے؟ ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: ” «نَعَمْ، قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس پہنچ چکی ہے۔“ }
اس دن بہت سے لوگ ذلیل چہروں والے ہوں گے پستی ان پر برس رہی ہو گی ان کے اعمال غارت ہو گئے ہوں گے انہوں نے تو بڑے بڑے عمل کئے تھے، سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں وہ آج بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گئے۔
ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک خانقاہ کے پاس سے گزرے وہاں کے راہب کو آواز دی وہ حاضر ہوا آپ اسے دیکھ کر روئے لوگوں نے پوچھا: حضرت کیا بات ہے؟ تو فرمایا: ”اسے دیکھ کر یہ آیت یاد آ گئی کہ عبادت اور ریاضت کرتے ہیں لیکن آخر جہنم میں جائیں گے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اس سے مراد نصرانی ہیں۔“ عکرمہ اور سدی رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ ”دنیا میں گناہوں کے کام کرتے رہے اور آخرت میں عذاب کی اور مار کی تکلیفیں برداشت کریں گے یہ سخت بھڑکنے والی جلتی تپتی آگ میں جائیں گے جہاں سوائے «ضَرِيعٍ» کے اور کچھ کھانے کو نہ ملے گا جو آگ کا درخت ہے یا جہنم کا پتھر ہے یہ تھوہر کی بیل ہے اس میں زہریلے کانٹے دار پھل لگتے ہیں یہ بدترین کھانا ہے اور نہایت ہی برا نہ بدن بڑھائے نہ بھوک مٹائے یعنی نہ نفع پہنچے نہ نقصان دور ہو۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال في وصف أهل النار: {وجوهٌ يومئذٍ}؛ أي: يوم القيامة، {خاشعةٌ}: من الذُّلِّ والفضيحة والخزي، {عاملةٌ ناصبةٌ}؛ أي: تاعبة في العذاب، تجرُّ على وجوهها، {وتغشى وجوهَهم النارُ}؛ ويحتمل أن المراد بقوله: {وجوهٌ يومئذٍ خاشعةٌ. عاملةٌ نَّاصبةٌ}: في الدنيا لكونهم في الدُّنيا أهل عباداتٍ وعمل، ولكنَّه لما عدم شرطه، وهو الإيمان؛ صار يوم القيامة هباءً منثوراً.
وهذا الاحتمال وإن كان صحيحاً من حيث المعنى؛ فلا يدلُّ عليه سياق الكلام، بل الصواب المقطوع به هو الاحتمال الأول؛ لأنَّه قيَّده بالظرف، وهو يوم القيامةِ، ولأنَّ المقصود هنا بيان ذكر أهل النار عموماً، وذلك الاحتمال جزءٌ قليلٌ بالنسبة إلى أهل النار ، ولأنَّ الكلام في بيان حال الناس عند غشيان الغاشية؛ فليس فيه تعرُّضٌ لأحوالهم في الدُّنيا.
وقوله: {تَصْلى ناراً حاميةً}؛ أي: شديداً حرُّها تحيط بهم من كلِّ مكان، {تُسْقى من عينٍ آنيةٍ}؛ أي: شديدة الحرارة ، {وإن يَسْتَغيثوا يُغاثوا بماءٍ كالمهل يَشْوي الوجوهَ}؛ فهذا شرابهم، وأمَّا طعامُهم؛ فَـ {ليس لهم طعامٌ إلاَّ من ضريعٍ. لا يُسْمِنُ ولا يُغْني من جوع}: وذلك لأنَّ المقصود من الطعام أحد أمرين: إمَّا أن يسدَّ جوع صاحبه ويزيل عنه ألمه، وإمَّا أن يُسْمِنَ بدنَه من الهزال، وهذا الطعام ليس فيه شيءٌ من هذين الأمرين، بل هو طعامٌ في غاية المرارة والنَّتن والخسَّة، نسأل الله العافية.