اَفَلَا یَنۡظُرُوۡنَ اِلَی الۡاِبِلِ کَیۡفَ خُلِقَتۡ ﴿ٝ۱۷﴾
تو کیا وہ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے پیدا کیے گئے۔
En
یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے (عجیب) پیدا کیے گئے ہیں
En
کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وه کس طرح پیدا کیے گئے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 17تا20) ➊ { اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ …:} قیامت اور قیامت کے دن جہنمیوں اور جنتیوں کا حال ذکر کرنے کے بعد ان چیزوں کو دیکھنے کی دعوت کا مقصد یہ ہے کہ اگر یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ دوبارہ زندہ ہونا ممکن نہیں اور نہ کسی نے جنت یا جہنم میں جانا ہے تو ان چار چیزوں کو دیکھ لیں۔ اتنی عظیم الشان چیزیں پیدا کرنے والا پروردگار کیا ان لوگوں کو دوبارہ نہیں بنا سکتا؟
➋ عرب کا بادیہ نشین تمام شہری تکلفات سے دور اونٹ پر سوار ہو کر سفر کر رہا ہو اور فطرت اپنی اصل صورت میں اس کے سامنے جلوہ گر ہو تو تھوڑا سا غور کرنے پر بھی ہر چیز میں اسے اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرت نظر آئے گی۔ اوپر دیکھے تو سورج یا چاند ستاروں سے بھرا ہوا لا محدود محکم آسمان، نیچے دیکھے تو صفائی سے بچھی ہوئی وسیع زمین، دائیں بائیں دیکھے تو زمین میں گڑے ہوئے بلند و بالا پہاڑ اور اپنی سواری کو دیکھے تو صحرا کے مطابق بناوٹ رکھنے والا ہفتوں بھوک اور پیاس برداشت کرنے والا اونٹ، کوئی چیز بھی تو اس کی اپنی بنائی ہوئی نہیں۔ اتنی عظیم مخلوق کے مالک کے لیے اس حقیر انسان کو دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے جسے پہلے بھی اسی نے پیدا کیا ہے؟
➋ عرب کا بادیہ نشین تمام شہری تکلفات سے دور اونٹ پر سوار ہو کر سفر کر رہا ہو اور فطرت اپنی اصل صورت میں اس کے سامنے جلوہ گر ہو تو تھوڑا سا غور کرنے پر بھی ہر چیز میں اسے اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرت نظر آئے گی۔ اوپر دیکھے تو سورج یا چاند ستاروں سے بھرا ہوا لا محدود محکم آسمان، نیچے دیکھے تو صفائی سے بچھی ہوئی وسیع زمین، دائیں بائیں دیکھے تو زمین میں گڑے ہوئے بلند و بالا پہاڑ اور اپنی سواری کو دیکھے تو صحرا کے مطابق بناوٹ رکھنے والا ہفتوں بھوک اور پیاس برداشت کرنے والا اونٹ، کوئی چیز بھی تو اس کی اپنی بنائی ہوئی نہیں۔ اتنی عظیم مخلوق کے مالک کے لیے اس حقیر انسان کو دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے جسے پہلے بھی اسی نے پیدا کیا ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
17۔ 1 اونٹ عرب میں عام تھے اور ان عربوں کی غالب سواری یہ تھی، اس لیے اللہ نے اس کا تذکرہ کیا یعنی اونٹ کی خلقت پر غور کرو، اللہ نے اسے کتنا بڑا وجود عطا کیا اور کتنی قوت و طاقت اس کے اندر رکھی ہے۔ اس کے باوجود وہ تمہارے لئے نرم اور تابع ہے، تم اس پر جتنا چاہو بوجھ لادھ دو وہ انکار نہیں کرے گا اور تمہارا ماتحت ہو کر رہے گا علاوہ ازیں اس کا گوشت تمہارے کھانے کے لئے، اسکا دودھ تمہارے پینے کے لئے اور اس کی اون، گرمی حاصل کرنے کے کام آتی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
17۔ کیا وہ اونٹ کی طرف نہیں [8] دیکھتے کہ وہ کس طرح کا پیدا کیا گیا؟
[8] اللہ تعالیٰ نے عرب کے بدو اور خانہ بدوشوں کو سب سے پہلے اونٹ کی طرف توجہ دلائی جو ان کے نزدیک ایک قیمتی متاع اور صحرائی سفر میں ان کا مستقل رفیق تھا جو دس دس دن پانی پینے کے بغیر گزارہ ہی نہیں کر سکتا بلکہ بے تکلف سفر بھی جاری رکھ سکتا ہے۔ خار دار جھاڑیاں اور خشک گھاس اور پتے کھا کر شکم پروری کر لیتا ہے۔ ریت میں اس کے پاؤں نہیں دھنستے اور بے تکلف سفر کرتا چلا جاتا ہے۔ ریت کی وجہ سے تھک نہیں جاتا اور سب سے بڑھ کر یہ سب بار بردار جانوروں سے زیادہ بوجھ اٹھاتا ہے۔ گویا یہ جانور ان لوگوں کی روح رواں تھا۔ عظیم الجثہ اور عجیب الخلقت۔ مثل مشہور ہے۔ اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی۔ اور اہل عرب کی بالخصوص توجہ اس جانور کی طرف اس لیے دلائی گئی کہ انہیں صحرائی زندگی کے لیے اونٹ کے علاوہ کوئی دوسرا جانور کام ہی نہ دے سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے حسب حال انہیں ایسا کارآمد جانور مہیا فرما دیا۔ اور اسی کی پیدائش میں غور کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کائنات پر غور و تدبر کی دعوت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی مخلوقات پر تدبر کے ساتھ نظریں ڈالیں اور دیکھیں کہ اس کی بے انتہا قدرت ان میں سے ہر ایک چیز سے کس طرح ظاہر ہوتی ہے اس کی پاک ذات پر ہر ہر چیز کس طرح دلالت کر رہی ہے اونٹ کو ہی دیکھو کہ کس عجیب و غریب ترکیب اور ہیئت کا ہے کتنا مضبوط اور قوی ہے اور اس کے باوجود کس طرح نرمی اور آسانی سے بوجھ لاد لیتا ہے اور ایک بچے کے ساتھ کس طرح اطاعت گزار بن کر چلتا ہے۔ اس کا گوشت بھی تمہارے کھانے میں آئے اس کے بال بھی تمہارے کام آئیں اس کا دودھ تم پیو اور طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ، اونٹ کا حال سب سے پہلے اس لیے بیان کیا گیا کہ عموماً عرب کے ملک میں اور عربوں کے پاس یہی جانور تھا۔ شریح قاضی فرمایا کرتے تھے ”آؤ چلو چل کر دیکھیں کہ اونٹ کی پیدائش کس طرح ہے“، وغیرہ۔
اور جگہ ارشاد ہے «أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ» ۱؎ [50-ق:6] یعنی ’ کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا، کیسے مزین کیا اور ایک سوراخ نہیں چھوڑا ‘۔
پھر پہاڑوں کو دیکھو کہ کیسے گاڑ دئیے گئے تاکہ زمین ہل نہ سکے اور پہاڑ بھی اپنی جگہ نہ چھوڑ سکیں پھر اس میں جو بھلائی اور نفع کی چیزیں پیدا کی ہیں ان پر بھی نظر ڈالو زمین کو دیکھو کہ کس طرح پھیلا کر بچھا دی گئی ہے۔
غرض یہاں ان چیزوں کا بیان ہے جو قرآن کے مخاطب عربوں کے ہر وقت پیش نظر رہا کرتی ہیں ایک بدوی جو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر نکلتا ہے زمین اس کے نیچے ہوتی ہے آسمان اس کے اوپر ہوتا ہے پہاڑ اس کی نگاہوں کے سامنے ہوتے ہیں اور اونٹ پر خود سوار ہے ان باتوں سے خالق کی قدرت کاملہ اور صنعت ظاہرہ بالکل ہویدا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ خالق، صانع، رب عظمت و عزت والا مالک اور متصرف معبود برحق اور اللہ حقیقی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کے سامنے اپنی عاجزی اور پستی کا اظہار کریں جسے ہم حاجتوں کے وقت پکاریں جس کا نام جپیں اور جس کے سامنے سر خم ہوں۔
اور جگہ ارشاد ہے «أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ» ۱؎ [50-ق:6] یعنی ’ کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا، کیسے مزین کیا اور ایک سوراخ نہیں چھوڑا ‘۔
پھر پہاڑوں کو دیکھو کہ کیسے گاڑ دئیے گئے تاکہ زمین ہل نہ سکے اور پہاڑ بھی اپنی جگہ نہ چھوڑ سکیں پھر اس میں جو بھلائی اور نفع کی چیزیں پیدا کی ہیں ان پر بھی نظر ڈالو زمین کو دیکھو کہ کس طرح پھیلا کر بچھا دی گئی ہے۔
غرض یہاں ان چیزوں کا بیان ہے جو قرآن کے مخاطب عربوں کے ہر وقت پیش نظر رہا کرتی ہیں ایک بدوی جو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر نکلتا ہے زمین اس کے نیچے ہوتی ہے آسمان اس کے اوپر ہوتا ہے پہاڑ اس کی نگاہوں کے سامنے ہوتے ہیں اور اونٹ پر خود سوار ہے ان باتوں سے خالق کی قدرت کاملہ اور صنعت ظاہرہ بالکل ہویدا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ خالق، صانع، رب عظمت و عزت والا مالک اور متصرف معبود برحق اور اللہ حقیقی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کے سامنے اپنی عاجزی اور پستی کا اظہار کریں جسے ہم حاجتوں کے وقت پکاریں جس کا نام جپیں اور جس کے سامنے سر خم ہوں۔
سیدنا ضحام رضی اللہ عنہ نے جو سوالات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے وہ اس طرح کی قسمیں دے کر کہے تھے۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے { سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں باربار سوالات کرنے سے روک دیا گیا تھا تو ہماری یہ خواہش رہتی تھی کہ باہر کا کوئی عقلمند شخص آئے وہ سوالات کرے ہم بھی موجود ہوں اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جوابات سنیں چنانچہ ایک دن بادیہ نشین آئے اور کہنے لگے: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کے قاصد ہمارے پاس آئے اور ہم سے کہا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنایا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، وہ کہنے لگا: بتائیے آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“، کہا: زمین کس نے پیدا کی؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“ کہا: ان پہاڑوں کو کس نے گاڑ دیا؟ ان سے یہ فائدے کی چیزیں کس نے پیدا کیں؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے۔“
کہا: پس آپ کو قسم ہے، اس اللہ کی جس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور ان پہاڑوں کو گاڑ دیا، اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ کہنے لگے آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم پر رات دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“ کہا اس اللہ کی آپ کو قسم ہے جس نے آپ کو بھیجا کہ کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“
کہنے لگے، آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مالوں میں ہم پر زکوٰۃ فرض ہے، فرمایا: ”سچ ہے“، پھر کہا: آپ کو اپنے بھیجنے والے اللہ کی قسم! کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟، فرمایا: ”ہاں“، مزید کہا کہ آپ کے قاصد نے ہم میں سے طاقت رکھنے والے لوگوں کو حج کا حکم بھی دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے سچ کہا۔“ وہ یہ سن کر یہ کہتا ہوا چل دیا کہ اس اللہ واحد کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے نہ میں ان پر کچھ زیادتی کروں گا نہ ان میں کوئی کمی کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ جنت میں داخل ہو گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:12]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، وہ کہنے لگا: بتائیے آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“، کہا: زمین کس نے پیدا کی؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“ کہا: ان پہاڑوں کو کس نے گاڑ دیا؟ ان سے یہ فائدے کی چیزیں کس نے پیدا کیں؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے۔“
کہا: پس آپ کو قسم ہے، اس اللہ کی جس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور ان پہاڑوں کو گاڑ دیا، اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ کہنے لگے آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم پر رات دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“ کہا اس اللہ کی آپ کو قسم ہے جس نے آپ کو بھیجا کہ کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“
کہنے لگے، آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مالوں میں ہم پر زکوٰۃ فرض ہے، فرمایا: ”سچ ہے“، پھر کہا: آپ کو اپنے بھیجنے والے اللہ کی قسم! کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟، فرمایا: ”ہاں“، مزید کہا کہ آپ کے قاصد نے ہم میں سے طاقت رکھنے والے لوگوں کو حج کا حکم بھی دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے سچ کہا۔“ وہ یہ سن کر یہ کہتا ہوا چل دیا کہ اس اللہ واحد کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے نہ میں ان پر کچھ زیادتی کروں گا نہ ان میں کوئی کمی کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ جنت میں داخل ہو گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:12]
بعض روایات میں ہے کہ اس نے کہا میں ضحام بن ثعلبہ ہوں بنو سعد بن بکر کا بھائی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:63]
ابو یعلیٰ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اکثر یہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ ”زمانہ جاہلیت میں ایک عورت پہاڑ پر تھی اس کے ساتھ اس کا ایک چھوٹا سا بچہ تھا یہ عورت بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے لڑکے نے اس سے پوچھا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: میرے ابا جی کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: مجھے؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: آسمان کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: زمین کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: پہاڑوں کو؟ بتایا کہ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ بچے نے پھر سوال کیا کہ اچھا ان بکریوں کو کس نے پیدا کیا؟ ماں نے کہا انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، بچے کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ اللہ تعالیٰ بڑی شان والا ہے، اس کا دل عظمت اللہ سے بھر گیا وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکا اور پہاڑ پر سے گر پڑا، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا“ }۔
ابن دینار فرماتے ہیں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہ حدیث ہم سے اکثر بیان فرمایا کرتے تھے اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن جعفر مدینی ضعیف ہیں۔ امام علی بن مدینی جو ان کے صاحبزادے اور جرح و تعدیل کے امام ہیں وہ انہیں یعنی اپنے والد کو ضعیف بتلاتے ہیں۔
ابو یعلیٰ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اکثر یہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ ”زمانہ جاہلیت میں ایک عورت پہاڑ پر تھی اس کے ساتھ اس کا ایک چھوٹا سا بچہ تھا یہ عورت بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے لڑکے نے اس سے پوچھا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: میرے ابا جی کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: مجھے؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: آسمان کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: زمین کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: پہاڑوں کو؟ بتایا کہ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ بچے نے پھر سوال کیا کہ اچھا ان بکریوں کو کس نے پیدا کیا؟ ماں نے کہا انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، بچے کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ اللہ تعالیٰ بڑی شان والا ہے، اس کا دل عظمت اللہ سے بھر گیا وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکا اور پہاڑ پر سے گر پڑا، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا“ }۔
ابن دینار فرماتے ہیں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہ حدیث ہم سے اکثر بیان فرمایا کرتے تھے اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن جعفر مدینی ضعیف ہیں۔ امام علی بن مدینی جو ان کے صاحبزادے اور جرح و تعدیل کے امام ہیں وہ انہیں یعنی اپنے والد کو ضعیف بتلاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! تم اللہ کی رسالت کی تبلیغ کیا کرو، تمہارے ذمہ صرف «بلاغ» ہے حساب ہمارے ذمہ ہے آپ ان پر مسلط نہیں ہیں جبر کرنے والے نہیں ہیں ان کے دلوں میں آپ ایمان پیدا نہیں کر سکتے، آپ انہیں ایمان لانے پر مجبور نہیں کر سکتے ‘۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے حکم کیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہیں جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے اپنے جان و مال مجھ سے بچا لئے مگر حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی } ۱؎۔ [صحیح مسلم:21]
پھر فرماتا ہے ’ مگر وہ جو منہ موڑے اور کفر کرے یعنی نہ عمل کرے نہ ایمان لائے نہ اقرار کرے ‘۔
جیسے فرمان ہے «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ» * «وَلَـٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ۱؎ [75-القيامة:31-32] یعنی ’ نہ تو سچائی کی تصدیق کی، نہ نماز پڑھی بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا اسی لیے اسے بہت بڑا عذاب ہو گا ‘۔
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سیدنا خالد بن یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو کہا کہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو آسانی والی حدیث سنی ہو اسے مجھے سناؤ، تو آپ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { تم میں سے ہر ایک جنت میں جائے گا مگر وہ جو اس طرح کی سرکشی کرے جیسے شریر اونٹ اپنے مالک سے کرتا ہے }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11673:صحیح]
ان سب کا لوٹنا ہماری ہی جانب ہے اور پھر ہم ہی ان سے حساب لیں گے اور انہیں بدلہ دیں گے، نیکی کا نیک بدی کا بد۔
سورۃ الغاشیہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے حکم کیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہیں جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے اپنے جان و مال مجھ سے بچا لئے مگر حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی } ۱؎۔ [صحیح مسلم:21]
پھر فرماتا ہے ’ مگر وہ جو منہ موڑے اور کفر کرے یعنی نہ عمل کرے نہ ایمان لائے نہ اقرار کرے ‘۔
جیسے فرمان ہے «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ» * «وَلَـٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ۱؎ [75-القيامة:31-32] یعنی ’ نہ تو سچائی کی تصدیق کی، نہ نماز پڑھی بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا اسی لیے اسے بہت بڑا عذاب ہو گا ‘۔
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سیدنا خالد بن یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو کہا کہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو آسانی والی حدیث سنی ہو اسے مجھے سناؤ، تو آپ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { تم میں سے ہر ایک جنت میں جائے گا مگر وہ جو اس طرح کی سرکشی کرے جیسے شریر اونٹ اپنے مالک سے کرتا ہے }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11673:صحیح]
ان سب کا لوٹنا ہماری ہی جانب ہے اور پھر ہم ہی ان سے حساب لیں گے اور انہیں بدلہ دیں گے، نیکی کا نیک بدی کا بد۔
سورۃ الغاشیہ کی تفسیر ختم ہوئی۔