ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعلى (87) — آیت 9

فَذَکِّرۡ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّکۡرٰی ؕ﴿۹﴾
سو تو نصیحت کر ، اگر نصیحت کرنافائدہ دے ۔ En
سو جہاں تک نصیحت (کے) نافع (ہونے کی امید) ہو نصیحت کرتے رہو
En
تو آپ نصیحت کرتے رہیں اگر نصیحت کچھ فائده دے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9تا11) {فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى …:} تو نصیحت کر اگر نصیحت کرنا فائدہ دے اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے تو کیا نصیحت چھوڑ دی جائے؟ جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں، بلکہ نصیحت کرتے رہنا لازم ہے۔ تو پھر آیت کا مطلب کیا ہے؟ آیت کی مختلف تفاسیر میں سے تین تفسیریں زیادہ قریب ہیں: (1) تفسیر ثنائی میں ہے کہ اس آیت کی بنا پر بعض لوگ گمراہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنا چھوڑ دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ نصیحت کے نفع دینے کی صورت میں نصیحت کرنے کا حکم ہے ورنہ نہیں، یہ ان کی غلطی ہے۔ آیت میں { اِنْ } ہے کہ جب تک انسان کو کسی قطعی دلیل سے یہ معلوم نہ ہو جائے کہ فلاں شخص کو نصیحت فائدہ نہ دے گی{ اِنْ } کا محل رہتا ہے اور قطعی دلیل صرف وحی الٰہی ہے۔ وحی کے بغیر ہر حال میں نصیحت کے مفید ہونے کا امکان باقی ہے، اس لیے جب تک تمھیں وحی الٰہی سے معلوم نہ ہو جائے کہ فلاں کو نصیحت نفع نہ دے گی وعظ و نصیحت کرتے جاؤ۔ ظاہر ہے کہ تمھارے پاس وحی الٰہی نہیں، اس لیے تم ہمیشہ نصیحت کرتے رہو۔ (مختصراً)
(2) دوسری تفسیر یہ ہے کہ { فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى } (نصیحت کر، اگر نصیحت فائدہ دے)کا یہ مطلب نہیں کہ جسے نصیحت فائدہ دے اسے نصیحت کر دوسرے کو نہ کر، کیونکہ یہ تو معلوم ہی نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نصیحت کر اگر کسی ایک کو بھی نصیحت فائدہ دے۔گویا { نَفَعَتْ} کا مفعول محذوف ہے، یعنی { إِنْ نَفَعَتِ الذِّكْرٰي أَحَدًا } اور ظاہر ہے کہ کسی نہ کسی کو تو فائدہ ہوتا ہی ہے، اس لیے آپ ہر شخص کو نصیحت کرتے جائیں۔ { سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَّخْشٰى} پھر ڈرنے والا قبول کرلے گا اور بدبخت اجتناب کرے گا، آپ کا کام نصیحت کرتے چلے جانا ہے اس امید پر کہ نصیحت کسی کو تو فائدہ دے گی۔ (3) تیسری تفسیر یہ ہے کہ { اِنْ } حرف شرط {إِذْ} کے معنی میں ہے، یعنی نصیحت کر جب نصیحت کرنا فائدہ دے۔ موقع و محل کا خیال رکھو، بے موقع بات مؤثر نہیں ہوتی۔ جب دیکھو کہ سننے کی طرف مائل ہیں تو نصیحت کرو اور جب ضد اور سرکشی پر اترے ہوئے ہوں تو کنارہ کشی اختیار کرو، یہ نہیں کہ نصیحت ہی چھوڑ دو۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو، نوح اور دوسرے انبیاء علیھم السلام نے اپنی اپنی اقوام کو ان پر عذاب آنے تک نصیحت ترک نہیں کی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

9۔ 1 یعنی وعظ و نصیحت وہاں کریں جہاں محسوس ہو کہ فائدہ مند ہوگی، یہ وعظ و نصیحت اور تعلیم کے لیے ایک اصول اور ادب بیان فرمایا۔ امام شوکانی کے نزدیک مفہوم یہ ہے کہ آپ نصیحت کرتے رہیں، چاہے فائدہ دے یا نہ دے، کیونکہ انداز و تبلیغ دونوں صورتوں میں آپ کے لیے ضروری تھی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ پس آپ نصیحت [8] کیجیے اگر نصیحت نفع دے
[8] یعنی جب آپ دیکھیں کہ آپ کی نصیحت سے لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے تو ایسے لوگوں کو بار بار وعظ و نصیحت کرتے رہیے۔ اور جو لوگ وعظ و نصیحت سے الٹا اثر لیں، مذاق اڑانے لگیں، یا مخالفت پر اتر آئیں تو ایسے لوگوں کو وعظ و نصیحت سے اجتناب کیجیے۔ واضح رہے کہ دعوت و تبلیغ اور چیز ہے اور وعظ و نصیحت اور چیز۔ نبی کی ذمہ داری یہ ہے کہ اللہ کا پیغام سب لوگوں تک پہنچا دے خواہ وہ اسے قبول کریں یا برا مانیں۔ لیکن وعظ و نصیحت صرف ان کے لیے ہے جو وعظ و نصیحت سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہوں، سب کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ صرف اس کے لیے جس کے دل میں کچھ اللہ کا ڈر ہو اور جو ڈرتا ہی نہیں اس کے لیے وعظ و نصیحت کچھ معنی نہیں رکھتے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَذَكِّ٘رْ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى اگر نصیحت فائدہ دے۔ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔
پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَیَذَّكَّـرُ مَنْ یَّخْشٰى جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔
رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ وَیَتَجَنَّبُهَا الْاَشْ٘قَىۙ۰۰ الَّذِیْ یَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰى اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَلَا یَحْیٰى جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَا یُ٘قْ٘ضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا (فاطر:35؍36) نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فذكِّر}: بشرع الله وآياته، {إن نفعتِ الذِّكْرى}؛ أي: ما دامت الذِّكرى مقبولةً والموعظة مسموعةً، سواء حصل من الذكرى جميع المقصود أو بعضه. ومفهوم الآية أنَّه إن لم تنفع الذِّكرى؛ بأنْ كان التَّذكير يزيد في الشرِّ أو يَنْقُصُ من الخير؛ لم تكن مأموراً بها، بل منهيًّا عنها؛ فالذِّكرى ينقسم الناس فيها قسمين: منتفعون، وغير منتفعين. فأمّا المنتفعون فقد ذكرهم بقوله: {سيذَّكَّر مَن يخشى}: الله؛ فإنَّ خشية الله تعالى والعلم بمجازاته على الأعمال توجب للعبد الانكفاف عمَّا يكرهه الله والسعي في الخيرات، وأمَّا غير المنتفعين؛ فذكرهم بقوله: {ويتجنَّبُها الأشقى. الذي يَصْلى النارَ الكُبرى}: وهي النار الموقدة، التي تطَّلِعُ على الأفئدة، {ثمَّ لا يموت فيها ولا يَحْيا}؛ أي: يعذَّب عذاباً أليماً من غير راحةٍ ولا استراحةٍ، حتَّى إنَّهم يتمنَّوْن الموت؛ فلا يحصُلُ لهم؛ كما قال تعالى: {لا يقضى عليهم فيموتوا ولا يخفَّفُ عنهم من عذابها}.