تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(2) دوسری تفسیر یہ ہے کہ {” فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى “} (نصیحت کر، اگر نصیحت فائدہ دے)کا یہ مطلب نہیں کہ جسے نصیحت فائدہ دے اسے نصیحت کر دوسرے کو نہ کر، کیونکہ یہ تو معلوم ہی نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نصیحت کر اگر کسی ایک کو بھی نصیحت فائدہ دے۔گویا {” نَفَعَتْ“} کا مفعول محذوف ہے، یعنی {” إِنْ نَفَعَتِ الذِّكْرٰي أَحَدًا “} اور ظاہر ہے کہ کسی نہ کسی کو تو فائدہ ہوتا ہی ہے، اس لیے آپ ہر شخص کو نصیحت کرتے جائیں۔ {” سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَّخْشٰى … “} پھر ڈرنے والا قبول کرلے گا اور بدبخت اجتناب کرے گا، آپ کا کام نصیحت کرتے چلے جانا ہے اس امید پر کہ نصیحت کسی کو تو فائدہ دے گی۔ (3) تیسری تفسیر یہ ہے کہ {” اِنْ “} حرف شرط {”إِذْ“} کے معنی میں ہے، یعنی نصیحت کر جب نصیحت کرنا فائدہ دے۔ موقع و محل کا خیال رکھو، بے موقع بات مؤثر نہیں ہوتی۔ جب دیکھو کہ سننے کی طرف مائل ہیں تو نصیحت کرو اور جب ضد اور سرکشی پر اترے ہوئے ہوں تو کنارہ کشی اختیار کرو، یہ نہیں کہ نصیحت ہی چھوڑ دو۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو، نوح اور دوسرے انبیاء علیھم السلام نے اپنی اپنی اقوام کو ان پر عذاب آنے تک نصیحت ترک نہیں کی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فذكِّر}: بشرع الله وآياته، {إن نفعتِ الذِّكْرى}؛ أي: ما دامت الذِّكرى مقبولةً والموعظة مسموعةً، سواء حصل من الذكرى جميع المقصود أو بعضه. ومفهوم الآية أنَّه إن لم تنفع الذِّكرى؛ بأنْ كان التَّذكير يزيد في الشرِّ أو يَنْقُصُ من الخير؛ لم تكن مأموراً بها، بل منهيًّا عنها؛ فالذِّكرى ينقسم الناس فيها قسمين: منتفعون، وغير منتفعين. فأمّا المنتفعون فقد ذكرهم بقوله: {سيذَّكَّر مَن يخشى}: الله؛ فإنَّ خشية الله تعالى والعلم بمجازاته على الأعمال توجب للعبد الانكفاف عمَّا يكرهه الله والسعي في الخيرات، وأمَّا غير المنتفعين؛ فذكرهم بقوله: {ويتجنَّبُها الأشقى. الذي يَصْلى النارَ الكُبرى}: وهي النار الموقدة، التي تطَّلِعُ على الأفئدة، {ثمَّ لا يموت فيها ولا يَحْيا}؛ أي: يعذَّب عذاباً أليماً من غير راحةٍ ولا استراحةٍ، حتَّى إنَّهم يتمنَّوْن الموت؛ فلا يحصُلُ لهم؛ كما قال تعالى: {لا يقضى عليهم فيموتوا ولا يخفَّفُ عنهم من عذابها}.