اس آیت کی تفسیر آیت 17 میں تا آیت 19 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
18۔ یہی بات پہلے صحیفوں [12] میں (کہی گئی تھی)
[12] یعنی جو صحائف سیدنا ابراہیم کو عطا ہوئے اور سیدنا موسیؑ کو تورات سے پہلے عطا ہوئے (جو کہ بعض اقوال کے مطابق دس دس تھے) ان میں یہ مضمون قد افلح سے خیر وابقی تک مذکور تھا۔ یہ مضمون نہ کبھی منسوخ ہوا اور نہ بدلا گیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنَّهٰؔذَا ﴾”بے شک یہ۔“یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَ٘فِیالصُّحُفِالْاُوْلٰى ۙ۰۰ صُحُفِاِبْرٰهِیْمَوَمُوْسٰؔى﴾”پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ علیہما السلام کے صحیفوں میں۔“ جو دونوں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّ هذا}: المذكور لكم في هذه السورة المباركة من الأوامر الحسنة والأخبار المستحسنة، {لفي الصُّحُفِ الأولى. صُحُفِ إبراهيم وموسى}: اللَّذيْنِ هما أشرف المرسلين بعد محمدٍ صلى الله عليه وعليهم أجمعين. فهذه أوامر في كلِّ شريعةٍ؛ لكونها عائدةٌ إلى مصالح الدارين، وهي مصالح في كلِّ زمانٍ ومكانٍ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔