ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطارق (86) — آیت 7

یَّخۡرُجُ مِنۡۢ بَیۡنِ الصُّلۡبِ وَ التَّرَآئِبِ ؕ﴿۷﴾
جو پیٹھ اور پسلیوں کے درمیان سے نکلتا ہے ۔ En
جو پیٹھ اور سینے کے بیچ میں سے نکلتا ہے
En
جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 6 میں تا آیت 8 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

7۔ 1 کہا جاتا ہے کہ پیٹھ مرد کی اور سینہ عورت کا، ان دونوں کے پانی سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے۔ لیکن اسے ایک پانی اس لیے کہا کہ یہ دونوں مل کر ایک ہی بن جاتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ جو پشت اور سینہ کی ہڈیوں [5] کے درمیان سے نکلتا ہے
[5] مادہ منویہ کہاں اور کیسے پیدا ہوتا ہے؟
﴿صُلْبْ ﴿صَلَبَ الْعَظْمِ بمعنی ہڈی سے مغز یا گودا نکالنا اور ﴿صلب﴾ بمعنی ریڑھ کی ہڈی کا گودا۔ اور چونکہ یہ ہڈی انسان کی پشت کے درمیان ہوتی ہے۔ لہٰذا اس ریڑھ کی ہڈی کو اور پشت کو بھی ﴿صلب﴾ ہی کہہ دیا جاتا ہے۔ اور ترائب۔ تریبۃ کی جمع ہے بمعنی سینہ کی ہڈیاں اور پسلیاں۔ اس آیت کے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ یہ نطفہ ان اعضاء سے نکلتا ہے جو ﴿صلب﴾ اور سینہ کی پسلیوں کے درمیان ہیں۔ اس سے بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ مرد کا نطفہ تو ﴿صلب﴾ سے نکلتا ہے اور عورت کا سینہ کی پسلیوں سے۔ لیکن یہ خیال کچھ درست معلوم نہیں ہوتا۔ اطباء کا یہ خیال ہے کہ منی خواہ مرد کی ہو یا عورت کی، عمل انہضام کے چوتھے مرحلہ پر پیدا ہوتی ہے۔ اور اس کی تخلیق میں اعضائے رئیسہ یعنی دل، جگر اور دماغ کا خاصا عمل دخل ہوتا ہے۔ اور یہ انہضام چونکہ انسان کے دھڑ کے اندرونی حصے میں واقع ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے ﴿صلب﴾ اور ترائب کے مابین سے ذکر کر دیا گیا ہے۔ رہی یہ بات کہ انسان کا دماغ تو دھڑ میں نہیں ہوتا تو غالباً اسی نسبت سے یہاں ﴿صلب﴾ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ریڑھ کی ہڈیوں کے درمیان جو مغز یا گودا ہوتا ہے یہ دماغ ہی کا حصہ ہوتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔