(آیت 14){ وَمَاهُوَبِالْهَزْلِ:} یعنی دوبارہ زندہ ہونے کی بات تم سے مذاق کے ساتھ نہیں کہی جا رہی، یہ حکیم و علیم کا قول ہے، کسی جاہل کا نہیں جو مذاق کر رہا ہو۔ موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے گائے ذبح کرنے کے حکم پر ان سے کہا کہ کیا آپ ہمیں مذاق کر رہے ہیں تو انھوں نے فرمایا: «اَعُوْذُبِاللّٰهِاَنْاَكُوْنَمِنَالْجٰهِلِيْنَ» [البقرۃ: ۶۷]” میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہو جاؤں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
14۔ 1 یعنی کھیل کود اور مذاق والی چیز نہیں ہے (قصد اور ارادہ) کی ضد ہے، یعنی ایک واضح مقصد کی حامل کتاب ہے، لہو و لعب کی طرح بےمقصد نہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
14۔ وہ کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں [11] ہے
[11] یعنی بارش کے بار بار نزول اور زمین سے نباتات کے اگنے کا پیہم عمل یہ ایک مربوط نظام ہے۔ کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت اور تمہارے مشاہدہ کی بات ہے۔ اسی طرح قرآن بھی جو حقائق پیش کر رہا ہے اور جسے دو ٹوک فیصلے بتا رہا ہے وہ بھی ٹھوس حقائق پر مبنی ہیں۔ یہ کوئی ہنسی مذاق کی باتیں نہیں ہیں بلکہ انہیں پورا ہو کے رہنا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔