ترجمہ و تفسیر — سورۃ البروج (85) — آیت 4

قُتِلَ اَصۡحٰبُ الۡاُخۡدُوۡدِ ۙ﴿۴﴾
مارے گئے اس خندق والے۔ En
کہ خندقوں (کے کھودنے) والے ہلاک کر دیئے گئے
En
﴿کہ﴾ خندقوں والے ہلاک کیے گئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4) ➊ {قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ: خَدَّ يَخُدُّ خَدًّا (ن) اَلْأَرْضَ وَ فِي الْأَرْضِ} زمین میں لمبا گڑھا کھودنا۔ { الْاُخْدُوْدِ } لمبا گڑھا۔ خندق، کھائی۔ اس کی جمع {أَخَادِيْدُ} ہے۔ یعنی عظیم الشان برجوں والا آسمان، قیامت کا دن، کسی بھی مقام پر حاضر ہونے والے لوگ اور کوئی بھی موقع جس میں لوگ حاضر ہوتے ہیں، یہ سب چیزیں اگر اپنا وجود رکھتی ہیں اور یقینا ان کے وجود میں کوئی شبہ نہیں تو یہ بات بھی یقینی سمجھو کہ جن لوگوں نے بڑی بڑی خندقیں کھدوا کر انھیں آگ سے بھرا، پھر جو اہلِ ایمان اپنے ایمان پر ڈٹے رہے اور مرتد نہ ہوئے انھیں اس آگ میں پھینک کر ان کے جلنے کا تماشا دیکھتے رہے، وہ مارے گئے، کیونکہ وہ زبردست ہستی جو ان برجوں والے آسمان کو تھامے ہوئے ہے، جس نے انصاف کے لیے قیامت کا دن مقرر کر رکھا ہے اور جس کی نگاہ سے نہ کسی جگہ کوئی حاضر ہونے والا غائب ہے اور نہ حاضری کا کوئی موقع، وہ ان سنگ دل ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا ضرور دے گا اور وہ نہ اس کی نگاہ سے غائب ہو سکیں گے اور نہ عذاب سے بچ سکیں گے۔
➋ دنیا میں ایسے کئی واقعات ہوئے جن میں اہلِ ایمان کو خندق کھود کر آگ میں جلا دیا گیا، سند کے لحاظ سے سب سے صحیح ایک کافر بادشاہ کا وہ طویل واقعہ ہے جو صحیح مسلم میں صہیب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ حدیث لمبی ہے، اس کے آخر میں ہے کہ اس کافر بادشاہ کی رعایا کے لوگ مسلمان ہوگئے تو اس نے گلیوں کے کناروں پر گڑھے کھدوا کر ان میں آگ بھڑکائی اور حکم دیا کہ جو شخص اسلام نہ چھوڑے اسے آگ میں پھینک دو، چنانچہ اہلِ ایمان کو ان گڑھوں میں پھینک دیا گیا۔ مفصل واقعہ کے لیے دیکھیے صحیح مسلم میں {بَابُ قِصَّةِ أَصْحَابِ الْأُخْدُوْدِ (۳۰۰۵)۔} تفسیر ابن کثیر میں مومنوں کو آگ میں جلائے جانے کے مزید واقعات بھی موجود ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 یعنی جن لوگوں نے خندقیں کھود کر اس میں رب کے ماننے والوں کو ہلاک کیا، ان کے لئے ہلاکت اور بربادی ہے قتل بمعنی لعن۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ کہ خندقوں والے [3] ہلاک ہو گئے
[3] ﴿اُخدود ﴿الخدّ ﴿والاخدود﴾ ﴿اخدود﴾ کا لفظ صاحب منجد کے نزدیک واحد ہے جبکہ بعض دوسرے اسے خدّ کی جمع بتاتے ہیں۔ بمعنی ایک لمبا اور گہرا گڑھا جو خود کھودا گیا ہو بمعنی خندق اور جمع کی صورت میں اس کا معنی خندقیں ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قُ٘تِلَ اَصْحٰؔبُ الْاُخْدُوْدِ ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الْاُخْدُوْدِ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔
یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا: ﴿قُ٘تِلَ اَصْحٰؔبُ الْاُخْدُوْدِ، پھر ﴿الْاُخْدُوْدِکی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِۙ۰۰ اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُ٘عُوْدٌۙ۰۰وَّهُمْ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُ٘هُوْدٌ وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔
﴿الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُ٘لِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قُتِلَ أصحابُ الأخدود}: وهذا دعاءٌ عليهم بالهلاك، والأخدودُ الحُفَرُ التي تُحْفَرُ في الأرض، وكان أصحابُ الأخدود هؤلاء قوماً كافرين، ولديهم قومٌ مؤمنون، فراودوهم على الدُّخول في دينهم، فامتنع المؤمنون من ذلك، فشقَّ الكافرون أخدوداً في الأرض، وقذفوا فيها النار، وقعدوا حولَها، وفتنوا المؤمنين، وعرضوهم عليها؛ فمن استجاب لهم أطلقوه، ومن استمرَّ على الإيمان قذفوه في النار، وهذا غايةُ المحاربة لله ولحزبه المؤمنين، ولهذا لعنهم الله وأهلكهم وتوعَّدهم، فقال: {قُتِلَ أصحابُ الأخدودِ}، ثم فسَّر الأخدود بقوله: {النارِ ذاتِ الوَقود. إذ هم عليها قعودٌ. وهم على ما يفعلون بالمؤمنين شهودٌ}: وهذا من أعظم ما يكون من التجبُّر وقساوة القلب؛ لأنَّهم جمعوا بين الكفر بآيات الله ومعاندتها ومحاربة أهلها وتعذيبهم بهذا العذاب الذي تَنْفَطِرُ منه القلوب وحضورهم إيَّاهم عند إلقائهم فيها. والحالُ أنَّهم ما نقموا من المؤمنين إلاَّ حالةً - يُمْدَحون عليها وبها سعادتُهم، وهي أنَّهم كانوا يؤمنون {بالله العزيز الحميد}؛ أي: الذي له العزَّة، التي قَهَرَ بها كلَّ شيء، وهو حميدٌ في أقواله وأفعاله وأوصافه. {الذي له مُلْكُ السموات والأرض}: خلقاً وعبيداً يتصرَّف فيهم بما يشاء. {والله على كلِّ شيءٍ شهيدٌ}: علماً وسمعاً وبصراً؛ أفلا خاف هؤلاء المتمرِّدون عليه أن يأخُذَهم العزيز المقتدر، أوَ ما علموا كلُّهم أنَّهم مماليك لله، ليس لأحدٍ على أحدٍ سلطةٌ من دون إذن المالك؟! أوَ خَفِيَ عليهم أنَّ الله محيطٌ بأعمالهم مجازيهم عليها ؟! كلاَّ إنَّ الكافر في غرورٍ، والجاهل في عمىً وضلالٍ عن سواء السبيل.