ترجمہ و تفسیر — سورۃ البروج (85) — آیت 3

وَ شَاہِدٍ وَّ مَشۡہُوۡدٍ ؕ﴿۳﴾
اور حاضر ہونے والے کی اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے! En
اور حاضر ہونے والے کی اور جو اس کے پاس حاضر کیا جائے اسکی
En
حاضر ہونے والے اور حاضر کئے گئے کی قسم! En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3) {وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍ: شَاهِدٍ } حاضر ہونے والا۔ { مَشْهُوْدٍ } جس کے پاس حاضر ہوا جائے۔ لفظوں کے لحاظ سے اس میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو کہیں حاضر ہو سکتے ہیں اور مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح وہ تمام چیزیں بھی شامل ہیں جن کا مشاہدہ ہو سکتا ہے یا جن کے پاس کوئی حاضر ہو سکتا ہے۔ اہلِ علم نے { شَاهِدٍ } اور { مَشْهُوْدٍ } کی تفسیر کرتے ہوئے جس چیز کو زیادہ اہم یا معروف یا مناسب سمجھا اس کے ساتھ تفسیر کردی۔ چنانچہ بہت سے صحابہ و تابعین نے { شَاهِدٍ } سے مراد یوم جمعہ اور { مَشْهُوْدٍ } سے مراد یوم عرفہ لیا ہے۔ الفاظ کے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ہر وہ فرد ہے جو کہیں حاضر ہوتاہے اور حاضری کا ہر وہ موقع ہے جس میں کوئی فرد حاضر ہوتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 شَاھْدٍ اور مَشْھُوْدِ کی تفسیر میں بہت اختلاف ہے، امام شوکانی نے احادیث و آثار کی بنیاد پر کہا ہے کہ شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے، اس دن جس نے جو بھی عمل کیا ہوگا یہ قیامت کے دن اس کی گواہی دے گا، اور مشہود سے عرفہ (9 ذوالحجہ) کا دن ہے جہاں لوگ حج کے لئے جمع اور حاضر ہوتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ اور دیکھنے والے کی اور دیکھی جانے والی چیز [2] کی
[2] آیت نمبر 2 میں ﴿اليوم الموعود﴾ سے مراد تو قیامت کا دن ہے مگر آیت نمبر 3 میں شاہد اور مشہود کی تعبیر میں بہت اختلاف واقع ہوا ہے۔ کسی نے کہا کہ شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے جو ہر قریہ اور ہر شہر میں ہر جگہ حاضر ہوتا ہے۔ اور مشہود سے مراد عرفہ کا دن ہے۔ جب کہ دنیا کے گوشے گوشے سے لوگ وہاں حاضر ہوتے ہیں کسی نے کہا شاہد سے مراد یوم النحر اور مشہود سے مراد یوم عرفہ ہے وغیرہ وغیرہ لیکن ربط مضمون کے لحاظ سے یہی تعبیر بہتر معلوم ہوتی ہے کہ مشہود سے مراد بھی قیامت کا دن ہو اور شاہد سے مراد قیامت کے دن اکٹھا کی جانے والی خلقت سے ہر فرد مراد ہو جو قیامت اور اس کی ہولناکیوں کو بچشم خود ملاحظہ کر رہا ہو۔ اور چوتھا مفہوم یہ ہے کہ شاہد سے مراد انبیاء اور صلحاء لیے جائیں اور مشہود سے مراد ان کی قومیں جن پر وہ گواہی دے کر ان پر حجت قائم کریں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔