(آیت 20،19) {بَلِالَّذِيْنَكَفَرُوْا …:} حق تو یہ تھا کہ پہلے سرکشوں کا انجام دیکھ کر یہ لوگ ایمان لے آتے، مگر یہ الٹا خواہ مخواہ جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں، حالانکہ انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انھیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے، وہ جب چاہے پکڑلے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
19۔ بلکہ کافر تو جھٹلانے میں لگے [13] ہوئے ہیں
[13] یعنی ان کفار مکہ کا شغل اور وطیرہ ہی یہ بن گیا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو آیات نازل ہوتی ہیں یہ انہیں جھٹلانے پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔ فرعون اور ثمود کے لشکر بھی یہی کچھ کیا کرتے تھے اور یہ قریش مکہ تو قوت اور جمعیت کے لحاظ سے ان کا دسواں حصہ بھی نہیں۔ پھر یہ بیچارے آخر کس کھیت کی مولی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر طرف سے اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے اور کسی وقت بھی انہیں برے انجام سے دوچار کر سکتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔