(آیت 18،17){ هَلْاَتٰىكَحَدِيْثُالْجُنُوْدِ …:} یہ جو فرمایا تھا کہ اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے، اسے دلوں میں جما دینے کے لیے ثمود و فرعون کے دو قصے جو عرب میں زیادہ مشہور تھے، وہ اہلِ مکہ کو یاد دلائے، تاکہ وہ ان قصوں سے عبرت پکڑیں۔ (احسن التفاسیر) اس کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو تسلی دلانا بھی مقصود ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
17۔ 1 یعنی ان پر میرا عذاب آیا اور میں نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا، جسے کوئی ٹال نہیں سکا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
17۔ کیا آپ کے پاس لشکروں کی خبر بھی پہنچی؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔