ترجمہ و تفسیر — سورۃ البروج (85) — آیت 17

ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ الۡجُنُوۡدِ ﴿ۙ۱۷﴾
کیا تیرے پاس ان لشکروں کی خبر پہنچی ہے؟ En
بھلا تم کو لشکروں کا حال معلوم ہوا ہے
En
تجھے لشکروں کی خبر بھی ملی ہے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 18،17){ هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُنُوْدِ …:} یہ جو فرمایا تھا کہ اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے، اسے دلوں میں جما دینے کے لیے ثمود و فرعون کے دو قصے جو عرب میں زیادہ مشہور تھے، وہ اہلِ مکہ کو یاد دلائے، تاکہ وہ ان قصوں سے عبرت پکڑیں۔ (احسن التفاسیر) اس کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو تسلی دلانا بھی مقصود ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

17۔ 1 یعنی ان پر میرا عذاب آیا اور میں نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا، جسے کوئی ٹال نہیں سکا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ کیا آپ کے پاس لشکروں کی خبر بھی پہنچی؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔