(آیت 16،15) {ذُوالْعَرْشِالْمَجِيْدُ …:} وہ تمھاری طرح معمولی اور عارضی اقتدار والا نہیں، بلکہ اس عرش عظیم کا مالک ہے جو زمین و آسمان اور ان کے مابین سے بھی بڑا ہے، نہ وہ تمھاری طرح کم ظرف ہے کہ معمولی سی قدرت ملے تو ظلم پہ اتر آئے، بلکہ وہ بڑی شان والا ہے اور نہ وہ تمھاری طرح بے بس ہے کہ مجبور ہو کر اسے اپنے ارادے ترک کرنا پڑیں، بلکہ وہ جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔ ایسے زبردست قوت والے پروردگار سے تمھیں ہر وقت ڈرتے رہنا چاہیے اور اس کی رحمت کا طلب گار رہنا چاہیے۔ یاد رہے کہ یہاں {”ذُوالْعَرْشِ“ } کے بعد{”الْمَجِيْدُ“} بھی اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، اس لیے اس پر رفع ہے، یہ {”الْعَرْشِ“} کی صفت نہیں، ورنہ یہ مجرور ہوتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15۔ 1 یعنی تمام مخلوقات سے معظم اور بلند ہے اور عرش، جو سب سے اوپر ہے وہ اس کا مستقر ہے جیسا کہ صحابہ وتابعین اور محدثین کا عقیدہ ہے۔ المجید صاحب فضل و کرم۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ عرش کا مالک [10] ہے بڑی شان والا ہے
[10] عرش کا مالک ہونے سے مراد پوری کائنات کا مالک ہونا ہے اس لیے کہ اس کا عرش پوری کائنات کو محیط ہے اور مجید بمعنی شان و شوکت میں بڑا کہہ کر انسان کو اس بات پر متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسی ہستی کے مقابلہ میں گستاخانہ رویہ چھوڑ دے ورنہ اسے اس کا بہت برا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔