(آیت 4) {وَاَلْقَتْمَافِيْهَاوَتَخَلَّتْ:} یعنی تمام فوت شدہ لوگوں کو حشر کے لیے باہر پھینک دے گی اور وہ خزانے اور بنی آدم کے اعمال کی شہادتیں جو اس کے بطن میں ہیں سب نکال باہر پھینکے گی۔ {”تَخَلَّتْ“”خَلَايَخْلُوْ“} (ن) (خالی ہونا) سے باب تفعّل ہے جس میں مبالغہ ہوتا ہے، یعنی بالکل خالی ہو جائے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4۔ 1 یعنی اس میں جو مردے دفن ہیں، سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے جو خزانے اس کے بطن میں موجود ہیں وہ انہیں ظاہر کر دے گی، اور خود بالکل خالی ہوجائے گی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ اور جو کچھ اس میں [3] ہے باہر پھینک دے گی اور خالی ہو جائے گی
[3] جتنے مردے اس میں مدفون ہیں یا مردوں کے ذرات اس میں مل جل گئے ہیں وہ سب نکال کر باہر کر دے گی اور سطح زمین پر لے آئے گی۔ اسی طرح اس میں جو معدنیات، تیل کے چشمے اور جلنے والی گیسوں کے خزانے موجود ہیں سب باہر اگل دے گی۔ اسی طرح لوگوں کے اعمال کی جو شہادتیں اس کے اندر موجود ہوں گی جنہیں موقعہ کی شہادت یا قرائن شہادت کہتے ہیں۔ وہ سب بھی پوری کی پوری باہر آجائیں گی اور کوئی چیز اس میں چھپی ہوئی اور دبی ہوئی نہ رہ جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔