(آیت 3){ وَاِذَاالْاَرْضُمُدَّتْ: ”مُدَّتْ“”مَدَّيَمُدُّ“} (ن) کھینچنا، پھیلانا، یعنی جس طرح چمڑے کو کھینچا جائے تو اس کی اونچ نیچ اور تمام شکنیں ختم ہو جاتی ہیں اور وہ طول و عرض میں پھیل جاتا ہے، اسی طرح زمین سے پہاڑ، سمندر اور ہر قسم کی بلندی و پستی ختم ہو جائے گی، جس سے وہ ہموار ہو کر پھیل جائے گی اور اس میں آدمیوں کے کھڑے ہونے کی گنجائش بہت زیادہ ہو جائے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 یعنی اس کے طول و عرض میں مزید وسعت کردی جائے گی۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس پر جو پہاڑ وغیرہ ہیں، سب کو ریزہ ریزہ کر کے زمین کو ہموار کر کے بچھایا جائے گا۔ اس میں میں کوئی اونچ نیچ نہیں رہے گی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ اور جب زمین پھیلا دی [2] جائے گی
[2] زمین کو کھینچ کر لمبا کرنے کا مفہوم :۔
﴿مُدَّتْ﴾﴿مَدَّ﴾ بمعنی کسی چیز کو لمبائی میں کھینچ کر پھیلانا اور اسے لمبا کر دینا۔ جیسے اللہ تعالیٰ سایوں کو یا بادلوں کو لمبا کرتا اور پھیلا دیتا ہے واضح رہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ زمین کو کھینچ کر چپٹی بنا دے گا۔ زمین کو اللہ نے پہلے ہی پھیلا دیا اور لمبا کر دیا ہے۔ اس دن صرف یہ ہو گا کہ سارے سمندر خشک کر کے زمین میں شامل کر دیے جائیں گے جس سے زمین کا رقبہ چار گنا ہو جائے گا پھر پہاڑوں کو زمین بوس کر دیا جائے گا اس کی اونچی اور نیچی سب جگہیں برابر کر دی جائیں گی۔ اس طرح اسی زمین کا رقبہ اتنا زیادہ ہو جائے گا کہ اسی زمین پر سیدنا آدمؑ سے لے کے قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں اور قیامت تک جنوں کی تمام نسل کو یکجا اکٹھا کر دیا جائے گا۔ یہی زمین میدان محشر بن جائے گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ میدان محشر کے لیے اللہ اس زمین کے علاوہ کوئی دوسری زمین پیدا کر دے۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت: ﴿يَوْمَتُبدلالْاَرْضُغَيْرَالْاَرْضِ﴾ سے معلوم ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاِذَاالْاَرْضُمُدَّتْ﴾”اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔“ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلْقَتْمَافِیْهَا﴾”اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔“ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتْ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتْلِرَبِّهَاوَحُقَّتْؕ۰۰﴾”اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإذا الأرض مُدَّتْ}؛ أي: رجفت وارتجَّت ونُسِفَتْ عليها جبالُها ودُكَّ ما عليها من بناء ومعلم فسويت، ومدَّها الله مدَّ الأديم، حتى صارت واسعةً جدًّا، تسع أهل الموقف على كثرتهم، فتصير قاعاً صفصفاً، لا ترى فيها عوجاً ولا أمتاً، {وألقتْ ما فيها}: من الأموات والكنوز، {وتخلَّتْ}: منهم؛ فإنَّه ينفخ في الصور، فتخرج الأموات من الأجداث إلى وجه الأرض، وتخرج الأرض كنوزها، حتى تكون كالإسطوان العظيم، يشاهده الخلق ويتحسَّرون على ما هم فيه يتنافسون، {وأذِنَتْ لربِّها وحُقَّتْ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔