(آیت 25){ اِلَّاالَّذِيْنَاٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ …: ”غَيْرُمَمْنُوْنٍ“”مَنَّيَمُنُّ“} (ن) (قطع کرنا) سے اسم مفعول ہے، کہا جاتا ہے: {”مَنَنْتُالْحَبْلَ“} ”میں نے رسی کاٹ دی۔“ یعنی ایسا اجر جو کبھی قطع نہیں کیا جائے گا۔ مراد جنت ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، جس کی کوئی نعمت نہ کم ہوگی اور نہ ختم ہو گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
25۔ البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے اجر ہے جو کبھی منقطع [19] نہ ہو گا۔
[19] ﴿مَنَّ﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿مَمْنُوْن﴾﴿منّ﴾ کا لفظ تین معنوں میں آتا ہے: (1) احسان کرنا (2) احسان جتلانا (3) کاٹنا اور کٹنا۔ یعنی قطع و انقطاع۔ یہاں یہ لفظ تیسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اور اس معنی میں لازم و متعدی دونوں طرح آتا ہے۔ ﴿من﴾ میں انقطاع یک دم نہیں ہوتا بلکہ کسی چیز کے آہستہ آہستہ کم ہو کر ختم ہو جانے اور اس طرح سلسلہ منقطع ہو جانے کے معنوں میں آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل جنت کو جو اجر ملے گا اس میں نہ کبھی کمی واقع ہو گی اور نہ ہی اس میں انقطاع واقع ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔